ملاحظہ کیجیے ،
ہمارے اشک ساگر ہو گئے ہیں
تو سارے دکھ بھی کمتر ہو گئے ہیں
یا
یہ جب سے اشک ساگر ہو گئے ہیں
تو سارے زخم بہتر ہو گئے ہیں
ہوا ہے جب سے یہ دل سنگِ مرمر
تمہارے ہی برابر ہوگئے ہیں
نہیں امید کی کوئی کرن بھی
اندھیرے یوں مقدر ہو گئے ہیں
کیا بام و در نے سن لی اس کی آہٹ؟
کہ / یہ...