دلِ کم بخت کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے خواب
جیسے صحرا میں دکھا کرتے ہیں پیاسے کو سراب
... درست
بے ثباتی، بے یقینی، بے وفائی، دھوکا
انہیں ابواب کے مابین ہے دنیا کا نصاب
... بے یقینی اور بے وفائی کی بے کی ے کو گرایا نہیں جا سکتا
نیند تو دے نہ سکی خیر کتابوں نے مگر
دے دیا ہے شبِ تنہائی مجھے تیرا...