نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ساقیا خالی نہ جائے ابر یہ آیا ہُوا - حیدر طباطبائی نظم

    غزل (نواب حیدر یار جنگ بہادر علامہ علی حیدر طباطبائی نظم) ساقیا خالی نہ جائے ابر یہ آیا ہُوا ہورہے ہیں سرخ شیشے، دل ہے للچایا ہُوا داغ دل چمکا جو اس کے طالب دیدار کا جھلملاتا ہے چراغِ طور شرمایا ہُوا عاشقوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہو کیا محشر میں بھی دھوپ میں پھرنے سے ہے کچھ رنگ سونلایا ہُوا دل بھی...
  2. کاشفی

    بہزاد لکھنوی مرے جہانِ محبت پہ چھائے جاتے ہیں - بہزاد لکھنوی

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ طارق شاہ صاحب! خوش و خرم رہیئے۔۔
  3. کاشفی

    بہزاد لکھنوی اک حُسن کی خِلقت سے ہر دل ہوا دیوانہ - بہزاد لکھنوی

    بہت شکریہ عمر سیف صاحب! خوش رہیئے۔۔
  4. کاشفی

    بہزاد لکھنوی اک حُسن کی خِلقت سے ہر دل ہوا دیوانہ - بہزاد لکھنوی

    پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ جناب طارق شاہ صاحب! خوش و خرم رہیئے۔۔
  5. کاشفی

    بہزاد لکھنوی تھی پرسکون دُنیا، خاموش تھیں فضائیں - بہزاد لکھنوی

    غزل (بہزاد لکھنوی) تھی پرسکون دُنیا، خاموش تھیں فضائیں میں نے بھریں جو آہیں، چلنے لگیں ہوائیں اُلفت کا جب مزا ہے، ملنے کی ہوں دعائیں تم ہم کو یاد آؤ، ہم تم کو یاد آئیں تم خوش ہو گر اسی میں ہم پر رہیں بلائیں ہم بھی ہیں خوش اسی میں ہاں ہاں کرو جفائیں جاؤ خدا نگہباں الٹی چلیں ہوائیں تم ہم کو...
  6. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  7. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  8. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  9. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  10. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  11. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  12. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  13. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  14. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  15. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  16. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  17. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  18. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

  19. کاشفی

    سیاسی کارٹونز

    بالکل درست کسی بھی جماعت کا نام لینا درست نہیں۔۔کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے بدلے کے طور پر چونکہ اوپر نام ہٹایا نہیں گیا کہ جماعت اسلامی جو کہ ایک غیراسلامی جماعت ہے اس کے دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز پیچھے بیٹھ کر دہشت گردی کرتے ہیں۔۔اور اسلام کا لبادہ اُڑھ کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہے۔۔ انتظامیہ سے...
  20. کاشفی

    ہے عکس آئینہ میں، رُخِ لاجواب کا - جدید لکھنوی

    غزل (سید مہدی میرزا صاحب جدید لکھنوی ) ہے عکس آئینہ میں، رُخِ لاجواب کا پانی میں پھول تیر رہا ہے گلاب کا بگڑے ہوئے ہیں عاشقِ رخسار باغ میں گلچیں نے پھول توڑ لیا ہے گلاب کا اک بار آج صبح ہوئی، شام ہوگئی کیا تم نے بند کھول کے باندھا نقاب کا جاتے ہیں اس خیال سے خود لے کے اپنا خط ہم انتظار کر نہ...
Top