وہ یونیورسٹی کے لونڈے لپاڑے ہیں اور ہم مزدور لوگ جنہیں غمِ روزگار کھائے جا رہا ہے۔
ویسے کیا انہیں واقعی پتہ نہیں چلا کہ مذوکورہ موصوفائیں سیلفیاں لینے کے بجائے جناب کی کیفیات ِ متغیرہ کو حیطہ تصاویر متحرک میں قید کرنے میں مصروف تھیں۔ :)
آج لگتا یوں ہے کہ معین الدین صاحب چارپائی پر بیٹھے ہیں اور چارپائی کے دوسرے سرے پر نصرت فتح علی صاحب کی 'کیسٹوں' والا تھیلا رکھا ہے اور ساتھ ہی ٹیپ ریکارڈر کچھ گنگنا رہا ہے۔ :)