غامدی نے ناموس رسالت قانون کو خلاف اسلام قرار دے دیا

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

الف نظامی

لائبریرین
گستاخِ رسول کی سزا آئمہ و فقہاء کی نظر میں:
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کل من شتم النبی او تنقصہ مسلما کان او کافرا فعلیہ القتل
ہر وہ شخص جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب و شتم کرے یا آپ کی تنقیص و تحقیر کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس پر سزائے قتل لازم ہے۔
(الصارم المسلول: 525)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
من سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) او شتمہ و عابہ او تنقصہ قتل مسلما کان او کافرا ولا یستتاب
جس شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تنقیص و تحقیر کا ارتکاب کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
(الصارم المسلول :525)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ مختلف ائمہ کرام کے اقوال نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
تمام مکاتب فکر کے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف عیب و نقص منسوب کرنے والا کافر اور مباح الدم ہے۔ اس میں یہ فرق نہیں کیا جائے گا کہ اس نے عیب کا ارادہ نہیں کیا تھا ، بلکہ مقصد کوئی اور بات تھی اور گستاخی تبعا ہوگئی یا اس نے عیب جوئی کا ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ طنز و مزاح وغیرہ کیا ہے۔
بحوالہ : "تحفظ ناموس رسالت" از ڈاکٹر محمد طاہر القادری
 

الف نظامی

لائبریرین
پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر دعوی مسلمانی کے باوجود کسی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد اور قابل گردن زدنی ہے۔ کسی اسلامی سلطنت میں اگر کوئی غیر مسلم بھی بارگاہ نبوت میں گستاخی کا مرتکب ہوگا تو اس کی سزا بھی موت ہوگی۔

بطور استشہاد چند اشارات پیش خدمت ہیں:

1- ابن خطل گستاخ رسول کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر آپ کے صحابی ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے اس حال میں قتل کیا کہ وہ حرم کعبہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی دو لونڈیاں سارہ اور قریبہ کو بھی اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ اس ملعون کے ہجویہ اشعار گاتی تھیں۔

2- عصماء بنت مروان گستاخ رسول تھی اسے صحابی رسول عمیر بن عدی نے قتل کیا۔ عبد اللہ بن عتیک نے گستاخ رسول ابو رافع کو قتل کیا۔ اس واقعہ میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ جب واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہاتھ پھیرا اور ٹانگ مکمل درست ہوگئی۔

3- ابو عفک کو صحابی رسول سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ نے واصل جہنم کیا۔

4- کعب بن اشرف کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر محمد بن سلمہ نے کمانڈو ایکشن کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا۔
بحوالہ : سر دلبراں ، ماہنامہ ضیائے حرم لاہور جنوری 2011
 

الف نظامی

لائبریرین
عقل اور منطق کے حوالہ سے قانون تحفظ ناموس رسالت کی توجیہات:
1- شاتم رسول فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی تلافی نہیں ہوتی جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔
2- اگر گستاخ کو توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اس سے دوسرے بدبختوں کو جرات ہوگی اور توہین کا ارتکاب کرنے والے اس مکروہ عمل کو بطور کھیل اپنائیں گے۔ جب چاہا گستاخی کر لی ، جب چاہا توبہ کر لی۔ بارگاہ نبوت کے آداب ایسے کسی عمل کو برداشت نہیں کرتے۔
3- بارگاہ نبوت میں گستاخی کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ اللہ تعالی اپنے حقوق توبہ سے معاف فرما دیتا ہے جب کہ حقوق العباد متاثرہ فریق کی طرف سے معافی کے بغیر معاف نہیں کیے جاتے۔
4- اسلام میں کچھ جرائم مثلا زنا ، قتل ، سرقہ وغیرہ ایسے جرائم ہیں جن کا مجرم سچی توبہ کے بعد آخرت میں تو نجات پا سکتا ہے لیکن دنیا میں اسے ہر صورت میں سزا بھگتا پڑتی ہے۔
5 - اگر اسلامی مملکت میں شاتم رسول کے لیے کوئی واضح قانون نہیں ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ٹوٹ کر پیار کرنے والے از خود بدلہ لینے پر مجبور ہوں گے جیسا کہ غازی علم دین شہید ، غازی عبد القیوم شہید کے اقدامات سے ہوا۔
بحوالہ : سر دلبراں ، ماہنامہ ضیائے حرم لاہور جنوری 2011
 

سویدا

محفلین
برادرم ظفری کی یہ بات انتہائی عجیب وغریب ہے کہ
”مگر کاپی پیسٹ اور لنکس فراہم کرنے سے گریز کریں کہ اگر آپ اس بحث میں اپنے استلدلال اور عملی قابلیت کی بناء پر حصہ نہیں لے سکتے تو پھر براہِ کرم خاموش رہیں ۔ اور سلسلہِ بحث کو تاراج مت کجیئے ۔ شکریہ “
دین تو نام ہے سند اور حوالے کا الاسناد من الدین لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء
 

الف نظامی

لائبریرین
تعظیم و تکریمِ رسول اصلِ ایمان:
ہمیں اپنے اذہان و قلوب میں اس حقیقت کو جاگزیں کر لینا چاہیے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہی اصل ایمان ہے اور اس کی بنیاد ہے۔ کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت و رسالت اور آپ کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھے اور قرآن حکیم کو اللہ جل شانہ کی نازل کردہ آخری کتاب مانے اور اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت و الوہیت اور ربوبیت پر بھی ایمان لائے اور یوں جملہ عقائدِ اسلامیہ کو تصدیق بالقلب کے ساتھ تسلیم کرے لیکن صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم پر ایمان و ایقان نہ رکھے تو وہ سب باتیں ماننے کے باوجود صریحا کافر ہے ۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ بایں وجہ تعظیم و تکریم رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضروریاتِ دین میں سے ہے اور درحقیقت اصل ایمان ہے۔
اب یہاں ایک بڑی لطیف Delicate بات ہے جسے بڑی احتیاط سے ممیز Differentiate کرنا ہے تا کہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے وہ یہ کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام اصلِ ایمان اور آپ کے اسوہ و سیرت کی پیروی و اتباع کمالِ ایمان ہے۔ اگر کوئی شخص اعتقادا نہیں بلکہ عملا اسوہ مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تارک ہے تو وہ ناقص الایمان ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام کا تارک ہے تو وہ ناقص الایمان نہیں بلکہ خارج از ایمان اور کافر ہے۔
غرضیکہ ادب و تعظیمِ رسول کا ترک ، کفر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ اعمال و سنن جن کی اتباع و پیروی لازم ہے جنہیں سیرت و اسوہ سے تعبیر کرتے ہیں ان کا ترک فسق و فجور اور حرام ہے ۔ اس بنا پر اتباعِ مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عملا جو تارک ہے وہ حرام کار اور فاسق و فاجر ہے اور جو ادب و تعظیم اور تکریم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تارک ہے چاہے اس کی مقدار کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو وہ صریحا کافر اور خارج از ایمان ہے۔ سو جو تارک اتباع ہے وہ ترک عملِ صالح کا مرتکب ہو رہا ہے اور جو تارکِ ادب و تعظیم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے وہ ترکِ ایمان میں مبتلا ہو رہا ہے۔
ارشاد ربانی ہے
لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ (الفتح 9:48 )
تا کہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاو اور ان کی (دل سے) تعظیم و توقیر کرو۔
گویا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ آپ کی حد درجہ تعظیم و تکریم اور ادب و توقیر بجا لائی جائے اور کمال ایمان کے لئے اطاعت و اتباع مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں درجہ فنائیت حاصل کیا جائے۔ جبکہ اللہ رب العزت پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سامنے عاجزی و انکساری کا پیکر بن کر جبینِ نیاز جھکائی جائے اور اس کی عبادت و ریاضت میں مقامِ استغراق حاصل کیا جائے۔ المختصر اللہ تبارک و تعالی کی عبادت ہو یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حکم کی فرمانبرداری سب اللہ ہی کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔
بحوالہ : "تحفظ ناموس رسالت" از ڈاکٹر محمد طاہر القادری
 

شاکرالقادری

لائبریرین
چونکہ میں محترم شاکر قادری صاحب کی تحریر کے اختیام کا منتظر ہوں اس لیئے میں اپنا یہ استدلال اور دلائل دینے سے ابھی قاصر ہوں ۔ جن آیتوں کو یہاں کوٹ کیا جارہا ہے ۔ اصل میں اس کا تعلق قانونِ رسالت سے ہے ۔ جو کہ پہلے کے انبیاء کے دور میں بھی جاری تھا ۔ یعنی جب کسی نبی کی بعثت کہیں ہوجاتی ہے اور وہ اپنا اتمامِ حجت پورا کردیتا ہے ۔ یعنی حق کو اس طرح ظاہر کردیا جاتا ہے کہ اس کے انکار کی کوئی بھی وجہ باقی نہ رہے ۔ پھر اللہ کا وہ قانون حرکت میں آتا ہے جس کے تحت منکرین عذاب سے دوچار کر دیئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ قومِ ثمود اور قومِ عاد کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ اور رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کےدور رسالت میں یہ عذاب اللہ نے تلواروں کے ذریعے منتخب کیا ۔ القاعدہ نے بھی اپنی ویب سائیٹ پر جس آیت کو کوٹ کیا ہے ۔ وہ بھی اسی اتمامِ حجت سے تعلق رکھتی ہے ۔ اور اسی آیتِ مبارکہ کو بنیاد بنا کر زمین پر فساد پھیلایا جارہاہے ۔جبکہ اللہ نے جہاد کا قانون قرآن میں بڑی وضاحت سے واضع کیا ہوا ہے ۔ کسی آیت اور حدیث کو سیاق و سباق سے نکال کر اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنا پہلے اسلام دشمنوں کا کام تھا کہ وہ مفہوم ہی بدل دیا کرتے تھے ۔ اور اسی بناء پر آج بھی کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔ اسی طرح جس حدیث کو کوٹ کرکے آج کے زمانے میں لوگوں پر مسلط کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کا بھی اگر سیاق و سباق دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب اتمام حجت پوری ہوگئی اور مسلمانوں اور منافقین کو الگ کیاجارہا تھا ۔ تو اللہ کے رسول صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا “ میرا بس چلے تو میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں ۔ جو مسجدوں میں نماز کے لیئے نہیں آتے ۔ “ اس حدیث مبارکہ کو اگر سارا معاملہ سامنے رکھ رکر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانونِ رسالت کا حصہ تھا۔ مگر آج بھی ہم اس حدیث کو آج کے دور میں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی محفل میں کئی لوگوں نے اس حدیث کا بھی اسی حوالے سے متعدد بار ذکر کیا ہے ۔ جو آیاتیں اس سلسلے میں پیش کیں جا رہیں ہیں ۔ وہ بھی اتمامِ حجت سے ہی تعلق رکھتیں ہیں ۔ میں یہ بات ثابت کروں گا کہ کس طرح وہ آیتیں منکرین اور منافقین کے لیئے تھیں ۔ اور وہ کون لوگ تھے ۔ جن پر اس سزا کا اطلاق کیا گیا ۔ بہرحال اللہ ہم کو ہدایت دے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہمارے گھرانے قربان ۔ مگر ہم بھی دیکھیں کہ اس اقدام کے لیئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا فرمان ہے کہ ہم کسی کو اس کی سب سے بڑی نعمت سے محروم کرنے جا رہے ہیں ۔ لہذا اس امر کی بہت ضرورت ہے کہ ایسا کوئی اقدام عین قرآن و سنت کے مطابق ہے یا ہمارے جذبات اس میں پنہاں ہیں ۔
برادرم ظفری! سلامت باشید!
آپ کے اس مراسلہ کے بعد میرے دلائل کے انتظار کا کوئی جواز نہیں اور میری تحریر کی تکمیل کا کوئی فائدہ ہی نہیں
وہ اس لیے، کہ آپ نے نظریہ تو پہلے ہی قائم کر لیا ہوا ہے، آپ کے الفاظ میں جاوید احمد غامدی صاحب کا لہجہ صاف ظاہر ہے، میں نے جاوید احمد غامدی کو بہت زیادہ سنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی زبان بہت تر ہے اور گفتگو بڑی منظم و مرتب ہوتی ہے لیکن ہمیشہ ایک اصول یاد رکھیے
کسی بھی آیت یا حدیث کی تشریح و تفہیم کے لیے ہمیں سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہوں، یا اس زمانہ سے ملحق ہوں یا پھر اس زمانہ کے قریب ترین ہوں، انہی لوگوں کا موقف زیادہ درست ہوتا ہے،
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ غامدی صاحب اور چند دوسرے جدیدیت کے قائل مفکریں کو تو تو آپ تسلیم کریں، لیکن صحابہ، تابعین، تبع تابعین، فقہائے امت، اولیائے امت، محدثین کبار، اور مفسرین عظام جو15 سو سال سے بالاتفاق ایک بات کہتے چلے آرہے ہیں انکے موقف کو آپ غلط سمجھیں، اور غامدی صاحب بھی اس کو کبھی ”اجتماعی غلطی“ اور کبھی ”متفقہ غلطی“ کا نام دیں
برین عقل وانش ببایدگریست
(ایسی عقل دانش کا ماتم کرنا چاہیئے) سعدی

طفری بھائی جب پہلے سے آپ کا ذہن بن چکا ہے تو پھر میرے دلائل کا انتظار کس لیے؟
جو آیاتیں اس سلسلے میں پیش کیں جا رہیں ہیں ۔ وہ بھی اتمامِ حجت سے ہی تعلق رکھتیں ہیں ۔ میں یہ بات ثابت کروں گا کہ کس طرح وہ آیتیں منکرین اور منافقین کے لیئے تھیں ۔ اور وہ کون لوگ تھے ۔ جن پر اس سزا کا اطلاق کیا گیا ۔
یہ ہے آپ کا طے شدہ موقف، یہ موقف میں غامدی صاحب اور انکے پروکاروں سے کئی بار ٹی وی چینلز پر سن چکا ہوں، جب کسی کا موقف طے شدہ ہو تو بات کرنا فضول اور دلائل دینا عبث ہو جاتا ہے، اس لیے میں اگر یہاں کچھ لکھوں گا تو اب اس نیت سے نہیں لکھونگا ظفری طلب علم کی نیت سے پوچھ رہے ہیں تو جواب دینا چاہیے، بلکہ اگر کچھ لکھا تو صرف اس غرض سے کہ لکھونگا کہ شاید رسول امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں شرف قبولیت مل جائے
والسلام من تبع الہدی
 

شاکرالقادری

لائبریرین
اس ویڈیو میں مولانا صاحب نے ابولہب کی مثال تو دی ہے لیکن نہیں بتایا کہ ابولہب کو سزا دینے کا اختیار انسانوں کو نہیں دیا گیا بلکہ اللہ نے اسکی سزا کو اپنے ہاتھ میں ہی رکھا اسی طرح قرآن میں جتنی جگہ بھی گستاخان رسول کا ذکر کیا ہے کسی ایک جگہ بھی ان کو سزا دینے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہی فرمایا کہ ان کو سزا دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ تو اللہ کا اختیارجو اس نے خود کسی انسان کو نہیں دیا وہ اختیار اگر کوئی انسان اپنے ہاتھ میں لے تو کیا یہ اللہ کی گستاخی نہیں ہے؟
بہت دکھ ہوتا ہے جب معاملات کو پوری طرح سمجھے بغیر فتوی دے دیا جاتا ہے ، ابولہب کی جانب سے گستاخی اعلان نبوت کے وقت بعض روایات کے مطابق اس مجلس میں کی گئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم ربی انذر عشیرتک الاقربین کے تحت اپنے قریبی دس بارہ رشتہ داروں کو اپنے چچا جناب ابوطالب کے گھر میں جمع کر کے انہیں اسلام کی دعوت دی تھی، اور بعض روایات کے مطابق کوہ صفا پر جب آپ نے پہلی مرتبہ اعلان فرمایا اور اسلام کی دعوت دی،
اس وقت ایک خاتون خانہ اور ایک آٹھ سالہ بچے کے علاوہ کسی نے اسلام قبول ہی نہیں کیا تھا، اس آٹھ سالہ بچے نے بھی اسلام اسی مجلس میں قبول کیا جس میں ابولہب نے گستاخی کی تھی
غیرت خداوندی کو جوش آیا اور اللہ نے گستاخ کو سزا سنا دی


بلکہ اللہ تعالی نے تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بھی گستاخی کی سزا دینے کی بجائے معاف کرنے کی ہی تعلیم دی مثلآ:

ہم استہزا کرنے والوں کے مقابل پر تجھے کافی ہیں (الفجر 15)
عفو اختیار کر اور معروف باتوں کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر (الاعراف 200)
اور صبر کر اس پر جو وہ کہتے ہیں اور ان سے اچھے رنگ میں جدا ہوجا (المزمل 11)
اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردے اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کارساز کے طور پر کافی ہے۔ (الحزاب 49)
اور اس نے تم پر اس کتاب میں یہ (حکم) اتار چھوڑا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے یا ان سے تمسخر کیا جارہا ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اوربات میں مصروف ہوجائیں۔ (النسا 141)
یاد رہے کہ جہاد و قتال اور جنگ و جدل سے متعلق آیات اس وقت تک نازل نہ ہوئیں جب تک مدینہ میں مسلمانون کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم نہ ہو گئی، جب اس ریاست کا قیام ہو گیا تو پھر آیات جہاد و قتال نازل ہوئیں اور اس ریاست کے تحت قوانین کا اجرا کیا گیا
 

آبی ٹوکول

محفلین
برادرم ظفری! سلامت باشید!
آپ کے اس مراسلہ کے بعد میرے دلائل کے انتظار کا کوئی جواز نہیں اور میری تحریر کی تکمیل کا کوئی فائدہ ہی نہیں
وہ اس لیے، کہ آپ نے نظریہ تو پہلے ہی قائم کر لیا ہوا ہے، آپ کے الفاظ میں جاوید احمد غامدی صاحب کا لہجہ صاف ظاہر ہے، میں نے جاوید احمد غامدی کو بہت زیادہ سنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی زبان بہت تر ہے اور گفتگو بڑی منظم و مرتب ہوتی ہے لیکن ہمیشہ ایک اصول یاد رکھیے
کسی بھی آیت یا حدیث کی تشریح و تفہیم کے لیے ہمیں سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہوں، یا اس زمانہ سے ملحق ہوں یا پھر اس زمانہ کے قریب ترین ہوں، انہی لوگوں کا موقف زیادہ درست ہوتا ہے،
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ غامدی صاحب اور چند دوسرے جدیدیت کے قائل مفکریں کو تو تو آپ تسلیم کریں، لیکن صحابہ، تابعین، تبع تابعین، فقہائے امت، اولیائے امت، محدثین کبار، اور مفسرین عظام جو15 سو سال سے بالاتفاق ایک بات کہتے چلے آرہے ہیں انکے موقف کو آپ غلط سمجھیں، اور غامدی صاحب بھی اس کو کبھی ”اجتماعی غلطی“ اور کبھی ”متفقہ غلطی“ کا نام دیں
برین عقل وانش ببایدگریست
(ایسی عقل دانش کا ماتم کرنا چاہیئے) سعدی

طفری بھائی جب پہلے سے آپ کا ذہن بن چکا ہے تو پھر میرے دلائل کا انتظار کس لیے؟

یہ ہے آپ کا طے شدہ موقف، یہ موقف میں غامدی صاحب اور انکے پروکاروں سے کئی بار ٹی وی چینلز پر سن چکا ہوں، جب کسی کا موقف طے شدہ ہو تو بات کرنا فضول اور دلائل دینا عبث ہو جاتا ہے، اس لیے میں اگر یہاں کچھ لکھوں گا تو اب اس نیت سے نہیں لکھونگا ظفری طلب علم کی نیت سے پوچھ رہے ہیں تو جواب دینا چاہیے، بلکہ اگر کچھ لکھا تو صرف اس غرض سے کہ لکھونگا کہ شاید رسول امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں شرف قبولیت مل جائے
والسلام من تبع الہدی

السلام علیکم محترم شاکر القادری بھائی آپ نے بالکل بجا فرمایا جب سے سلمان تاثیر اور آسیہ بی بی والا واقعہ ہوا تب سے لیکر سلمان تاثیر کہ قتل تک میں نے تمام ٹی وی چینلز پر قانون توہین رسالت کہ حوالہ سے ہونے والے قریبا تمام پروگرامز کو فالو کیا اور خاص طور پر وہ پروگرامز بھی دیکھے کہ جن میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے ٹیلی فونک شرکت کی اس میں کوئی شک نہیں کہ غامدی صاحب گفتگو کہ فن سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اپنے اس فن میں وہ ماہر ہیں لہزا یہی وجہ ہے کہ آج کی جدیدت زدہ نوجوان نسل انکی اسی انشاپردازی سے اس قدر متاثر ہے کہ غامدی صاحب کی اسی فن میں چھپی “ تدلیس و تلبیس “ بھی انھے تحقیق دکھائی دیتی ہے ۔ غامدی صاحب کی جس گفتگو کو جناب ظفری بھائی بار بار کوٹ کررہے ہیں اس میں بھی غامدی صاحب نے اپنا یہی فن دکھایا ہے اور اس پر مفتی منیب الرحمان صاحب نے انکو بالکل درست جواب دیا ہے کہ ایک اکیلے غامدی صاحب کہ فہم میں ایسے کیا سرخاب کہ پر لگ گئے ہیں کہ ہم جمیع امت کہ جمہور اور متفقہ مؤقف کو چھوڑ کر غامدی صاحب کہ فہم کو حجت مانیں ؟؟؟؟
یاد رہے کہ غامدی صاحب خود بھی جمہوریت کہ بہت بڑے قائل ہیں لہذا یہی وجہ ہے ایک ٹی وی پرگرام میں وہ اسلام اور جمہوریت پر گفتگو کرتے ہوئے فقہی کتب سے جمہور کی اصطلاح کو ملک میں جمہوری نظام قائم کرنے کہ جواز پر بطور استدلال و مقدمہ کہ پیش بھی کرچکے ہین پھر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ کہ جس پر ساری امت متفق ہے اور اگر نہ بھی ہو تو بھی کم ازکم جمہور تو ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں پر غامدی صاحب اہنے ہی اصول جمہوریت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟؟؟؟ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا اصل مسئلہ یہ ہے کہ نت نئے ٹی وی چینلز کی بھرمار اور اس پر طرفہ یہ ہے کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ اینکر پرسن یا صحافی بننے کہ چکروں میں مبتلا ہے لہذا اسی چکر میں لوگ اول تو حساس ایشوز کو عوامی بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ پروگرام کی ریٹنگ بڑھ جائے اور انکی مانگ اور ریٹ سو ایسے میں یہ نام نہاد اینکرپرسن کہ جنکو دین کی الف بے بھی نہیں معلوم ہوتی اپنے پروگرامز میں ایک دو این جی اوز زدہ شخصیات اور ایک آدھ نام نہاد روشن خیال سکالر اور ایک آدھ عالم دین کو بلوا کر عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔والسلام
 

شاکرالقادری

لائبریرین
البتہ سورہ المائدہ کی آیت 34 عموما قتل کے حق میں پیش کی جاتی ہے لیکن اسکا ذرا بھی غور سے مطالعہ کریں تو آیت کا پہلا حصہ ہی یہ کہہ رہا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اسکے رسول سے لڑتے ہیں ان کے بابت حکم دیا جارہا ہے۔ اسکا توہین رسالت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ واضع طور پر اسلام کے خلاف جنگ کرنے والوں کے بارے میں ہیں۔

سورہ احزاب کی آیت 61 میں بھی جن لوگوں کے قتل کا ذکر ہے اس سے پہلے آیت میں واضع طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ان منافقین اور یہود کی بات ہورہی ہے جو مدینہ میں افواہیں پھیلاتے تھے اورمنافقین تو دل میں آنحضور کو مانتے ہی نہیں تھے اوراسی لئے یہود کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے رہتے تھے۔ اب جو لوگ اس آیت کو توہین رسالت کے حق میں پیش کرتے ہیں وہ اصل میں ان منافقین اور یہود کے اس جرم پر پردہ ڈالتے ہیں کہ حالت جنگ میں بھی اور ایسی حالت میں بھی کہ مسلمان کمزوری کے عالم میں ہیں افواہیں پھیلا کرمایوسی کی فضا پیدا کرنا گویا کوئی جرم ہی نہیں۔ افواہیں پھیلا کر قوم میں مایوسی اور انتشار پیدا کرنا تو کھلم کھلا فساد ہے اور حدیث نبوی کے مطابق فساد قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔
میں نے اسی لیے سورہ احزاب کا آیات 57 تا 62 پیش کی تھیں کہ کوئی یہ الزام نہ لگائے کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہیں، خالی افواہ سازی کی بات نہیں، ان لوگوں کے دوسرے جرائم بھی بیان کیے گئے ہیں، پھر ذرا ان آیات کی شان نزول اور ان کی تشریح و تفسیر میں امہات کتب تفاسیر کیا کیا لکھتی ہیں وہ بھی پیش نظر رہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ آیات جہاں دوسرے جرائم کا احاطہ کرتی ہیں وہیں گستاخان رسول کی سزا کا بھی تعین کر دیتی ہیں۔

گستاخی کرنے والوں میں تو ہر طرح کے لوگ شامل تھے۔ آپ پر راکھ پھیکنے والے،راستے میں کانٹے بچھانے والے، آپ پر پتھر پھینکنے والے، گلے میں پٹکا ڈال کر کھینچنے والے، زہر دینے والے، برا بھلا کہنے والے، برملا تکذیب کرنے والے، گھر سے بے گھر کرنے والے، اور بارہا قتل کی کوشش کرنے والے۔

پورا مکہ ہی اس جرم کا مجرم تھا۔ لیکن جو لوگ ان چند افراد کی فہرست پیش کرتے ہیں جو گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے اور جن کے قتل کا حکم دیا گیا تھا وہ دراصل پورے مکہ کو انتہائی شریف النفس شہری ہونے کا سرٹیفیکٹ پیش کررہے ہوتے ہیں کہ صرف چند لوگ ہی گستاخ تھے ورنہ پورا مکہ تو بے چارہ بہت ہی شریف اور رسول کریم کی انتہائی عزت کرتا تھا۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اگر صرف چند لوگ ہی گستاخ تھے جن کے قتل کا حکم دیا گیا تھا تو پھر جنگ بدر میں ایک ہزارافراد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹانے آئے تھے وہ کون تھے۔ پھر جنگ احزاب میں یہ تعداد تین ہزار ہوگئی یہ کون تھے پورے مکہ میں صرف چند گستاخوں کی وجہ سے ہی ہجرت کرنا ضروری ہوگیا تھا؟ صرف چند لوگوں کو گستاخ رسول کہنا اور پورے مکہ کو شرافت کا سرٹیفیکٹ دینا میرے نزدیک تو یہی اصل توہین ہے۔ اگر گستاخ رسول کو معاف کرنے کا اختیار کسی امتی کو نہیں دیا جاسکتا تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو مکہ کے ہزاروں گستاخان رسول کو معافی کا عام سرٹیفیکٹ دے رہے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں کے اس سے زیادہ ناسمجھی اور نادانی کی بات کیا ہوسکتی ہے،
میرے بھائی! جب رسول خدا فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے خود اپنے حق اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ”لا تثریب علیکم الیوم“ کا نعرہ لگایا اور عام معافی کا اعلان کیا۔ کسی دوسرے کی جرات ہی کیا کہ وہ نبی مکرم کے گستاخ کو اپنے اختیارات سے معافی دے اور شرافت کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتا پھرے،کچھ عقل کے ناخن لیجئے، جن کو رسول خدا نے معاف کر دیا ہم کون ہوتے ہیں انہیں برا کہنے والے اور جنہیں رسول نے معافی نہیں دی ہماری کیا جرات ہے کہ ہم انہیں معاف کر دیں
کیا آپ نے وہ حکم ربی نہیں پڑھا:
اے اللہ کے رسول جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر لیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ آپ کے پاس آجائیں، اور گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور پھر اللہ کا رسول بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرے تو اللہ انکی توبہ قبول کرے گا۔
اس کو تو اللہ بھی معاف نہیں کرتا جس کو رسول نے معافی نہ دی ہو
انسانوں کی کیا جرات کہ وہ اللہ کے رسول کی توہین کرنے والے کو معاف کر دیں
برادر مکرم ۔ ۔ ۔! مکہ کے ہزاروں گستاخان رسول کو معافی کا عام سرٹیفیکٹ صرف اور صرف رسول اللہ نے دیا کسی اور نے نہیں ، ہاں اب کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو پیغمبر کےحقوق کو اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے دار ہیں اور گستاخوں کو معافی دینا چاہتے ہیں۔

اور پھراگرگستاخان رسول کو معاف کرنا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق تھا ایک عام امتی کا فرض اسکے برعکس تھا تو یہ امتی جن میں بڑے بڑے درجہ کے امتی بھی شامل تھے وہ اپنا یہ فرض منصبی ادا کئے بغیرمکہ سے کیوں ہجرت کرگئے۔ گلے میں پٹکا ڈالنے والا واقعہ تو خود ابوبکررضی اللہ تعالی کی موجودگی میں پیش آیا تھا۔ انہوں اسکے مجرم کو کیوں چھوڑدیا یا اگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سزا نہیں دے سکتے تھے تو بعد میں کیا امر مانع تھا۔ کیا نعوذ باللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ممتاز قادری سے بھی گئے گزرے تھے؟ تیرہ سال تک تمام صحابہ توہین رسالت کو دیکھتے رہے اور کسی کو اس فرض کا خیال نہیں آیا جو آج کے علما کو تڑپائے رکھتا ہے۔
اسی کو کہتے ہیں نا سمجھی اور نادانی! یہ اس زمانے کے وقعات ہیں جب مسلمان انتہائی مجبور بے بس لاچار اور معدود چند تھے اور جہاد و قتال کی آیات بھی نازل نہیں ہوئی تھی
میرے بھائی!
قرآن کریم 23 سال میں موقع بہ موقع نازل ہوا، جو صورت حالات ہوتی اس کے مطابق احکام نازل ہوتے، یونہی بلا سوچے سمجھے کوئی بات نہیں کہہ دینا چاہیئے، عوامی فورم پر اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن ایک ہی بار میں نازل کیوں نہ ہو گیا تھا۔۔ ۔ ۔ کبھی سوچا آپ نے ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن نے حالات کے ساتھ ساتھ نئے احکام جاری کیے۔۔ ۔ ۔ کچھ نئے احکام پرانے احکام کو منسوخ کرنے والے ہوتے ہیں جب تک کوئی شخص تمام تر صورت حال سے واقف نہ ہو اس وقت تک اسے کوئی بائی یوں ہی بلا سوچے سمجھے نہیں کہہ دیا چاہیئے، جب مسلمان بے بس تھے تو ہجرت کا حکم دیا گیا، صلح حدیبیہ کا حکم دیا گیا اور جب مسلمانوں کو قوت ملی تو قتال کا حکم بھی دیا گیا اور جنگ کا بھی
اب چھوٹی سی مثال دیتا ہوں:
قرآن میں ہے:
یا ایھا الذین آمنوا لا تقربوا الصلوٰة وانتم سکاریٰ (جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ)
کیا اس آیت کو پڑھ کر آپ یقین کر سکتے ہیں کہ نماز کے اوقات میں تو نشہ نہیں کرنا چاہیئے لیکن اس کے علاوہ اوقات میں نشہ جائز ہے
برادرم یہ ابتدائی حکم تھا
حتمی حکم بھی آگیا
جس کے تحت نشے کو مطلق حرام کر دیا گیا اور اس حتمی حکم نے ابتدائی حکم کو منسوخ کر دیا
 

شاکرالقادری

لائبریرین
اصل مسئلہ یہ ہے کہ نت نئے ٹی وی چینلز کی بھرمار اور اس پر طرفہ یہ ہے کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ اینکر پرسن یا صحافی بننے کہ چکروں میں مبتلا ہے لہذا اسی چکر میں لوگ اول تو حساس ایشوز کو عوامی بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ پروگرام کی ریٹنگ بڑھ جائے اور انکی مانگ اور ریٹ سو ایسے میں یہ نام نہاد اینکرپرسن کہ جنکو دین کی الف بے بھی نہیں معلوم ہوتی اپنے پروگرامز میں ایک دو این جی اوز زدہ شخصیات اور ایک آدھ نام نہاد روشن خیال سکالر اور ایک آدھ عالم دین کو بلوا کر عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔والسلام
اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ جب یہ نام نہاد ”روشن خیال سکالر“ یا این جی اور کی مادر پدر آزاد ”خواتین“ بات کر رہی ہوتی ہیں تو یہ اینکر پرسن اسقدر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ انہیں وقت کا احساس بھی نہیں ہوتا لیکن جب کسی عالم کی باری آتی ہے تو یہی اینکر پرسن انتہائی جاہلانہ انداز میں بار بار انکو ٹوکتے ہیں اور اس قدر قطع کلامی کرتے ہیں اور سوال در سوالکے حربوں سے ان کی گفتگو کو لوگوں تک پہنچے نہیں نہیں دیتے
 

ظفری

لائبریرین
برادرم ظفری! سلامت باشید!
آپ کے اس مراسلہ کے بعد میرے دلائل کے انتظار کا کوئی جواز نہیں اور میری تحریر کی تکمیل کا کوئی فائدہ ہی نہیںوہ اس لیے، کہ آپ نے نظریہ تو پہلے ہی قائم کر لیا ہوا ہے، آپ کے الفاظ میں جاوید احمد غامدی صاحب کا لہجہ صاف ظاہر ہے،
یعنی آپ نے اب سارا قصہ ہی ختم کردیا تو اب کیسی گفتگو ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
یعنی میں ایک مکتبِ فکر کا ہوں ( جیسا کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے ) تو اب کسی ابحاث کی گنجائش نہیں ۔ یہی بات اگر میں کسی اور کے بارے میں کہہ کر بحث ختم کروں تو کوئی بھی یہی نہیں تسلیم کرے گا کہ وہ کسی خاص مکتبِ فکر ہے ۔ کیونکہ یہاں ہر کسی کو اپنی بات منوانا مقصود ہوتی ہے ۔ اس لیئے وہ براہ راست اپنے استدلال کے بجائے بات کو اس سطح پر لیکر آجاتا ہے ۔ جہاں دلائل ، استدلال اور ثبوت ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور ایک خاص مکتب فکر سے منسوب کرکے سلسلے کو لپٹ دیا جاتا ہے ۔ خیر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔۔۔۔ یہاں اس قسم کا رویہ عام ہے ۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میری پوری بات سنے بغیر کسی مکتبِ فکر سے جوڑ دیا ۔ میں نے تو ابھی قانونِ رسالت کے بارے میں اپنی رائے کا بھی اظہار نہیں کیا تھا ۔ میری پہلی پوسٹ ہی اس بات کی شاہد ہے کہ اپنے ذہن سے کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرکے اس پر تھوپ دینا ہمارا نصب العین بن چکا ہے ۔ خدانخواستہ میں یہ سارا تسلسل آپ پر لاگو نہیں کر رہا ہوں ۔ مگر حیرت اس بات کی ہے کہ میں نے ابھی تک اپنی کوئی “ حتمی رائے “ اس بارے میں نہیں دی ۔ اور لوگوں نے میری بات کے مطابق اپنے ذہن میں نقشے بنالیئے ۔ میری متعدد پوسٹوں میں یہ بات نمایاں ہے کہ ہم اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ آیا کہ قانونِ رسالت کا حکم براہِ راست قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا ہے ۔ یا فہقاء کے اجماع کی مرہونِ منت ہے ۔ ابھی اس پر بات ہی شروع ہی تھی کہ ہمیشہ کی طرح یہ دھاگہ بھی ہلڑ بازی کا شکار ہوگیا ۔
والسلام
 

ظفری

لائبریرین
برادرم ظفری کی یہ بات انتہائی عجیب وغریب ہے کہ
”مگر کاپی پیسٹ اور لنکس فراہم کرنے سے گریز کریں کہ اگر آپ اس بحث میں اپنے استلدلال اور عملی قابلیت کی بناء پر حصہ نہیں لے سکتے تو پھر براہِ کرم خاموش رہیں ۔ اور سلسلہِ بحث کو تاراج مت کجیئے ۔ شکریہ “
دین تو نام ہے سند اور حوالے کا الاسناد من الدین لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء

آپ مجھے خود ہی چھیڑے ہیں ۔ جب میں آپ کی طرف گیند متوجہ ہوتا ہوں تو آپ پھر بدک جاتے ہیں ۔ جس پوسٹ میں غلطی سے آپ نے میرا شکریہ ادا کیا تھا ۔ اسے دوبارہ جا کر پھر سے پڑھیں ۔ میں نے کہا ہے کہ کوئی بھی حوالہ آپ کے اپنے استدلال اور عقل فہم کے ساتھ پیش ہو ۔ تاکہ کسی سے بحث کے دوران اندازہ ہو کہ کوئی کسی مقلد سے گفتگو کر رہا ہے یا کسی صاحب ِ فہم سے ۔ ورنہ میں نے بھی جواباً الف نظامی کی طرح اوراق پر اوراق یہاں پوسٹ کرنے شروع کردیئے تو ہلڑ بازی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی ۔ نبیل بھائی کی پوسٹ بھی جاکر پڑھیں ۔ جو انہوں نے اس تناظر میں پوسٹ کی ہے ۔ پتا نہیں آپ لوگ یہاں کیا پڑھتے ہیں اور کیا سمجھتے ہیں ۔ میرا تو لاحول پڑھنے کا دل کر رہا ہے خیر جانے دیں ۔ ;)
 

آبی ٹوکول

محفلین
اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ جب یہ نام نہاد ”روشن خیال سکالر“ یا این جی اور کی مادر پدر آزاد ”خواتین“ بات کر رہی ہوتی ہیں تو یہ اینکر پرسن اسقدر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ انہیں وقت کا احساس بھی نہیں ہوتا لیکن جب کسی عالم کی باری آتی ہے تو یہی اینکر پرسن انتہائی جاہلانہ انداز میں بار بار انکو ٹوکتے ہیں اور اس قدر قطع کلامی کرتے ہیں اور سوال در سوالکے حربوں سے ان کی گفتگو کو لوگوں تک پہنچے نہیں نہیں دیتے
بالکل ایسا ہی ہوتا ہے شاکر بھائی بلکہ اس طریق یہ لوگ عالم دین کہ منہ میں اپنی زبان ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں سلمان تاثیر کہ قتل کہ دوسرے روز والے کیپیٹل ٹالک میں حامد میر نے ایک ایسی ہی حرکت کی کہ جب مفتی منیب الرحمان صاحب نے فرمایا کہ یہ اتنا حساس مسئلہ ہے کہ علامہ اقبال علیہ رحمہ کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے نہیں تھے کوئی آرتھو ڈاک نہیں تھے مغرب کی یونی ورسٹیوں سے وہ ڈاکٹریٹ کیئے ہوئے تھے لیکن انھون نے غازی علم الدین شہید کہ موقع پر کیا کہا کہ ترخان کا بیٹا بازی لے گیا اور قائد اعظم صاحب نے انکا مقدمہ لڑا ۔۔۔۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ حامد میر نے ٹوکا اور ان کے منہ سے بات اچک کر اسکو اپنے معنٰی پہنا کر گویا ہوا کہ ۔ ۔ نزیر ناجی صاحب مفتی صاحب کا اس مسئلہ کو غازی علم دین شہید کہ ساتھ تشبیہ دینا آپکے خیال میں درست ہے ۔ ۔ ۔ جبکہ ہر ادنٰی بھی مفتی صاحب کی گفتگو کا مطلب انکی تمام گفتگو کہ تناظر میں صاف صاف سمجھ سکتا تھا کہ مفتی صاحب نے علامہ اقبال علیہ رحمہ کا زکر اس لیے کیا کہ انکی حیثیت تمام طبقات کہ نزدیک مسلمہ ہے یعنی دینی اور سیکولر ہر دو طبقے اقبال پر عمومی اعتبار سے متفق ہیں لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قانون توہین رسالت کی سزا اور قانون فقط مولویوں یا ملاؤں کے استنباطی فہم کا شاخسانہ ہے تو انکے لیے مفتی صاحب نے علامہ صاحب کو کوٹ کرکے یہ بتلانے کی کوشش کی کہ ایک مغرب کے اداروں میں پڑھا ہوا شخص جوکہ کبھی مدرسے گیا ہی نہیں وہ بھی اس مسئلہ میں جمہور امت اور علمائے دین کہ ساتھ ہے جبکہ نہ ہی وہ کوئی ملاں یا مولوی ہے کہ آپ ان پر شدت پسندی کا فتوٰی لگاسکیں وہ تو مغربی سیکولر ادروں کہ پڑھے ہوئے تھے پھر کیا وجہ ہوئی کہ جب انھے بھی اس قسم کے واقعہ کی اطلاع ملی تو انھوں نے ایسا کرنا اپنے لیے باعث سعادت گردانا ۔ ۔ ۔لیکن آپنے دیکھا کہ حامد میر نے کس طرح سے مفتی صاحب کہ صاف اور سیدے سادھے استدلال کو اپنی زبان میں کس طرح سے رگیدتے ہوئے تبدیل کرکے بات کا رخ اور معنی ہی تبدیل کردیئے ۔ ۔ ۔ ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
 

شاکرالقادری

لائبریرین
یعنی آپ نے اب سارا قصہ ہی ختم کردیا تو اب کیسی گفتگو ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
یعنی میں ایک مکتبِ فکر کا ہوں ( جیسا کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے ) تو اب کسی ابحاث کی گنجائش نہیں ۔ یہی بات اگر میں کسی اور کے بارے میں کہہ کر بحث ختم کروں تو کوئی بھی یہی نہیں تسلیم کرے گا کہ وہ کسی خاص مکتبِ فکر ہے ۔ کیونکہ یہاں ہر کسی کو اپنی بات منوانا مقصود ہوتی ہے ۔ اس لیئے وہ براہ راست اپنے استدلال کے بجائے بات کو اس سطح پر لیکر آجاتا ہے ۔ جہاں دلائل ، استدلال اور ثبوت ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور ایک خاص مکتب فکر سے منسوب کرکے سلسلے کو لپٹ دیا جاتا ہے ۔ خیر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔۔۔۔ یہاں اس قسم کا رویہ عام ہے ۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میری پوری بات سنے بغیر کسی مکتبِ فکر سے جوڑ دیا ۔ میں نے تو ابھی قانونِ رسالت کے بارے میں اپنی رائے کا بھی اظہار نہیں کیا تھا ۔
برادرم ظفری! نہ تواؒلحمد للہ دلائل ختم ہوئے ہیں اور نہ ہی ثبوت، اس مسئلہ کو قرآن، سنت، عمل صحابہ، تابعین تبع تابعین، اولیائے امت، فقہا، محدثین اور پندرہ سو سالہ اجتماعی فکر سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے،
آپ کا یہ کہنا بجا نہیں ہے کہ میری پوری بات سنے بغیر مجھے ایک مخصوص مکتہ فکر سے جوڑ دیا گیا ہے، برادر عزیز جب بھی کسی علمی سطح کا مقالہ لکھا جاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا خاکہ مرتب کیا جاتا ہے اور اس خاکے کی روشنی میں ہی آپ کی یونیورسٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پیایچ ڈی سطح کی تحقیق کے لیے یہ موضوع مناسب ہے یا نہیں اور اس خاکہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق کہلانے کی مستحق ہے بھی یا نہیں،
گوکہ آپ نے ]پورا مقالہ پیش نہیں کیا، لیکن اس پورے مقالہ کے لیے جس آوٹ لائن کا تعین آپ نے کیا وہ ہی پورے مقالہ کے تھیم کو واصح کر رہی ہے، آپ نے جو کچھ لکھا وہ اسی مفصل مقالہ کا اجمالی خلاصہ ہے اور آپ نے نہایت واضح اندا میں بتادیا کہ آپ آگے جاکر کیا ثابت کریں گے اور آپ کے دلائل اورمنطقی گفتگو کی سمت کیا ہوگی،
 

شاکرالقادری

لائبریرین
میں نے کہا ہے کہ کوئی بھی حوالہ آپ کے اپنے استدلال اور عقل فہم کے ساتھ پیش ہو ۔ تاکہ کسی سے بحث کے دوران اندازہ ہو کہ کوئی کسی مقلد سے گفتگو کر رہا ہے یا کسی صاحب ِ فہم سے ۔
برادرم ظفری!
آپ کی بات اس حد تک بہت اچھی ہے کہ کوئی بھی حوالہ پیش کیا جائے تو اس کے ساتھ اپ کے اپنے استدلالات اور فہم وفراست نظر آرہی ہو، لیکن تقلید سے متعلق آپ کا رویہ کچھ بہتر نہیں آپ کے یہ الفاظ:
تاکہ کسی سے بحث کے دوران اندازہ ہو کہ کوئی کسی مقلد سے گفتگو کر رہا ہے یا کسی صاحب ِ فہم سے ۔
اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ آپ تقلید کرنے والوں کو فہم و فراست سے عاری جانتے ہیں آپ کا یہ رویہ انتہائی غیر محتاط اور کسی کی دل آزاری کا باعث ہو سکتا ہے، اب ذرا اس سلسلہ میں استدلال بھی ملاحظہ ہو:
اس دنیا میں کوئی ایسا شخص آپ مجھے دکھا سکتے ہیں جس کے گلے میں تقلید کا قلادہ نہ ہو؟
ہر شخص عقل دانش اور علم و فراست شکم مادر سے سے ساتھ نہیں لاتا،
پیدا ہونے کے بعد گود سے گور تک وہ شعوری اور لا شعوری طور پر تقلید کرتا رہتا ہے اور تقلید کا قلادہ ہمیشہ اس کے گلے میں پڑا رہتا ہے،
کوئی ماں باپ کی تقلید کر رہا ہے تو کوئی اپنے اساتدہ کی تقلید میں مصروف ہے
کوئی اپنے پسندیدہ ہیرو اورآئیڈیل جیسا بننے کی کوشش میں مصرف ہے، تو کوئی اپنے سیاسی و سماجی لیڈر کی اقتدا میں لگا ہوا ہے۔
کوئی نیکی کی طرف راغب ہوکر اولیا ٔ اللہ کی تقلید کر رہا ہےتو کوئی بدی کا نمائندہ بن کر شیطان کے چلیوں کی رہنمائی میں اپنا سفر زندگی طے کر رہا ہے، الغرض
جو لوگ غیر مقلد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی دراصل اس دعوی و نظریہ میں کسی نہ کسی کی تقلید کر رہے ہوتے ہیں،
صحت کے معاملہ میں حکیم اور ڈاکٹر سبھی بڑے بڑے امامان طب کی تقلید کر رہے ہیں، کوئی عام آدمی دوا تجویز کرے تو جان کا خطرہ لا حق ہو جاتا ہے،
بڑے بڑے ملکی ادارے اس لیے دیوالیہ ہو رہے ہیں کہ وہاں متعلقہ شعبہ کے ایکسپرٹ لوگوں کو سربراہ نہیں بنایا جا رہا،
ان اداروں کو بھی ایسے ہی صاحبان فہم و فراست تباہ کر رہے ہیں جو متعلقہ شعبے کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتے لیکن عقل و شعور ان کے پاس وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، چنانچہ انکے عقل و شعور کی یہ وفرت اپنی جیبیں بھرنے اور ذاتی مفادات کے تحفظ میں صرف ہوتی ہے اور نتیجہ کے طور پر ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔
یہی معاملہ اسلام کے ساتھ بھی در پیش ہے، کوئی ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے آپ کو نابغہ روزگار اسلامی مفکر سمجھ کر لوگوں کے دلوں اور ایمانوں میں نقب لگاتا ہے تو کوئی ڈینٹل سرجن اٹھ کر دین کی سرجری شروع کر دیتا ہے
ہمیں خوشی ہے کہ ہم مقلد ہیں اور ماہرین کی ماہرانہ رائے کو تسلیم کرتے ہیں، اگر ہمیں کہیں اطمینان قلبی نہیں ملتا تو کسی دوسرے ماہر اور ایکسپرٹ کی رائے سے استفادہ کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی مالکی ہے تو کوئی حنفی، کوئی شافعی ہے تو کوئی حنبلی
تقلید کے بارے میں موجودہ ”دانش“ کا رویہ قابل افسوس ہے ۔ آخر تقلید کہتے کس کو ہیں؟ تقلید در اصل ایکسپرٹ اوپینین ( ماہرانہ رائے) کا نام ہی تو ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں قبول ہے لیکن دین کے معاملہ میں ہم اس کو جہالت کے نام سے تعبیرکرتے ہیں،
کیا ہم میں سے کوئی فرد، یہ دعوی کر سکتا ہے کہ:
وہ قرآن ، حدیث، سیرت طیبہ کا کما حقہ احاطہ کر سکتا ہے،
کیا ہم سے میں کوئی علوم قرآنی اور علوم حدیث پر کامل دستگاہ رکھتا ہے،
کیا ہم میں سے کوئی عربی زبان و ادب، گرامر، منطق، علم رجال، اہل عرب کے رسم و رواج، اس زمانے کے سیاسی ثقافتی پس منظر، جاہلی ادب، اقوال آئمہ و فقہا سے کما حقہ آگاہ ہے،
ہماری حیثیت تو بس اتنی ہی ہے کہ ہم سردرد کی صورت میں ڈسپرین تو استعمال کر سکتے ہیں لیکن کسی بھی پیچیدہ بیماری کی صورت میں ہمیں ڈاکٹر کا مشورہ درکار ہو گا اور ڈاکٹر کی ہدایت پر بلا چون و چراں عمل کرنا ہوگا۔ ۔ ۔ اور
اگر ہمیں نسخہ تجویز کرنا ہی ہے تو ہمیں اس کے لیے کم از کم ایم بی بی ایس اور پھر اس کے بعد جنتا چاہے کسی خاص شعبہ میں تخصص حاصل کرنا ہوگا
بعینہ تقلید کا معاملہ بھی ہے، جس مسئلہ کو آپ پوری طرح نہیں سمجھ سکتے اس کے بارے میں علومی دینیہ کے ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے اور وہ اپنی فہم و فراست کے ساتھ جو مسئلہ کا حل بتائیں اس پرعمل کیا جاتا ہے، یہ علیحدہ بات کہ اس میں بھی خطا کا امکان بہرحال موجود ہوتا ہے
لیکن جب ایک معاملہ میں کئی سو سالوں تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں ماہرین ایک جیسی رائے رکھتے ہوں اور ایک ہی نسخہ تجویز کر رہے ہوں تو اس نسخہ کی صحت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا
آج کا ایک شخص اگر سینکڑوں سالوں کے تجربہ، اور علم کی روشنی میں متفقہ طور پر سامنے آنے والی رائے کو ”اجتماعی غلطی“ یا متفقہ غلطی کا نام دے تو اس کی فہم و فراست پر ماتم تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے دانش ور قرار نہیں دیا جا سکتا:

شاتم رسول کی سزا سے متعلق بھی پانچ رکنی عدالتی بینچ نے متعلقہ شعبہ کے ماہرین سے آرا طلب کی تھیں
فاض عدالت کے سامنے کئی روز تک ماہرین اسلامی علوم نے لا تعداد دلائل پیش کیے، فقہا، اور اکابرین اسلام سے تواتر اور تسلسل کے ساتھ اس قانوں کے حق میں ثبوت فراہم کیے، تب عدالت نے اس قانوں میں موجود عمر قید کی سزا کو موت سے تبدیل کیا۔
اگر کسی کو اس سلسلہ میں دلائل کی ضرورت ہے تو وہ فیڈرل شریعت کورٹ کی عدالتی کارروائی پڑھ لے، اس فیصلہ سے متعلق پی ایل ڈی کا مطالعہ کر لے، اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ عدالت یا پاکستان کی مقننہ سے اس قانون سازی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے اور اپنے دلائل دے اور اگر اپنی بات منوا سکتا ہے تو منوالے ۔
 

ظفری

لائبریرین
برادرم ظفری! نہ تواؒلحمد للہ دلائل ختم ہوئے ہیں اور نہ ہی ثبوت، اس مسئلہ کو قرآن، سنت، عمل صحابہ، تابعین تبع تابعین، اولیائے امت، فقہا، محدثین اور پندرہ سو سالہ اجتماعی فکر سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے،
استادِ محترم ! آپ بجا فرما رہے ہیں ۔ مگر ۔۔۔۔ ہم ( ہم سب ) نے اس وقت تو قرآن و سنت کے احکامات پر ہی اپنے راستے مختلف سمتوں میں ڈال دیئے ہیں ۔ جو دین کا ماخذ اور سب سے مستند دین کو سمجھنے کا ذریعہ ہے ۔ پھر عمل صحابہ، تابعین تبع تابعین، اولیائے امت، فقہا، محدثین اور پندرہ سو سالہ اجتماعی فکر کا سوچنا تو دور کی بات ہے ۔ لیکن ایک غور طلب بات ہے کہ جس طرح صحابہِ کرام ، تابعین تبع تابعین، اولیائے امت، فقہا، محدثین نے پندرہ سو سال پہلے اجماع کیا تھا کہ آج کےدور میں تمام علماء کیا یہ کام نہیں کرسکتے ۔ قرآن و سنت پر تو کوئی اپنے رائے دینے کا تو سوچ ہی نہیں سکتا، مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ بعد کے لوگوں سے کہیں کسی بات کو نہ سمجھنے کا امکان رہ گیا ہو ۔ اگر وہ ہماری طرح انسان نہیں تھے ( کم از کم آج کل علماء کرام کی طرح ) تو پھر ان کی بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرلینا چاہیئے ۔ اگر ایسا نہیں ہے اور کوئی بڑے ادب سے ان سے اختلاف کرتا ہے تو کم از کم اس کی اعتراض کا کوئی عملی جواز بھی ہونا چاہیئے ۔ یہاں تو بات فوراً لعنت و طعن پر آجاتی ہے ۔
آپ کا یہ کہنا بجا نہیں ہے کہ میری پوری بات سنے بغیر مجھے ایک مخصوص مکتہ فکر سے جوڑ دیا گیا ہے، برادر عزیز جب بھی کسی علمی سطح کا مقالہ لکھا جاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا خاکہ مرتب کیا جاتا ہے اور اس خاکے کی روشنی میں ہی آپ کی یونیورسٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پیایچ ڈی سطح کی تحقیق کے لیے یہ موضوع مناسب ہے یا نہیں اور اس خاکہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق کہلانے کی مستحق ہے بھی یا نہیں،
گوکہ آپ نے ]پورا مقالہ پیش نہیں کیا، لیکن اس پورے مقالہ کے لیے جس آوٹ لائن کا تعین آپ نے کیا وہ ہی پورے مقالہ کے تھیم کو واصح کر رہی ہے، آپ نے جو کچھ لکھا وہ اسی مفصل مقالہ کا اجمالی خلاصہ ہے اور آپ نے نہایت واضح اندا میں بتادیا کہ آپ آگے جاکر کیا ثابت کریں گے اور آپ کے دلائل اورمنطقی گفتگو کی سمت کیا ہوگی،
چلیں میں اس تھیم کے مطابق ہی اپنے دلائل اور استدلال پیش کرتا ۔ مگر کیا اس تھیم کا کوئی عملی اور عقلی جواب نہیں موجود تھا ۔ کہ اس تھیم کو ایک خاص مکتبِ فکر سے جوڑ دیا گیا ۔ میں کہہ چکا ہوں کہ جن اختلاف کا پہلو ہر کسی کے نکتہِ نظر میں پایا جاتا ہے ۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ سب باٹا کی شوز کی طرح فیکڑی سے بن کر نکلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمائش اور امتحان کے لیئے پیدا کیا ہے ۔ اور سارے اسکیم کا دارومدار اسی عقل و فہم سے ہے ۔ جس پر ہم ایک دوسرے پر اعتراضات کرتے ہیں ۔ کتنی عجیب سی بات ہے کہ آج غامدی صاحب کے طرز فکر کو ایک الگ رنگ دیا جاتا ہے ۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ جن تابعین تبع تابعین، اولیائے امت، فقہا، محدثین اور پندرہ سو سالہ اجماع کی بات ہم کررہے ہیں ۔ وہاں کتنے مکتب ِ فکر موجود تھے ۔ آج بھی کتنے مکتبِ فکر جو اجماع کر چکے ہیں ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھنے سے بھی گریزاں ہیں ۔ حتی کی صحابہ کرام کے دور میں بھی اختلافات رواں رہے ۔ پہلے خلیفہ کے انتخاب میں ہی انصار الگ ہوگئے ۔ اس کے بعد کے دورِ خللافت میں کیا ہوا ۔ ؟
قرآن و سنت کے بعد اگر کوئی کسی کی رائے اور اجماع کی بات کرے گا تو وہاں اختلاف لازمی سامنے آئے گا ۔ اب اگر کوئی کسی مکتب ِ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ سامنے والا راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہے تو اس کو قائل کرے ۔ صرف انگلیاں اٹھانے سے کام نہیں چلے گا ناں محترم شاکر صاحب ۔ علمی بحث میں دلائل ، استدلال اور ثبوت ہی سب کچھ ہوتے ہیں ۔ جس کے قوی ہونگے لوگ اس کی بات مان لیں گے ۔ ورنہ کس پر فتوی لگا کر اس پر بحث سے اجتناب کرنا کیا معنی رکھتا ہے سوائے اس کے اس کے دلائل کے جواب میں کوئی ٹھوس استدلال نہیں ۔ قادیانیوں اور دیگر لوگوں کی طرح غامدی صاحب بھی چھپ کرکسی نئے دین کی تعریف کر رہے ہوتے تو بات سمجھ بھی آتی تھی ۔ مگر وہ شخص سب کے جھتے میں گھس کر جو بات کرتا ہے ۔ اس پر پھر فتوی کسنے والوں کی گھیگی بند ہوجاتی ہے ۔ چونکہ آپ کا سب بڑا اعتراض ہی غامدی صاحب کی ذات ہے اس لیئے میں یہ ساری بات انہی کے حوالے سے کر رہا ہوں ۔ ان شاء اللہ جلد ہی ان کی کچھ وڈیو میں یہاں لگاؤں گا ۔ جن میں ان کے منکرِ حدیث ، دین میں افراتفری پھیلانے کے الزامات پر غور کرنے کی دعوت دوں گا ۔ اور دیکھیں سب مکتب ِ فکر سے انہوں نے مکالمہ کیا ہے ۔ جن سے آپ ، دیگر اور ہم سب وابستہ ہیں ۔ منیب الرحمن کا جواب ہی سب لوگوں کے اس عمل کی تائید کردیتا ہے ۔ جس کے بارے میں بڑی آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ جب آدمی کے پاس عقلی اور علمی دلیل ختم ہوجاتی ہے تو پھر ذاتیات پر آجاتا ہے ۔
 

ظفری

لائبریرین
برادرم ظفری!
آپ کی بات اس حد تک بہت اچھی ہے کہ کوئی بھی حوالہ پیش کیا جائے تو اس کے ساتھ اپ کے اپنے استدلالات اور فہم وفراست نظر آرہی ہو، لیکن تقلید سے متعلق آپ کا رویہ کچھ بہتر نہیں آپ کے یہ الفاظ:
اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ آپ تقلید کرنے والوں کو فہم و فراست سے عاری جانتے ہیں آپ کا یہ رویہ انتہائی غیر محتاط اور کسی کی دل آزاری کا باعث ہو سکتا ہے، اب ذرا اس سلسلہ میں استدلال بھی ملاحظہ ہو:
اس دنیا میں کوئی ایسا شخص آپ مجھے دکھا سکتے ہیں جس کے گلے میں تقلید کا قلادہ نہ ہو؟
استادِ محترم ۔۔۔ ایک بار پھر گستاخی معاف ۔۔۔۔ جب تک میری بات آپ صحیح طور پر نہیں سمجھیں گے ۔ پیچیدگیاں پیدا ہوتیں رہیں گی ۔ اسی بناء پر میں نے اپنی سب سے پہلی پوسٹ میں اس رحجان کی طرف تمہید باندھی تھی ۔ تقلید اور مقلد کے حوالے سے میرا یہ استدلال ہے ۔

“ تقلید سے مراد یہ ہے کہ آدمی یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے ہر صورت میں فلاں آدمی کی بات ماننی ہے اور اس پر غور نہیں کرنا کہ ، آیا اس کی بات صحیح ہے یا غلط یعنی بات کو دلیل کی بنیاد پر سمجھنے کے بجائے یہ فیصلہ کرلیناہے کہ بس یہ عالم جو بھی بات فرمائے گا میں تو اسی کو مانوں گا۔اس رویے کے نتیجے میں ظاہر ہے شخصیت پرستی اور فرقہ پرستی کو ہواملتی ہے ۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہ رویہ درست نہیں ہے۔طالب علم اور مقلد میں فرق یہ ہوتاہے کہ طالب علم اگرچہ اپنی رائے خود نہیں بناتاوہ کسی عالم کی رائے ہی کو مانتاہے لیکن اسے پہلے سمجھتاہے اور پھر اس کو میرٹ پر ماننے یانہ ماننے کا فیصلہ کرتاہے جبکہ مقلد عالم کی بات کو محض شخصیت کی بنیاد پر مانتاہے یا رد کرتاہے۔ “
میرا خیال ہے کہ اس زیادہ میں اپنی بات کسی اور بہتر انداز سے پیش کرنے سے قطعی قاصر ہوں ۔ سو اس کے لیئے پیشگی معافی کا خواستگار ہوں ۔
 

ظفری

لائبریرین
برادرم ظفری!
تقلید کا معاملہ بھی یہی ہے، جس معاملہ کو آپ پوری طرح نہیں سمجھ سکتے اس کے بارے میں علومی دینیہ کے ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے اور وہ اپنی فہم و فراست کے ساتھ جو مسئلہ کا حل بتائیں اس پر عمل کیا جاتا ہے، یہ علیحدہ بات کہ اس میں بھی خطا کا امکان بہرحال موجود ہوتا ہے
لیکن جب ایک معاملہ میں کئی سو سالوں تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں ماہرین ایک جیسی رائے رکھتے ہوں اور ایک ہی نسخہ تجویز کر رہے ہوں تو اس نسخہ کی صحت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا
آج کا ایک شخص اگر سینکڑوں سالوں کے تجربہ، اور علم کی روشنی میں متفقہ طور پر سامنے آنے والی رائے کو ”اجتماعی غلطی“ یا متفقہ غلطی کا نام دے تو اس کی فہم و فراست پر ماتم تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے دانش ور قرار نہیں دیا جا سکتا

یہ دو متضاد باتیں ہیں ۔ جب غلطی کا امکان ہے تو شک و شبہ کیوں روا نہیں رکھا جاسکتا ۔ ؟؟؟؟؟

کیا یہ رحجان میری اوپر کی پوسٹ جس میں تقلید اور مقلد کی تعریف کرنے کی میں نے کوشش کیا ہے ۔ اس دائرے میں نہیں آتی ۔ ؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
“ تقلید سے مراد یہ ہے کہ آدمی یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے ہر صورت میں فلاں آدمی کی بات ماننی ہے اور اس پر غور نہیں کرنا کہ ، آیا اس کی بات صحیح ہے یا غلط یعنی بات کو دلیل کی بنیاد پر سمجھنے کے بجائے یہ فیصلہ کرلیناہے کہ بس یہ عالم جو بھی بات فرمائے گا میں تو اسی کو مانوں گا۔اس رویے کے نتیجے میں ظاہر ہے شخصیت پرستی اور فرقہ پرستی کو ہواملتی ہے ۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہ رویہ درست نہیں ہے۔طالب علم اور مقلد میں فرق یہ ہوتاہے کہ طالب علم اگرچہ اپنی رائے خود نہیں بناتاوہ کسی عالم کی رائے ہی کو مانتاہے لیکن اسے پہلے سمجھتاہے اور پھر اس کو میرٹ پر ماننے یانہ ماننے کا فیصلہ کرتاہے جبکہ مقلد عالم کی بات کو محض شخصیت کی بنیاد پر مانتاہے یا رد کرتاہے۔ ۔


میرے بھائی اب رہنے بھی دیجیئے آپ سے ادنٰی سی مراسلت رکھنے والا ہر شخص یہ بخوبی جانتا ہے کہ آپ نے صرف فکر غامدی سے بہت متاثر ہیں بلکہ اکثر دینی معاملات میں فکر غامدی کہ بہت بڑے ترجمان بھی ہیں کیا ان معاملات میں غامدی فکر کی ترجمانی آپکی تقلید غامدی کا شاخسانہ نہیں ہے ؟؟؟
چلیں غامدی صاحب کو تو دین کہ بیشتر علوم پر مہارت ہوگئی مگر کیا میں آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتا کہ آپ علوم دینیہ میں سے کتنے علوم پر دسترس رکھتے ہیں کہ جنکی بنیاد پر آپ محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی ہر ہر رائے کو اولا طالبانہ نقطہ نظر سے پرکھتے ہیں اور پھر اس طالبانہ پرکھ میں ہی آپکو یہ ملکہ عظیم حاصل ہوجاتا ہے ہے کہ آپ دوسروں کہ مقابلے میں غامدی صاحب کی رائے کو میرٹ پر قرار دیتے ہیں آخر آپ کے پاس سوائے آپکی عقل کہ ایسا کونسا علمی پیمانہ ہے کہ جس پر پرکھ کر آپ اپنے سے بڑی علمی شخصیت کی رائے کو میرٹ یا خلاف میرٹ ہونے کے سرٹیفیکیٹ سے نوازتے ہیں مجھے افسوس ہے کہ سوائے آپکے زاتی فہم و عقل کہ آپکے پاس اس کا کوئی زریعہنہ ہوگا اور جہاں تک بات ہے مجرد عقل کی تو وہ ہر دو اشخاص میں مختلف فیہ ہوتی ہے لہذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ کسی ایک شخص کو دوران گفتگو اصل نفس مسئلہ کی تفہیم کی بجائے محض کسی شخص کی انشاء پردازی اور گفتگو کا ترتب و تعدل ہی دلیل لگنے لگے جیسا کہ آپ سمیت اکثر افراد کہ ساتھ غامدی صاحب کو سن کر ہوتا ہے ۔
 

ظفری

لائبریرین
یہ خطہ دینے سے پہلے کم از کم آپ کچھ اپنے قابلیت کے بارے میں تو بتادیتے ۔ تاکہ صحیح طور پر میں آپ کے مقلد ہونے کردار ادا کرسکتا ۔ ویسے ایک روحانی بابا تو پہلے سے محفل میں موجود ہیں ۔ آپ کو کیا کہا جائے یہ آپ کے اگلے جواب کی روشنی میں سوچا جائے گا ۔ ;)

مزے کی بات یہ ہے کہ میں غامدی صاحب کے بارے میں اعتراضات کا جواز مانگتا ہوں ۔ لوگ مفتی منیب الرحمن بن جاتے ہیں ۔ یعنی سیدھا لعنت و طعن ۔ میرا خیال ہے بغلیں جھانکتے تو اچھا ہوتا ۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top