کیا آپ ووٹ دینگے؟

ساجداقبال

محفلین
18 فروری کو پاکستان میں الیکشن ہوا چاہتا ہے۔ میرا سوال کیا آپ اس الیکشن میں ووٹ دینگے؟
اگر ہاں تو کس پارٹی کو اور کیوں؟
اگر ناں تو کیوں نہیں دینگے ووٹ؟

میں ذاتی طور پر اس الیکشن میں جس میں، میں پہلی دفعہ ووٹ دینے کیلیے اہل ہوں، ووٹ نہیں دونگا۔ سادہ سی وجہ ہے کہ آزاد الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی غیرموجودگی میں یہ محض خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں۔ آپ کیا خیالات رکھتے ہیں؟
 

شمشاد

لائبریرین
میں اگر پاکستان میں ہوتا تو ضرور ووٹ دیتا۔ ووٹ ضرور دینا چاہیے۔
اب یہ بتانا کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کیوں، یہ تو خفیہ رکھا جاتا ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میں اس بات سے ضرور اتفاق کرتا ہوں‌ کہ ووٹ‌دینا چاہئے۔ یہ قومی فریضہ ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ووٹ‌ کو خفیہ رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے
 

زیک

مسافر
میں پاکستان سے باہر ہوں اس لئے ووٹ نہیں دے سکتا۔ مگر اگر پاکستان ہوتا تو ضرور ووٹ دیتا۔ میرے خیال میں سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں کوئی فرشتے نہیں ہیں مگر تھوڑا تھوڑا کر کے ہم الکیشن اور قانون کے ذریعے ملک میں بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ lesser evil تو اس پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دیا جائے جو باقیوں کے مقابلے میں کم برا ہو۔

اب یہ سوال کہ میں کس کو ووٹ دیتا۔ اگر بینظیر زندہ ہوتی تو ممکن تھا کہ پی‌پی‌پی کو ووٹ دے دیتا کہ بہرحال پاکستان کی پارٹیوں میں سے وہ ایک اصل پارٹی ہے۔ مگر زرداری کو میں ووٹ نہیں دے سکتا اور بلاول کے boy king کے قصے نے بھی مجھے خاصا مایوس کیا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کی پی‌ایم‌ایل‌نون واحد بڑی پارٹی ہے جو الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور ساتھ وکلاء اور ججوں کی حمایت میں کم از کم کچھ بیان ہی دے رہی ہے۔ اس لئے میرا ووٹ مسلم لیگ نون کو جاتا۔
 

ظفری

لائبریرین
کچھ دن قبل میں جیو پر پروگرام " جوابدہ " دیکھ رہا تھا ۔ مہمان نواز شریف تھے اور چھبتے ہوئے سوال کرنے والا افتخار احمد ۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ نواز شریف ایک انتہائی سادہ آدمی نکلا ۔ نواز شریف کے اندازِ گفتگو اور سیاسی شعور نے مجھے ایسا باور کروایا کہ نواز شریف کو دراصل کوئی اور ہی چلاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے میرا یہ خیال ہو مگر اس انٹرویو میں نواز شریف کی شخصیت جو مجھ پر ظاہر ہوئی وہ ایک عام اور سادے سے آدمی جیسے تھی ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
کچھ دن قبل میں جیو پر پروگرام " جوابدہ " دیکھ رہا تھا ۔ مہمان نواز شریف تھے اور چھبتے ہوئے سوال کرنے والا افتخار احمد ۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ نواز شریف ایک انتہائی سادہ آدمی نکلا ۔ نواز شریف کے اندازِ گفتگو اور سیاسی شعور نے مجھے ایسا باور کروایا کہ نواز شریف کو دراصل کوئی اور ہی چلاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے میرا یہ خیال ہو مگر اس انٹرویو میں نواز شریف کی شخصیت جو مجھ پر ظاہر ہوئی وہ ایک عام اور سادے سے آدمی جیسے تھی ۔
ابھی کچھ ہی دن قبل کسی دھاگے پر پڑھا تھا کہ نواز شریف واش روم جانے تک کی اجازت ابا جی سے لیا کرتے تھے
 

قیصرانی

لائبریرین
نواز شریف کی اگر تقاریر دیکھی جائیں تو وہ مرحومہ بے نظیر کی تقاریر سے بدرجہا بہتر ہوتی تھیں۔ خیر اس میں‌ بے نظیر کی کمزور اردو کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ اب نواز شریف کے پیچھے شہباز شریف کا دماغ‌ چل رہا ہے۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی تھیں‌ کہ بے نظیر کو ہٹا کر زرداری اور نواز شریف کو ہٹا کر شہباز شریف کو سامنے لایا جائے گا۔ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ دونوں جذباتی ہمدردیاں تو سمیٹ لیں گے لیکن انہیں پھر منظر عام سے ہٹانا آسان ہو جائے گا
 

ظفری

لائبریرین
نواز شریف کی اگر تقاریر دیکھی جائیں تو وہ مرحومہ بے نظیر کی تقاریر سے بدرجہا بہتر ہوتی تھیں۔ خیر اس میں‌ بے نظیر کی کمزور اردو کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ اب نواز شریف کے پیچھے شہباز شریف کا دماغ‌ چل رہا ہے۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی تھیں‌ کہ بے نظیر کو ہٹا کر زرداری اور نواز شریف کو ہٹا کر شہباز شریف کو سامنے لایا جائے گا۔ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ دونوں جذباتی ہمدردیاں تو سمیٹ لیں گے لیکن انہیں پھر منظر عام سے ہٹانا آسان ہو جائے گا
سچی بات تو یہ ہے قیصرانی کہ میں نے نواز شریف کی تقریر دیکھی یا سنی ہی نہیں ۔ 90 کے اوائل سے یہاں ‌مقیم ہوں ۔ جب نواز شریف آیا تھا تو اس وقت ان سیاسی سرگرمیوں میں کہیں سے بھی ملوث نہیں تھا ۔ صرف تعلیم پر توجہ تھی اور کچھ عرصے بعد میں یہاں آگیا ۔ ہاں البتہ بینظیر کی تقاریر ضرور سنی ہیں ۔ اور ہر تقریر میں بینظیر کا سیاسی شاطرانہ ذہن صاف واضع نظر آیا ہے ۔ یعنی وہ ایک مکمل طور پر ایک منجھی سیاست دان نظر آئیں ۔ جبکہ دونوں شریف برادران کی گفتگو سے مجھے ہمیشہ ایسا تاثر ملا کہ دونوں بیشک ایک منجھے ہوئے کاروباری خصوصیت کی حامل ہونگے ۔ مگر انتہائی سطح کی سیاسی شعبدہ بازیاں ان کے بس کی بات نہیں ۔ اس لیئے یہ خیال پیدا ہوا کہ ان کے پسِ پشت کوئی اور ہی ہے جو یہ سارے پارٹی کے منشور اور معاملات کو چلاتا ہے ۔ میں پھر کہوں گا کہ شاید یہ میرا قیاس ہو مگر مجھے یہی کچھ محسوس ہوا ہے ۔
 

جہانزیب

محفلین
میں‌پاکستان میں‌ہوتا تو ضرور ووٹ‌ دیتا، ووٹ‌نہ دے کر اپنے ہی پاوں‌ پر کلہاڑی مارنے والی بات ہے، اور اگر ہم یہی کہیں‌ کہ چند لوگ ہی ہمیشہ سے اقتدار میں‌ہیں‌تو یہ بھی صرف ووٹ‌نہ دینے کی وجہ سے ہیں‌۔ ویسے میرا ووٹ‌مسلم لیگ نون کی طرف ہوتا۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ ووٹ ضرور دینا چاہیے۔ چاہے ایک کی بجائے احتجاج کے طور پر سب پر مہر لگا دیں۔
 

شعیب خالق

محفلین
الیکشن کے سلسلے میں‌ چند ورکر مجھ سے ملے تو میں نے یہی جواب دیا کہ میں کسی کو ناراض نہیں کرسکتا اسلئے ووٹ نہیں دونگا لیکن آپ کے مشورے پر ووٹ ڈالنے جائوں گا ضرور لیکن سب پر مہر لگا ئوں گا سب خوش :)
 

شمشاد

لائبریرین
ضرور بنا ہو گا آپ کا ووٹ، باہر ہیں تو کیا ہوا۔
ویسے آپ فکر نہ کریں آپ کا ووٹ کاسٹ ہو جائے گا۔ آپ نہ سہی آپ کا کوئی بھائی بند آپ کے حصے کا ووٹ ڈال آئے گا۔
 
میں‌کراچی کا باشندہ ہوں‌اور اگر کراچی میں‌ہوتا تو ووٹ ضرور دیتا۔
جو بھی ایم کیو ایم کے خلاف اچھا امیدوار ہوتا اس کو دیتا۔ زیادہ تر امکان یہ تھاکہ پیپلز پارٹی کودیتا۔ اگر ان کا امیدوار اچھانہ ہوتا تو نون کو ورنہ کسی اچھے ازاد امیدوار کو۔مگر پھر کہہ رہاہوں‌کہ پیپلز پارٹی کو اسلیے ووٹ دینا چاہیے کہ یہی پارٹی پاکستان کو بچا سکتی ہے۔
 

اظہرالحق

محفلین
سچی بات تو یہ ہے قیصرانی کہ میں نے نواز شریف کی تقریر دیکھی یا سنی ہی نہیں ۔ 90 کے اوائل سے یہاں ‌مقیم ہوں ۔ جب نواز شریف آیا تھا تو اس وقت ان سیاسی سرگرمیوں میں کہیں سے بھی ملوث نہیں تھا ۔ صرف تعلیم پر توجہ تھی اور کچھ عرصے بعد میں یہاں آگیا ۔ ہاں البتہ بینظیر کی تقاریر ضرور سنی ہیں ۔ اور ہر تقریر میں بینظیر کا سیاسی شاطرانہ ذہن صاف واضع نظر آیا ہے ۔ یعنی وہ ایک مکمل طور پر ایک منجھی سیاست دان نظر آئیں ۔ جبکہ دونوں شریف برادران کی گفتگو سے مجھے ہمیشہ ایسا تاثر ملا کہ دونوں بیشک ایک منجھے ہوئے کاروباری خصوصیت کی حامل ہونگے ۔ مگر انتہائی سطح کی سیاسی شعبدہ بازیاں ان کے بس کی بات نہیں ۔ اس لیئے یہ خیال پیدا ہوا کہ ان کے پسِ پشت کوئی اور ہی ہے جو یہ سارے پارٹی کے منشور اور معاملات کو چلاتا ہے ۔ میں پھر کہوں گا کہ شاید یہ میرا قیاس ہو مگر مجھے یہی کچھ محسوس ہوا ہے ۔

میرے خیال میں خیال ایک سچے پاکستانی ووٹر کے خیالات ایسے ہی ہیں ۔ ۔ ۔ جو سیاست کو "چالبازیوں" اور "شعبدہ بازیوں" کی باتیں سمجھتا ہے ۔ ۔ مگر سیاست کو خدمت سمجھنے والے کو کبھی ووٹ نہیں دے گا ۔ ۔ ۔

نواز شریف کے بارے میں ایک دفعہ کسی نے کہا تھا ، کہ بی بی اور "گنجے" میں صرف ایک بڑا فرق ہے ، بی بی لوٹ کر باہر لے جائے گی ، یہ لوٹ کر "رائے ونڈ" ۔ ۔ بی بی اگر بڑی کرپٹ ہے ۔ ۔ تو یہ اس سے کم کرپٹ ہے ۔ ۔ ۔ تو ہماری ایمانداری یہ ہی ہو گی ۔ ۔ کہ ہم کم کرپٹ کو ووٹ دیں ۔ ۔ ۔

ویسے الیکشن کمیشن کی سائیٹ کے مطابق میرا ووٹ موجود ہے ۔ ۔ اور اگر پچھلی دفعہ کی طرح قونصلیٹ میں ووٹنگ ہوئ تو میں تو جاواں گا ۔ ۔ ٹھپے پر ٹھپا لگانے کے لئے ۔ ۔ ۔۔
 
اب کے میں پہلی بار ووٹ کے لیے اہل ہوا ہوں اور آس پاس سب کی مخالفت کے باوجود میرا ارادہ نواز شریف کو ووٹ دینے کا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
یہاں تو سفارتخانے میں‌ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ ووٹ ڈال سکیں۔

ریفرنڈم کی دفعہ تو اس ملک کے تین شہروں میں بندوبست کیا گیا تھا۔
 
Top