ہماری صلاح
خفا ہونے کی عادت ہے
کچھ اس پر بھی ندامت ہے
ترے بِن جی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت ہے
تری یہ بے رُخی کیوں ہے؟
کچھ اس کی وجہ غربت ہے
جب اس نے حال پوچھا ہے
عجب کچھ دل کی حالت ہے
کہا سب کچھ ہے بے معنی!
محبت سے بھی فرصت ہے
وعلیکم السلام۔
اسد منصور بھائی فروری 2015 سے محفل سے غائب ہیں اور ان کا دیا ہوا لنک کام نہیں کررہا ہے۔خوش قسمتی سے ہم نے اس فائنل کو اپنے پاس محفوظ کرلیا تھا۔
ادھر پرسوں سے گھر کا نیٹ کام نہیں کررہا ہے۔ ایک آدھ دن میں اس کی مرمت کا کام مکمل ہوجائے تو اپنی گوگل ڈرائیو سے شریک کریں گے۔ ان شاءاللہ۔
جزاک اللہ محمداحمد بھائی۔ ابھی دو یا تین باب رہ گئے ہیں۔
اب تک کی نظم تسلسل کے ساتھ پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
نیز آپ کی پابندِ بحور شاعری میں بھی اصلاح شدہ نظم پیش کررہے ہیں۔
جنگل بُک
افتخار عارف نے اپنی اس غزل میں جو قوافی استعمال کیے ہیں ان میں حیات، کائینات، ذات، صفات وغیرہ کے علاؤہ چار اشعار میں لفظ "ساتھ" استعمال کیا ہے۔ کیا فرماتے ہیں فقہائے شاعری اس باب میں کہ کیا یہ استعمال درست ہے؟