نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل

    یقیناً بہتر ہے، مکمل درست
  2. الف عین

    برائے اصلاح: اس کو مَے خانے میں پا یا تو کئی بار گرے

    شعر نکال ہی دو یہ بھی اچھا نہیں لگ رہا درست پہلے والا ہی بہتر ہے یہ بھی پہلے والا ہی بہتر ہے کچھ اقتباس میں ہی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے
  3. الف عین

    غزل برائے اصلاح : ان کے لبوں پہ صرف ستانے کی بات ہے

    ان کے لبوں پہ صرف ستانے کی بات ہے یعنی ہمارے دل کو جلانے کی بات ہے .. درست در پردہ ہے خلش تجھے کس گل سے باغباں ! ظاہر ہے سب پہ ، کوئی بتانے کی بات ہے ؟ ... درست مارے خوشی کے چہرے کی رونق ہی بڑھ گئی جب سے سنا ہے ، آپ کے آنے کی بات ہے .. درست میرے دیار ، آپ کی تشریف آوری ! گویا کہ چار چاند...
  4. الف عین

    چار دن کا ہے یہ جینا زندگی ہے مختصر غزل نمبر 114 شاعر امین شارؔق

    بڑی مختصر غزل ہے! فکرِ عُقبیٰ کر کہ یہ دنیا تری ہے مختصر .. درست کیوں نہ ہم جگنو کی صُورت راستے روشن کریں چار سُو پھیلی ہے ظُلمت روشنی ہے مختصر .. روشنی کا مختصر ہونا سمجھ میں نہیں آیا یہ اُجالے ہیں غنیمت پالو اپنی منزلیں پھر اندھیری رات ہوگی چاندنی ہے مختصر .. درست کہہ رہا تھا ایک بُلبل...
  5. الف عین

    غزل

    دلِ کم بخت کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے خواب جیسے صحرا میں دکھا کرتے ہیں پیاسے کو سراب ... درست بے ثباتی، بے یقینی، بے وفائی، دھوکا انہیں ابواب کے مابین ہے دنیا کا نصاب ... بے یقینی اور بے وفائی کی بے کی ے کو گرایا نہیں جا سکتا نیند تو دے نہ سکی خیر کتابوں نے مگر دے دیا ہے شبِ تنہائی مجھے تیرا...
  6. الف عین

    آزاد نظم ( چلے آؤ)

    پلکیں تو مؤنث ہیں، بچھائی ہیں ہونا چاہیے ہمارے پیار کی تم کو قسم ہے، اے ستمگر اور سراپاسنگ! قسم اگرپیار کی ہی ہے تو قسم ہے کاٹکڑا پچھلے مصرع میں لے جاؤ سراپا سنگ... فٹ نہیں ہو رہا ہے کچھ اور کہو باقی تو نظم درست ہی ہے
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    یہ بات تو ہمارے مودی جی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ دنیا کو صفر ہم نے دیا ہے!
  8. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    یہ دالوں کا کیا ذکر ہے؟ مرغی وغیرہ کی بات کرو!
  9. الف عین

    سینہِ افلاک کے جُھومر نجوم غزل نمبر 113 شاعر امین شارؔق

    سینہِ افلاک کے جُھومر نجوم کہکشاں بنتے ہیں سب مل کر نجوم ... مطلع محمد عبدالرؤوف نے درست کر دیا ہیں ہزاروں سال کے یہ فاصلے ہیں ہماری سوچ سے اوپر نجوم .. درست ہم احاطہ کر نہیں سکتے کبھی سوچِ انسانی سے ہیں باہر نجوم ... سوچِ یعنی اضافت غلط ہے سوچ ہندی لفظ کے ساتھ۔ یہاں فکرِ انسانی لا سکتے ہو...
  10. الف عین

    برائے اصلاح: اس کو مَے خانے میں پا یا تو کئی بار گرے

    اس کو مَے خانے میں پا یا تو کئی بار گرے ابھی کھنکے بھی نہ تھے جام کہ مَے خوار گرے ( اس مصرعہ میں پہلے فاعلاتن کی بجائے فعلاتن کا استعمال اچازت کے مطابق ہے) .. واضح نہیں ہو رہا، پہلے مصرع میں گرے کا فاعل مے خوار صرف گیس کیا جا سکتا ہے مجھ کو دریا میں اترنا ہے ، گھڑا جیسا بھی ہو یہ نہیں چاہتا...
  11. الف عین

    برائے اصلاح: اس کو مَے خانے میں پا یا تو کئی بار گرے

    شکیب جلالی کی زمین لی ہے! بعد میں اسے دیکھتا ہوں۔
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح : شاید تمہیں لگے ، یہ فسانے کی بات ہے

    رشتہ والا شعر بھی نکال ہی دو متبادلات میں: پہلے شعر کا دوسرا اور دوسرے شعر کا پہلا متبادل بہتر ہے
  13. الف عین

    غزل (سادہ بھی جو تھا خُوبرو وہ بن سنور کے تو)

    بن گیا ردیف کے ساتھ کوئی بیانیہ جب حال کا لےکر آئیں گے تو 'ہے بن گیا' کی مجہول صورت ہو گی۔ اس وجہ سے روانی باقی نہیں رہتی۔ نثر سے جتنا قریب شعر ہو گا، روانی اتنی ہی بہتر ہوگی جنگل نہیں ہوا، کسی مال میں بیٹھےتھےجہاں اچانک دوسروں نے شراب پیش کر دی! اس شعر کو نکال ہی دو مطلع کے الفاظ سے تو ظاہر...
  14. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    فیصلہ ہو گیا؟ کب پہنچ رہے ہیں کیرالہ؟
  15. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    زار زار روناآتا ہے ان مولویوں( اور مفتیوں) پر جو گوشت کے بغیر نوالہ نہیں توڑ سکتے!
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح : شاید تمہیں لگے ، یہ فسانے کی بات ہے

    کیوں خوار ہو رہے ہیں زمانے میں آج ہم ؟ یہ غور و فکر کرنے کرانے کی بات ہے غور و فکر کرانےکا ذکر پسند نہیں آیا، اس شعر کو نکال ہی دو "ہوتا ہےاہم" اور روفی کا متبادل "ہے بہت اہم"، دونوں مجھے رواں نہیں لگ رہے۔ کچھ اور شکل دیکھو، ورنہ 'ہوتا ہے' ہی چلنے دو باقی اشعار درست ہیں
  17. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    جی بھر کے پی لی ساقی شراب_کہن تری لیکن نشہ کہاں جو مجھے چشم یار دے .. شراب کہن کی تخصیص کی توجیہہ نہیں ہے اور ساقی کی ی کا اسقاط بھی اچھا نہیں فوری جو متبادل ذہن میں آیا، وہ ہے جی بھرکے میں نے پی تو لی ساقی تری شراب باقی اشعار درست ہو گئے ہیں
  18. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    قدرت کے کھیل ہیں سب، کہیں مرغن کھانے کھائے جارہےہیں، اور یہاں ہم نے تو سلاد سے کام چلانا پڑا! ویسے مجبوری میں نہیں، اپنی مرضی سے
  19. الف عین

    غزل (سادہ بھی جو تھا خُوبرو وہ بن سنور کے تو)

    یہ پرانے ٹیگ مجھے نہیں ملے گر مطلق العنان ہے انسان بن گیا بندہ نہیں رہا ہے وہ حیوان بن گیا ... واضح نہیں معتوب عمر بھر رہی جس کی سخن وری اس کا بھی مقبرہ ہے عالی شان بن گیا ... ثانی مصرع بحر سے خارج، عالی شان قافیہ ہی بحر میں نہیں آتا آیا جو لب پہ جام شبِ ہجر دشت میں جنگل کی تیرگی میں شبستان...
  20. الف عین

    حُسن جب شد ومد سے اُٹھتا ہے غزل نمبر 112 شاعر امین شارؔق

    مشکل یہ ہے کہ کئی مصرعے فاعلاتن فعلاتن فعلن ہو گئے ہیں، باقی فاعلاتن مفاعلن فعلن میں ہیں۔ ذرا غور سے دیکھ کر پھر پیش کرو
Top