گھر کی تو بات ہی الگ ہے۔
ہمارے ہاں ایک مثال ہے کہ "گھر دا پیر، چُلہھ دا وٹا"
پرانے وقتوں میں جب لکڑیوں سے آگ جلایا کرتے تھے اس وقت چند اینٹوں کے ٹکڑے تین اطراف سے رکھ کر جو چولہا بنایا جاتا تھا ان اینٹوں کے ٹکڑوں کو کہتے ہیں "چلہھ دا وٹا"
کہتے ہیں کہ لیڈر آنے والی نسل کا سوچتا ہے اور سیاستدان آنے والے انتخابات کا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر سیاست دان آنے والے انتخابات کا سوچتاہے۔ پی ڈی ایم کے کرتا دھرتا تو خیر اتنی مرتبہ آزمائے جا چکے ہیں کہ کوئی انتہا نہیں۔ تحریکِ انصاف میں بھی دنیا جہان کے آزمائے ہوئے کارتوسوں کو ایک بار پھر...
اب تو خوشی کا غم ہے ، نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
وہ وقت بھی خدا نہ دکھائے کبھی مجھے
ان کی ندامتوں پہ ہو شرمندگی مجھے
رونے پہ اپنے اُن کو بھی افسردہ دیکھ کر
یوں بن رہا ہوں جیسے اب آئی ہنسی مجھے
یوں دیجئے فریبِ محبت کہ عمر بھر
میں زندگی کو یاد کروں زندگی مجھے
رکھنا ہے...