یہ معمہ ابھی بھی حل طلب ہے کہ اگر تحریک انصاف کو ایوان میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تو اسی جماعت کی ایک خاتون امیدوار ۱۷۴ خفیہ ووٹ لینے میں کیسے کامیاب ہو گئی؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب حفیظ شیخ پارٹی میں مقبول شخصیت نہیں تھے تو ان کو پنجاب یا کے پی کے سے بلا مقابلہ جتوا کر سینیٹ میں لایا...
۲۰۱۲ میں جس شخص کو نااہل کروانے کیلئے کالا کوٹ پہن کر عدالت گئے تھے آج اسی کو ووٹ دے کر سینیٹر بنوایا اور مبارک باد بھی دے دی۔ لیکن پھر بھی ملک میں جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے۔ :)
دو تین دن میں عمران خان اسمبلی میں موجود اپنی جماعت اور اتحادیوں سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ اس دن جو اعتماد کا ووٹ نہیں دے گا وہی بکنے والوں کی فہرست میں شامل ہوگا
گڑ بڑ یوسف رضا گیلانی کی سیٹ پر ہوئی ہے۔ کیونکہ اسی اسمبلی سے پی ٹی آئی کی فوزیہ ارشد کیلئے حکومتی اتحاد کے نمبر پورے تھے۔ اب یہ ضمیر کی آواز تھی، ووٹوں کی خریداری یا محض اتفاق، اس پر دماغ کھپاتے رہیں :)
جبکہ خاتون کی سیٹ پر پی ٹی آئی کی فوزیہ ارشد ۱۷۴ ووٹ لے کر اسی اسمبلی سے کامیاب۔ پی ڈی ایم کی امید وار نے ۱۶۰ ووٹ حاصل کئے۔ کل ۵ ووٹ مسترد ہوئے۔
یوں لگتا ہے پوری اسمبلی نے حفیظ شیخ سے آئی ایم ایف کا بدلہ لیا ہے :)