بہت خوب احمد بھائی۔ اچھا افسانہ ہے۔
بجا فرمایا۔۔۔ کئی مرتبہ تو کسی سے پوچھتے ہوئے کہ "فلاں کی قبر کہاں ہے" شدید شرمندگی ہوتی ہے۔ 😢
اور وہ "فلاں" بھی ایسا قریبی ہوتا ہے جس کے بغیر کبھی ہم جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہوتے۔۔۔
طالب علمانہ سا ایک تجزیہ ہے کہ تبلیغ انتہائی مشکل ترین کام ہے۔ ایک مبلغ کو نہایت شفیق ہونا چاہیے۔ اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے بجائے ایک درد دل رکھنے والا دوست بن جانا چاہیے۔ جو کہ بدقسمتی سے بہت شاذ دکھائی دیتی ہے۔
بہت خوب۔
بالکل درست فرمایا آپ نے۔ تعمیری سوچ بنیادی ضروریات کی نذر ہو گئیں جب تک ذہن ایسی سطحی سوچوں سے غنی نہیں ہو جاتا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ مسبب الاسباب سے دعا ہے کہ ہمیں مخلص اور قابل قیادت اور دیانت دار معاشرے میں بدل دے۔ آمین