اس کی تشکیل جو تھی روزِ ازل سے مقصود
متعین سرِ افلاک ہوئے اِس کے حدود
اِس کی تکمیل ہوئی ایسے بہ حکمِ معبود
اس کی رفعت پہ فرشتوں نے بھی بھیجا ہے درود
رحمتِ حق کی بچھائی گئی مسند اِس پر
تھا سرِ عرشِ بریں نورِ محمد اس پر
اسی منبر سے اُٹھائی گئی آوازِ جہاد
اسی منبر سے دبا کفر و معاصی کا فساد
یہی منبر تو ہے ایوانِ عمل کی بنیاد
اس کو تاحشر رکھے رحمتِ باری آباد
یہیں ایثار و عزیمت کا بیاں ہوتا ہے
چشمہ فیض اسی منبر سے رَواں ہوتا ہے
یہی منبر تھا جہاں سے ہوئی جاری توحید
اسی منبر سے ہوا کرتی ہے حق کی تائید
اسی منبر سے ہوئی عدل کی سب کو تاکید
اسی منبر کی زمانے کو ضرورت ہے مزید
یہیں خطباتِ پیمبر سے فضا گونجی تھی
اسی منبر سے سلونی کی صَدا گونجی تھی
میں کہ مداحئ شبیر عبادت میری
آلِ اطہار سے ثابت ہے محبت میری
کھینچ لائی مجھے مجلس میں مودت میری
اوجِ منبر جو ملا ہے تو یہ قسمت میری
کیوں نہ اس خوبئ تقدیر پہ نازاں ہوں میں
آج منبر پہ سرِ تختِ سلیماں ہوں میں
علم سے دور ہوں میں فن سے خبردار نہیں
جادہ فکر میں سو پیچ ہیں ، ہموار نہیں
تاب تحریر نہیں ، طاقت گفتار نہیں
اوجِ منبر کا بہ ایں جہل سزاوار نہیں
حکمِ اصحاب کی تعمیل میں لب کھولے ہیں
عیب سب اپنے سرِ بزم ادب کھولے ہیں
سر بسر ہیچمداں ہوں تو زباں کیا کھولوں
فوج الفاظ ہے باغی تو نشاں کیا کھولوں
فکر سے مہر بلب ہوں تو دہاں کیا کھولوں
مال ہی پاس نہیں ہے تو دکاں کیا کھولوں
مدح کرنے کا طریقہ نہیں آتا مجھ کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں آتا مجھ کو
او گاڈ اٹھائیس گھنٹے! "میتھیو" کی بات کر رہے ہیں سعود بھائی؟
میں ٹھیک ہوں اللہ کا شکر۔ البتہ ابھی سر میں کچھ درد ہو رہا ہے۔ فریحہ اور بھابھی کیسی ہیں اور کہاں ہیں ان دنوں؟