آئیں گپ شپ کریں

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سید عاطف علی

لائبریرین
ساری تدبیریں تو آپ ہی دے رہے ہیں جناب۔ ہم تو بس آپ کے کہنے پر عمل کر رہے ہیں۔ اس لیے اس لڑائی کے کرتا دھرتا آپ ہی ہوئے۔
Master Mind
یہ سراسر الزام ہے بھئی ۔ یہاں ہر چیز کا دستاویزی ثبوت موجود ہے ۔
ہم نے محض سرفروشی پر پھل فروشی کو ترجیح دینے کی بات کی تھی جس میں سے صلح جوئی کا اشارہ بھی نکلتا ہے۔
باقی خریدنے اور بیچنے والے جانیں ۔ سانوں کی ۔
 
دونوں ہی چیزیں ہیں بھائی۔ ٹیکس بھی اور فی یونٹ قیمت میں اضافہ بھی۔ واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔
اگر پاکستان میں ہوتا تو پھر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جاتا ،آپ کے وہاں پر اِس کے لئے کیا کیا جاتا ہے؟
 
آخری تدوین:

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
شکایت تو یہاں بھی درج کی جاتی ہیں لیکن جب عمل نہیں ہوتا تو وہ احتجاج پر منتقل ہوجاتے ہیں
جی بالکل۔
لیکن یہاں کچھ نہ کچھ بہتری کی صورت نکل ہی آئے گی۔
دراصل فی یونٹ دن بھر میں قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جو ٹیکسز ہیں، ان کی وجہ سے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پٹرول کی بھی اسی طرح 19 کرون تک قیمت بڑھ گئی تھی لیکن پھر وقت کے ساتھ کم ہوتے ہوئے چودہ پندرہ تک آ گیا ہے۔ بجلی کا بھی بہتر ہوجائے گا
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
گل بہن لڑائی کے لیے پر تول رہی ہے۔ لگتا ہے اب کوئی سرجیکل اٹیک کیا جائے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟
پھر گل بہن بھی کہے گی "ٹی از فینٹیسٹک" 🤣🤣🤣
 

سید عاطف علی

لائبریرین
ہم تو ہر وقت تیار رہتے ہیں جنگ کے لیے۔
معاشرے میں ہر سطح پر برپا سیاسی خاندانی معاشی مذہبی و مسلکی جنگوں سے تنگ کیوں نہیں آتے لوگ۔
سیاسی مفادات
خاندانی برتری
مسالکی اختلاف
معاشی استحکام
عہدے اور مقام کا اسکتبار
غرض جہاں دیکھو جنگ ہی تو برپا ہے ۔
حتی کہ معصوم فرشتوں نے بھی اسی جنگ و جدال کے خدشے پر انسان کی تخلیق پر اعتراض کیا تھا ۔ لیکن مشیت ایزدی کی ابدی حکمت کے پردوں میں ابن آدم کے اندر رکھے گئے انسانی جواہر کا ظہور منظور تھا ۔ کیا دنیا کے معاشروں میں جاری ان جنگوں کے سائے میں جاری کشت و خوں کے انباروں میں وہ انسانی جواہر پنپ کر پروان چڑھ سکتے ہیں جو آدمی کی تخلیق کے منشائے اولی ہیں ۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top