غزل
(بہزاد لکھنوی)
خود سے خیال میں جو وہ جانِ خیال آگیا
قلب کو وجد آگیا، روح کو حال آگیا
کچھ ملے یا نہ کچھ ملے، یہ تو نصیب کی ہے بات
دستِ گدا نواز تک دستِ سوال آگیا
ہائے نہ مٹ سکیں کبھی قلب کی بیقراریاں
جب بھی کوئی نظر پڑا تیرا خیال آگیا
تیرے کرم کی خیر ہو، تیری عطا کی خیر ہو
تجھ سے سوال جب...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
آنکھوں میں اشکِ غم جو مرے پا رہے ہو تم
اللہ جانتا ہے کہ یاد آرہے ہو تم
کہنے بھی دو سکوں سے مجھے داستانِ غم
یہ کیا کہ بات بات پہ شرما رہے ہو تم
ہاں ہاں وفا کرو گے یہ مجھ کو یقین ہے
بےکار میرے سر کی قسم کھا رہے ہو تم
یا خود ہی بڑھ گئی ہے یہ تابانیء جہاں
یا گوشہء نقاب کو سرکا...