ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
دنیا تبدیل ہونے کو ہے، انقلاب آنے کو ہے!
عاصم سجاد اختراپ ڈیٹ 10 اپريل 2020
تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب ایسے ادوار میں رونما ہو تے ہیں جب حکمرانی کے نظام بڑے بحرانوں کی لپیٹ میں آکر عوام الناس کی نظروں میں مکمل طور پر ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر انقلابیوں کو زیادہ لمبے اور مشکل فلسفے جھاڑنے...
بعض لوگوں کا تکیہ کلام یہی ہوتا ہے، ’’آپ کا بھائی‘‘۔ فلاں کام آپ کے بھائی نے کروادیا۔ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ ایسے لوگ اپنی بیگم سے بات کرتے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ نہ خوود کو بیگم کا بھائی کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سالے صاحب کی تعریف کرسکتے ہیں۔
جی ہاں اس بات سے تو ہم متفق ہیں۔ پسِ پردہ ہاتھوں نے کبھی جمہوریت چلنے ہی نہیں دی۔ ایسا نظام نہیں چلے گا۔ اب کے تو سیلیکٹرز ایسے لوگوں کو لائے ہیں جو کرپٹ بھی ہیں اور نا اہل بھی۔
بھائی صاحب سیلیکٹرز کی خواہش پر اگر انکوائری ہوئی ہو تو کون مائی کا لال اسے روک سکتا ہے؟ یاد ہے پہلے اے این یو کو حکومت نے اپنی خواہش کے مطابق جھوٹا کیس بنانے میں استعمال کرلیا، لیکن رانا صاف نکل گیا۔ اب سیلیکٹرز ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ایف آئی اے وغیرہ پر حکومتی مافیا کا دباؤ کام نہیں کرے گا!
اب تمام کوششیں اس بات پر ہورہی ہیں کہ کسی طرح نیازی صاحب کو اس اسکینڈل سے بچاکر نکال لیا جائے چاہے پوری ٹیم ہی بدلنی پڑے۔ اس بار بچ کر نکل گئے تو اگلی مرتبہ کیا ہوگا؟ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نی جائے۔
پہلے لٹیرے ملک کو لوٹا کرتے تھے اب وزیرِ اعظم کے اوپر سرمایہ کاری کرنے والے، ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کرنے والا وزیرِ اعظم ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ فرق کیا پڑا۔ اب کے ایک ایسا وزیرِ اعظم مسلط کیا گیا ہے جو خود کچھ نہیں کھاتا، اس پر سرمایہ کاری کرنے والے، اس کے ہوٹلوں اور جہازوں کا خرچہ اٹھانے والے، آس...
حکیم حکمت علی خاں اپنے دور کے بڑے جید حکماء میں شمار ہوتے تھے۔ کہتے ہیں کہ حکمت ان کے گھر کی ایک لونڈی تھی۔حاکمِ وقت بھی ان کی حکمت سے استفادہ کیا کرتے ، اکثر ان کے مطب کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظر آتے۔حکیم صاحب بھی اس کی حاکمیت کو حکمِ حاکم مرگِ مفاجات سمجھ کر حکم بجالاتے۔ ان کے ہم عصر ناظم...