واہہہہہہہہہہہہہ
ریشم کے شاعر کا ملائم سا لہجہ کسی پل سفاک نشتر اور کسی پل خوشبو کی طرح روح تک میں اتر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
دِل ڈُھونڈتا ہے پِھر وہی فُرصت کے رات دن
جاڑوں کی نرم دُھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کِھینچ کر تیرے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
یا گرمیوں کی...