مستند ہو گئی، معتبر ہو گئی - لطیف آفاقی

literature

محفلین
مستند ہو گئ معتبر ہو گئ
زندگی تم سے مل کر امر ہو گئ​

کشت دل میں جو ٹھنی تمنائوں کی
گاڑھ رکھی تھی بڑھ کر شجر ہو گئ​

اس قدر دائرے خواہشوں کے بڑھے
زندگی دائروں کا سفر ہو گئ​

قد بڑھاتے رہے ہم منا جات کا
شاخ نخل دعابے اثر ہو گئ​

ہم چراغوں کی ڈھارس بندھاتے رہے
جانے کیسے ہوا کو خبر ہو گئ​

دن کو لایا تصور میں ہم نے لطیف
رات کچھ اور بھی مختصر ہو گئ​


لطیف آفاقی - الریاض​
ََِ
 


مست۔۔ن۔۔د ہو گ۔۔ئی معتبر ہو گ۔۔ئ۔ی
زندگی تم سے مل کر امر ہو گ۔ئ۔۔ی

کشت دل میں جو ٹ۔۔ہنی تمناؤں کی
گاڑ رکھی تھی بڑھ کر شجر ہو گئ۔ی

اس قدر دائرے خواہشوں ک۔۔ے بڑھے
زندگی دائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔روں کا سفر ہو گئی

قد بڑھات۔۔۔۔۔ے رہے ہم من۔۔۔ا ج۔ات کا
شاخ نخ۔۔۔ل دع۔۔ابے اثر ہو گ۔۔۔ئ۔۔ی

ہم چراغوں کی ڈھارس بندھاتے رہے
جانے کیسے ہوا کو خبر ہو گ۔۔ئ۔۔ی

دن کو لایا تصور میں ہم نے لطیف
رات کچھ اور بھی مختصر ہو گئ۔۔ی


لطیف آفاقی - الریاض​
ََِ

برادرم گستاخی کی معافی چاہتا ہوں ۔ کچھ سجا کر یہاں تحریر کر رہا ہوں امید ہے برا نہ مانیں گے ۔ حروف کے انتخاب میں کچھ ایسی اغلاط تھیں جو عموما ہم سب سے ہو جایا کرتی ہیں ۔ اتنی پیاری غزل کے ساتھ یہ نا انصافی دیکھی نہ گئی سو مکرر پیش کردی ۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top