دل ہمارا آج کیوں مغموم ہے
زیست کے ہر رنگ سے محروم ہے
... درست تو ہےلیکن بہتر ہو سکتا ہے
شومئی قسمت بیاں ہم کیا کریں
حالت ناگفت تو معلوم ہے
... کس کی حالت اور کسے معلوم؟ شومی قسمت کی حالت؟ شعر واضح نہیں ہوا
ہیں رُتیں مختص رقیبوں کے لئے
اور خزاں کی رُت ہمیں ملزوم ہے
.. ساری رتیں جنہیں رقیبوں سے...