بہت شکریہ عباد اللہ بھائی۔ آپ درست کہہ رہے ہیں۔ دراصل میں شاعری کے رموز اوقاف سے بالکل ہی نابلد ہوں۔ تو جو وارد ہو لکھ ضرور لیتا ہوں۔ اس نظم کو میں ایک لے میں پڑھتا ہوں تو مجھے تو ٹھیک لگی اسی لیے پیش کر دی۔ باقی آپ احباب کی رہنمائی ہوگی تو ضرور اس کی کوئی نا کوئی شکل بن جائے گی۔
صبح کے ساڑھے پانچ بجے تھے جب ٹرین وزیرآباد پہنچی- سفر میں یہ پہلا پڑاؤ تھا۔ یہاں سے ٹرین بدل کر ہم نے منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔ رات بھر کے سفر اور تھکان کے باعث سوچا کہ چہرے کو پانی کی زیارت کرا دی جائے ورنہ اپنا آپ پہچاننے سے بھی جائیں گے۔ بڑے بھیا دوسری ٹرین میں اپنی نشت محفوظ کرنے گئے...
تحریر بہر طور یہی ثابت کرتی رہی کہ عید بچوں کی ہی ہوتی ہے، کیونکہ بڑوں سے منسوب جتنی کاوشیں مذکور ہیں سب بچوں کی عید کے لیے ہی ہیں۔ پھر عید تو بچوں کی ہوئی نا۔۔۔۔ بہرحال خوب صورت تحریر۔ ہمارے لیے ہمارے بڑوں کی کاوشیں یاد کرانے کا شکریہ۔۔۔۔