ہمارے ہاں بھی بہت 'پٹاسیں' چلتی تھیں اور فصلوں کے تنوں سےبت بنا کر انھیں نذرِ آتش کیا جاتا تھا اس طرح کے بت کو 'مُساہْرا' کہا جاتا تھا اسی نسبت سے اس موقعے کو 'مساہریاں آلی عید' کہا جاتا تھا۔ مولویوں کی مسلسل مذمت سے اب یہ سب ختم ہو کر رہ گیا ہے بس پٹاخے تھوڑے بہت چلائے جاتے ہیں۔
یہ سب کچھ...