فی الحال تو ایسا ہی ہے، جب تک کے علامہ نیا کلام نہیں چھپوا لیتے۔
ویسے اقبال کا متروکہ کلام بھی موجود ہے، مگر وہ بھی کم از کم بے وزن نہیں ہو سکتا۔ اور نہ ہی علامہ کے مزاج کے مطابق ہے۔
جی۔ شاید کم سے کم۔ اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اصل چیز دعا اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے۔ جیسے عمرہ کروایا، ویسے ہی ان شاء اللہ حج بھی کروائے گا۔ :)
رک رک کر کرنے کے لیے دن بہت درکار ہوں گے۔ وقت بھی ایک دیوار ہے۔ :)
درست کہا۔ :)
ان کی جانب سے تو مسلسل دعاؤں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ :)
اب ان سے کہہ بیٹھے ہیں، تو یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ ان کے مضمون کے بغیر ہی ای بک بنا دی جائے۔ ورنہ ای بک تو کب کی تیار مضمون کی راہ دیکھ رہی ہے۔
نعتیہ کلام 2005 میں چھپوایا تھا۔ اس کی ای بک بھی بنائی ہوئی ہے۔
البتہ غزلیات اور نظمیں میں نے خود ہی ٹائپ کی ہیں۔ اور ای بک تقریباً تیار ہے۔
کافی عرصہ سے ایک بزرگوار کو تبصرہ کے لیے کہا ہوا ہے، اور ان سے پوچھتے ہوئے بھی برا لگتا ہے۔ اس لیے کام رکا ہوا ہے۔ :)
رنگِ چمن میں اب بھی ہے حسنِ دلبرانہ
دل کی روش ہے لیکن گلشن سے وحشیانہ
باران و بادِ صر صر، برقِ تپاں شبانہ
سو طرح کے مصائب، اک شاخِ آشیانہ
دورِ وصالِ جاناں، دورِ فراقِ جاناں
وہ زندگی حقیقت، یہ زندگی فسانہ
کیفِ وصال تیرا، دردِ فراق تیرا
پیغامِ زندگی وہ، یہ موت کا بہانہ
محوِ خرامِ گلشن تجھ...
قربتِ یزداں کس کو ملی ہے اے شہِ شاہاں تم سے زیادہ
کون ہوا ہے بزمِ جہاں میں بندۂ ذیشاں تم سے زیادہ
امن و اماں کے ہم ہیں پیامی، صلح میں کوشاں تم سے زیادہ
جب ہوں مگر باطل کے مقابل، حشر بداماں تم سے زیادہ
اپنے صنم کے قرب و رضا کا رہتا ہے خواہاں تم سے زیادہ
شیخِ مکرم! ہے یہ برہمن صاحبِ ایماں تم...