نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    وہی قرآن جسے لائے تھے جبریل امیں وہی قرآن کہ مثل اُس کا زمانے میں نہیں اسی قرآن کے احکام پہ ہنستے تھے لعیں وہی قرآن جو ہے مصحفِ آیاتِ مبیں کہتے تھے وحی و فرشتہ ہیں خیالی باتیں بنی ہاشم کی بھی ہیں سب سے نرالی باتیں
  2. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    میکشی کے لئے مخصوص ہوا وقتِ نماز سیر و تفریح و شکار اور شراب و تگ و تاز بدلے جمہور، حکومت کا جو بدلا انداز دب گئی شور میں مطرب کے اذاں کی آواز ذوقِ عصیاں کے جو ساماں بہم رکھے تھے تخت پر بیٹھ کے قرآں پہ قدم رکھے تھے
  3. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    آہ مسموم ہوئے شبر معصوم آخر پورا ہو کر ہی رہا زیست کا مقسوم آخر جبر کے دور کی پھر ہونے لگی دھوم آخر اب جو ہونا ہے وہ سب کو ہوا معلوم آخر فسق کے جام چلے، جور کے پیمانے چلے مسجدوں میں جنہیں جانا تھا وہ میخانے چلے
  4. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    زہر جو خون میں مذہب کے ہوا تھا شامل بے علاج اُس کا نکلنا تھا نہایت مشکل چارہ سازی پہ تھا آمادہ حسن سا کامل اپنی جانب سے نہ تھا دشمن جاں بھی غافل دشمنی کا یہ عجب رنگ نکالا آخر چارہ گر ہی کو دیا زہر کا پیالا آخر
  5. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    رُوح جس جسم میں موجود ہو مرتا تو نہیں زیست کا رہتا ہے کچھ چارہ گروں کو بھی یقیں کچھ دوا دے کے بھی ہو جاتی دل کو تسکیں ترکِ دَرماں بھی کیا کرتے ہیں ایسے میں کہیں رُخ مرض کا اگر اُمید شفا دیتا ہے چارہ گر ایسے میں خود جاں لڑا دیتا ہے
  6. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    عزم شبر کی تائید ہوئی صلحِ حسن بدکلاموں کے ہوئے بند مساجد میں دہن کُھل کے پھیلا نہ زمانے میں مصائب کا چلن دلِ اسلام میں باقی رہی کچھ کچھ دھڑکن کچھ نہ کچھ کشمکش فاتح و مفتوح تو تھی تنِ مذہب میں توانائی نہ تھی رُوح تو تھی
  7. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    اس طرف بند ہوئیں شیرِ خدا کی آنکھیں ہوگئیں ظلم کے ایوان میں روشن شمعیں دین اک کھیل بنا چلنے لگیں وہ چالیں لبِ گفتار کو یارا نہیں اب کیسے کہیں رہی تا دیر نہ قائم یہ نشاطِ باطل صلح شبر نے الٹ دی تھی بساطِ باطل
  8. سیدہ شگفتہ

    حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

    حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
  9. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    یہ ہمارا ہے پسر اور تمہارا بھائی کوئی ایسا نہیں پاؤ گے کہیں شیدائی اس نے جینے کی زمانے میں جو مُہلت پائی اس کی انگڑائی بھی ہو شیر کی سی انگڑائی خون ہے جسم میں اور خوف ذرا پاس نہیں پسرِ شیرِ خدا نام کا عباس نہیں
  10. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    وقت پڑنا ہے جو تم پر وہ ہمیں ہے معلوم ظلم کر دے گا مرے لعل حسن کو مسموم دشت میں خنجرِ قاتل ہے تمہارا مقسوم کوئی دنیا میں نہ ہو گا کبھی تم سا مظلوم کچھ تمہارے لیے سامان کیے جاتے ہیں جاتے جاتے تمہیں عباس دیئے جاتے ہیں
  11. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    تم سے وابستہ ہے اسلام کی عظمت کا سوال رہے ہر حال میں قرآن و شریعت کا خیال ہونے نہ دینا کبھی دین خدا کو پامال تم کو معلوم ہے جو کچھ ہے حرام اور حلال جبرِ باطل سے ذرا خوف نہ کھانا ہرگز پیشِ باطل کبھی گردن نہ جھکانا ہرگز
  12. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    پھر کہا دوسرے فرزند سے سنئے شبیر تھا یہی حکمِ خدا مصلحتِ رب قدیر کی ہے شبر سے جو، آپ نے سُن لی تقریر میں نہ ہوں جب تو رہے اتنا خیالِ ہمشیر کسی تکلیف میں غمِ دیدہ نہ ہونے پائے میری بیٹی کبھی رنجیدہ نہ ہونے پائے
  13. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    آنے والا ہے بُرا وقت ذرا دھیان رہے کام جو حشر میں آئے وہی سامان رہے صرف خوشنودئ حق، زیست کا عنوان رہے جان جاتی ہو تو جائے مگر ایمان رہے زندگی راہِ رَضا میں جو فنا ہو جائے زہر مل جائے تو وہ آب بقا ہو جائے
  14. سیدہ شگفتہ

    تبریز کے محلّۂ کوچہ باغ، محلّۂ فیضیہ اور خیابانِ بہادری میں مراسمِ عزاداری (ایرانی آذربائجان)

    لے کےہر چیز مدینے سے چلی تھی زینب بھائی کی لاش پہ پہنچی تو کفن یاد آیا
  15. سیدہ شگفتہ

    تہران کے محلّۂ تہرانِ نو میں محرّم کی شبیں

    سلطان کربلا کو ہمارا سلام ہو جانانِ مصطفٰی کو ہمارا سلام ہو
  16. سیدہ شگفتہ

    تبریز میں محرّم کی شبیں (ایرانی آذربائجان)

    مجرئی خلق میں ان آنکھوں سے کیا کیا دیکھا پر کہیں سبطِ پیمبر سا نہ آقا دیکھا
  17. سیدہ شگفتہ

    تہران کے محلّۂ جیحون میں محرّم کی شبیں

    آں امام عاشقاں
  18. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    کی یہ شبر کو وصیت کہ رہے اتنا خیال دل شبیر کو پہنچے نہ کسی وقت ملال صلح کی راہ ہو یا معرکہ جنگ و جدال آنے پائے نہ کہیں دین کی عظمت پہ زوال جب مصیبت پڑے مذہب پہ بچانا دونوں خوفِ باطل کبھی خاطر میں نہ لانا دونوں
Top