غزل
دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے
ہم نے اک ایک کرکے جوڑے تھے
عشق !اور وہ بھی کم سنی کا عشق
کان اُس نے مِرے مروڑے تھے
اطمینان و غنا کی دولت تھی
ایک چپل تھی، چار جوڑے تھے
تم تو اس عید بھی نہیں آئے
تین سو ساٹھ روز تھوڑے تھے؟
اُن کو افراطِ زر نے چاٹ لیا
چار پیسے جو اُس نے جوڑے تھے
محمد احمدؔ
فلک بھائی باتوں ہی باتوں میں اس قدر خوبصورت تحریر لکھ ماری آپ نے۔ :)
اس کی جگہ بے پر کی اُڑانے والے دھاگے میں نہیں ہے بلکہ ایک الگ لڑی میں بنتی ہے۔ :) :)
ماشاء اللہ! بہت خوب! :) :) :)
سبحان اللہ!
میں جب بھی ظہیر احمد ظہیر کی شروع کردہ تمام لڑیاں نامی ربط پر کلک کرتا ہوں، کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
آج بھی اس خوبصورت تحریر تک اسی طرح رسائی ہوئی۔ سبحان اللہ اتنی مزیدار تحریر اور اس سے بھی دلچسپ ظہیر بھائی کے فالو اپ جوابات۔ :) :) : )
پڑھ کر طبیعت مسرور ہو گئی الحمدللہ!
ان چھ...
کہتے ہیں کہ لفظ قلفی اصل میں قفلی تھا۔ اور اسے قفلی اس وجہ سے کہتے تھے کہ اس کے سانچے میں اجزاء ڈالنے کے بعد اس کا دہانہ اچھی طرح بند کر دیا جاتا تھا یعنی قفل لگا دیا جاتا تھا تاکہ اجزاء سانچے سے باہر نہ آ سکیں۔ یوں اس کا نام قفلی پڑا جو رفتہ رفتہ ہوتے ہوتے قلفی ہو گیا۔ واللہ اعلم!
ہمیں روز مرہ ایسے بہت سے نام سننے کو ملتے ہیں کہ جن کو سن کر ہم کہتے ہیں کہ بھئ یہ کیا نام ہوا؟ اور پھر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس نام کی وجہ یہ ہے اور اُس نام کے پیچھے فلاں واقعہ یا بات ہے۔
سو یہاں محفلین سے درخواست ہے کہ اگر آپ کسی معروف نام کی وجہِ تسمیہ جانتے ہیں تو یہاں لکھیے تاکہ ہم بھی...
امجد صاحب اللہ رب العزت کے حضور پہنچ گئے ہیں۔ جلد یا بدیر ہم سب کی بھی یہی منزل ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت امجد صاحب پر اپنا رحم و کرم فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ اور ہم سب کو بھی آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔