ہائے کیا وقت تھا، مسجد میں بپا تھا کہرام
سَربسر خون میں ڈوبا تھا زمانے کا امام
غش تھے حسنین، نمازی تھے پریشان تمام
واہ رے صبر کہ مولا نے لیا حِلم سے کام
اپنے قاتل کو بھی شربت کا عطا جام کیا
واہ اے صبر امامت کہ بڑا کام کیا
مسجدِ کوفہ میں منبر کا اُجالا ان سے
بول اسلام کا تھا دہر میں بالا، ان سے
تھے سخی، پاتا تھا ہر مانگنے والا، ان سے
کام جب لے چکا اللہ تعالیٰ ان سے
تیغ قاتل کی لگی تھی سرِ اطہر کے قریب
ہوئے سجادے پہ مضروب یہ منبر کے قریب
اے باد صبا جا کے یہ عمو کو بتانا
پیاسی ہے سکینہ
اس چھوٹے سے سن میں یہ ستم میں نے اٹھائے
اللہ کسی کو نہ یتیم ایسا بنائے
خود اپنے لہو میں کوئی بچی نہ نہائے
میں تم کو بلاتی رہی تم بھی تو نہ آئے
میں بن گئی بعد عصر لعینوں کا نشانہ
پیاسی ہے سکینہ
پانی کی طلب مجھ کو کھلاتی رہی ٹھوکر
کہتا تھا لعیں...
حفظِ قرآن میں دن رات بسَر ہوتے تھے
مسئلے دین کے حل ،آٹھ پہر ہوتے تھے
معرکے عشقِ الٰہی کے بھی سَر ہوتے تھے
جو کڑی پڑتی تھی یہ سینہ سپر ہوتے تھے
ہو اگر جنگ کا میدان تو غازی تھے علی
جن سے قائم ہے نماز، ایسے نمازی تھے علی
تجربے ذہنیتوں کے بھی ہوئے بعدِ رسول
صبر کرتے رہے، ہونے نہ دیا دل کو ملول
گھر تھا ویران جو رخصت ہوئیں دنیا سے بتول
خدمتِ دینِ محمد میں رہے یہ مشغول
کبھی کوفے کے خطاکاروں کو ٹوکا جا کر
کبھی صفین میں طوفان کو روکا جا کر
یہ سمجھتے تھے کہ مقصود مشیت کیا ہے
ان کو معلوم تھا سب فرضِ محبت کیا ہے
تھا انہیں علم، خدا کیا ہے ،رسَالت کیا ہے
جانتے تھے کہ زمانے کی حقیقت کیا ہے
تھی خبر، شیفتہ دینِ مبیں کتنے ہیں
خوب پہچانتے تھے، دُشمنِ دیں کتنے ہیں
ان کا گھر ماہِ رسَالت کی ضیا سے روشن
حضرت فاطمہ زہرا کی ریاضت کا چَمن
ان کے گلہائے حسیں ،زینب و شبیر و حسَن
باغِ فردوس کے پھولوں سے بھرا تھا دامن
رُوح انوار الٰہی سے ضیا پائے ہوئے
قلب تعلیمِ محمد سے جِلا پائے ہوئے
کی تھی تفویض رسَالت نے امانت ان کو
دی گئی محفلِ ایماں کی صدارت ان کو
پا کے شائستہ آدابِ امامت ان کو
اپنا بستر بھی دیا تھا شبِ ہجرت ان کو
جان پر کھیل گئے حفظِ رسَالت کے لیے
اور کیا چاہیے تکمیل فضیلت کے لیے؟
یہ وہ ہیں بدر میں چمکی تھی انہیں کی تلوار
یہ وہ ہیں مرحب و عنتر بھی ہوئے جن کے شکار
یہ وہ ہیں روزِ اُحد کاٹی تھی دشمن کی قطار
یہ وہی ہیں کہ کیا قلعہ خیبر مسمار
جو کسی نے نہیں پایا ، وہ حشم پایا تھا
دستِ سرکارِ رسالت سے عَلم پایا تھا
وارثِ قصرِ رسالت ہیں جنابِ حیدر
صاحبِ تاجِ ولایت ہیں جنابِ حیدر
بانئ بزمِ امامت ہیں جنابِ حیدر
شاملِ نورِ نبوت ہیں جنابِ حیدر
ہر مسلمان کے ہیں مالک و آقا حیدر
جس کے مولا ہیں نبی ، اس کے ہیں مولا حیدر
صاف سنتے ہیں یہ ارشادِ رسولِ دو سَرا
جس کا مولا ہوں میں، اُس کے ہیں علی بھی مولا
آج سے کوئی کسی شخص کا دشمن نہ رہا
آل و قرآں ہیں مرے بعد وسیلہ سب کا
یوں بھلا مقصدِ ایمان کو کیا سمجھو گے؟
آل کو چھوڑ کے قرآن کو کیا سمجھو گے؟
مختلف شکلوں میں مل جاتی ہے اس کی تصویر
کہیں مسجد میں اک انداز سے اس کی تعمیر
کہیں میدانِ وغا میں سرِ مرکب تکیبر
کہیں ناقے کا کجاوہ ہے سرِ خُمِ غدیر
جب کبھی جانبِ کعبہ سے ہوا آتی ہے
آج تک خطبہ آخر کی صَدا آتی ہے
کیوں نہ ہو، صاحبِ لولاک کے چومے ہیں قدم
جَلوہ فرما اِسی منبر پہ تھے سُلطانِ اُمم
فخرِ داؤد و سلیمان و مسیح و آدم
نورِ کونین، سراجِ عرب و عرش ِحشم
اس کے رُتبے کو بڑھایا، یہ شرف کیا کم ہے
ان کے قدموں نے نوازا ، یہ شرف کیا کم ہے
اِسی منبر سے اُبھرتے تھے رسولانِ کرام
اِسی منبر سے سُنایا گیا اللہ کا نام
اِسی منبر کو کیا آ کے فرشتوں نے سلام
اِسی منبر پہ رسول اور اِسی منبر پہ امام
بحرِ ہستی میں معارف کا سفینہ ہے یہ
اس کو منبر نہ کہو عرش کا زینہ ہے یہ
"میم" ہے آئینہ نورِ محمد اس میں
"نون" ہے نسبتِ توحید کی اِک حد اِس میں
"با "ہے بنیادِ عبادت کی مؤید اِس میں
"را" ہے تاکیدِ ریاضت کی بھی مفرد اِس میں
اِس میں جو حرف ہے انوار کا گنجینہ ہے
قدرتِ خالقِ کونین کا آئینہ ہے
اسی منبر سے اٹھا طینت آدم کا خمیر
یہی منبر تو ہے دیباچہ کُن کی تفسیر
اسی منبر کے لیے ہو گئی دنیا تعمیر
یہی منبر تو ہے عرفان گہ ربِ قدیر
دائرے ہو گئے قائم اسی محور کے لیے
یہ جہاں خلق ہوا تھا اسی منبر کے لیے