غموں کے اندھیروں کو ٹالا ہے میں نے
کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے
.. کچھ ربط مضبوط نہیں بن رہا
نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر
زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے
... پہلا مصرع بحر سے خارج
مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی
کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے
... یہ بھی دو لخت!
مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ...