شاہ نیاز تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا - شاہ نیاز بریلوی

کاشفی

محفلین
غزل​
(نیاز بریلوی)​
​
تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا​
وہیں محو حیرتِ بیخودی مجھے آئینہ سا بنا دیا​
​
وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی​
سو کشش سے دامن ناز کی اسے بھی زمیں سے مٹا دیا​
​
کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال​
سو جگا کے شور ظہور نے مجھے کس بلا میں پھنسا دیا​
​
رگ و پئے میں آگ بھڑک اُٹھی، پھونکے ہی پڑا سبھی بدن​
مجھے ساقیا مئے آتشیں کا یہ جام کیسا پلا دیا​
​
جبھی جا کے مکتبِ عشق میں سبق مقام فنا کیا​
جو لکھا پڑھا تھا نیاز نے سو وہ صاف دل سے بھلا دیا​
 
کاشفی میری جان بہت عمدہ
کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال​
سو جگا کے شور ظہور نے مجھے کس بلا میں پھنسا دیا​
اس شعر کو پڑھ کر ایک شعر ذہن میں در آیا​
شورے شد و از خواب عدم چشم کشو دیم​
دیدیم کے باقیست شب فتنہ غنودیم​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top