بحر تم نے عجیب بنائی ہے، مفعول مفاعیلن دو بار ہوتا تومترنم بحر بنتی، لیکن اس
میں بات یا لفظ نہ ٹوٹے۔ لیکن تم نے اس کے بعد مفعول فعولن رکھا ہے۔ پھر بھی یہ بحر منقسم قسم کی ہے۔بہترین تو یوں ہو گا کہ کچھ الفاظ بدل کر یا ان کی ترتیب بدل کر بحر کو مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن کر دو جیسے
محروم...