ہماری صلاح
@منزر رضا بھائی آپ اس غزل کو بآسانی مندرجہ ذیل بحر میں ڈھال سکتے ہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مثلاً
ہستی کے غم سے مجھ کو میسر یہ ڈھال ہے
یا
ہوتی ہے یوں ہمیشہ تری یاد میرے ساتھ
مجھ پر تو ایک ہی ترا ہجر و وصال ہے
آداب استادِ محترم! آپ کا پہلا جملہ تو ایک خوب صورت انعام ہے ہمارے لیے۔ سدا خوش رہیے۔
شکریہ قبول فرمائیے کہ آپ نے آٹو کریکٹ کو ہمارے اس خوب صورت انعام کا تیاپانچہ کرنے سے بروقت روک دیا۔
نیز کیا اچھا مصرع عنایت فرمایا ہے، اجازت دیجیے کہ اس سے اپنی نظم کو سجالیں۔ جزاک اللہ الخیر۔
باب ھفدھم: ویرانے کے ساتھی
وہاں سے بھاگ کر وہ ایک ویرانے میں آپہنچا
عجب وحشت سی طاری تھی عجب ویران منظر تھا
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر کو سستا لیا اس نے
بہت ہی تھک چکا تھا وہ، ٹھکانا پالیا اُس نے
اسی ویران جنگل میں، یہیں کچھ گِدھ بھی رہتے تھے
یہ مسکن تھا چڑیلوں کا جسے اپنا یہ کہتے تھے
یہ جنگل...
احمد محمد بھائی گزارش ہے کہ یہ زمرہ پسندیدہ کلام کا زمرہ ہے یہاں تشریح مناسب نہیں۔
تشریح کرنی مقصود ہو تو نیا مراسلہ بنا لیجیے جسے مناسب زمرے میں منتقل کردیا جائے گا۔