باقی تو اب درست لگ رہے ہیں، ہم سفر والے شعر میں مفہوم کے اعتبار سے غلطی محسوس ہوتی ہے، جو شخص شاعر کے چلنے پرچلے اور رکنے پر رکنا ضروری ہو، وہ راہبر کس طرح ہوا؟ شاعر خود راہبر نہیں ہوا؟
چار بار افاعیل کی بحر کو اکثر دو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے پڑھا جاتا ہے، اس لئے دونوں حصوں میں بات مکمل ہونی چاہیے، ورنہ عروضی غلطی تو نہیں لیکن سخت عدم روانی کا احساس ہوتا ہے، بیانیہ کے آس سقم کو حرف ب سے نشاندہی کر رہا ہوں ۔ہاں عروضی سقم وہاں کہا جا سکتا ہے جہاں حروف کا وصال کیا گیا ہو۔ (حرف و سے...
کون جیتے ہیں؟
کون جانتے ہیں؟
ٹھیک
مرے راہبر تو اکیلا.....
بہتر ہو گا
پہلا مصرع نا مکمل، "ہے" کی غیر موجودگی میں
دونوں مصرعوں میں عظمت کے لفظ کا استعمال بھی اچھا نہیں
درست
درست
مجھے تو درست لگ رہا ہے، بلکہ بہت بہتر
سیر چمن والے شعر میں ڈائریکٹ معنی نہیں نکلتے، راست چمن میں آشیانہ عموماً نہیں کہا جاتا۔ کم از کم مجھے ایسا لگ رہا ہے
ایک اس شعر پر بات نہیں ہوئی
دوسرے مصرعے میں جو تحیر کی کیفیت ہے، وہ پہلے مصرع سے ادا نہیں ہو رہی ہے
میں تو حیراں ہوں، وہ مجھ پر مہرباں ہیں
یا اس قسم کا کوئی مصرع جس میں تحیر واضح ہو "تو" کے استعمال کے ساتھ
یہ دونوں اشعار عجز بیان کا شکار ہیں ۔چمن آشیاں کے لئے ہوتا ہی نہیں، درخت پرندوں کے لئے ہوتا ہے۔اور جب گل ہی نہیں ہیں ممکنہ طور پر تو ان کی سیر کیا معنی؟
ہم ترس گئے تھے؟ کاسہ لیس بھی درست ترکیب نہیں
باقی اشعار درست لگتے ہیں
شکیل نے اچھی اصلاح دی ہے ماشاء اللہ، ویسے اس غزل میں نسبتاً اصلاح کی جگہ بہتری کی گنجائش زیادہ تھی
خیال میں البتہ کوئی ندرت تو نہیں ہے، اس پرارشد بھائی زیادہ غور کریں