اسے ظرافت کہتے ہیں ...مزاحیہ لوگ لطیفہ سمجھ کے پڑھتے ہیں ظریف ظرافت دیکھتے ہیں ..کبھی ادبی ظرافت پڑھیں کچھ لوگ لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں ...کچھ سر کھجاتے ہیں . :)
جیسا دیس ویسا بھیس اچھی بات ہے مگر بندا گالی اور گنتی اپنی ہی زبان میں کرتا ہے ...آپ نے بھیس کے ساتھ ساتھ سوچ بھی اسی دیس کی کرلی ہے .... یہ صرف اختلاف برائے اختلاف ہے . .
گلاب کو آپ گوبھی کہہ دیں وہ گلاب ہی رہے گا ...تعلیمات اسلامی .... ہر تعلیم سے بہتر ہیں ...بظاہر جو ناگوار لگتا ہے اس میں یقیقن کوئی بہتری ہوتی ہے ...اس پر یقین ہی عین اسلام ہے ..