آئی ٹی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے محفلین یہاں آئیں

رانا

محفلین
اس کے علاوہ ایک اور طریقہ بھی ہے۔ :)
اچھا!!! ہم نے تو پوری احتیاط کی تھی کہ بظاہر پڑھنے والے کو محسوس بھی نہ ہوکہ کچھ الگ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی طریقہ ہے تو سوچنا پڑے گا۔:)
سعود بھائی کی نظر ادھر پڑ گئی تو انہوں نے نبیل بھائی کو فون کھڑکا دینا ہے کہ یار یہ تو کھلے عام دھڑلے سے محفل پر ہی محفل کو ہیک کرنے کے طریقے ڈسکس کررہے ہیں۔ کتنے بے جگرے Pirates of the Cyber ہیں۔:LOL:
 

رانا

محفلین
ویسے آئی ٹی کا دھاگہ ہو سائبر کرائم اور ہیکنگ کا تذکرہ نہ ہو ایسا ناممکن ہے۔ لیکن لطف تو یہ ہے کہ یہاں صرف تذکرہ نہیں کھلے عام عملی مظاہرے ہورہے ہیں۔:)
 

محمد وارث

لائبریرین
57104093_10218638504490722_1206811515831713792_n.jpg
 

حسیب

محفلین
اور میں پروگرامنگ کی طرف دیکھ کر زارو قطار روتی تھی۔۔۔ :unsure:
دماغ کے سارے کونےکھدرے استعمال کرکے بھی ککھ پلے نہیں پڑتا تھا ۔۔۔ :p
خاص کر جاوا اور سی پلس پلس ۔۔۔ فائنل پروجیکٹ سی شارپ میں کیا ۔۔اسی لیے سب سے زیادہ مزا سی سارپ کو کرنےمیں آیا ۔۔ باقی انسان ٹچ رہے تو بہت کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔ پرائمری ٹیچرز بن کر الف ب ہی یاد رہ جاتی۔۔۔:sneaky::p
میری.چھوٹی بہن کا بھی یہی حال ہے. ویسے ابھی وہ بی ایس کے دوسرے سیمسٹر مین ہے اور ابھی سی پلس پلس ہی پڑھ رہے ہیں
 

حسیب

محفلین
آئی ٹی والوں سے ایک بات پوچھنی تھی کیا آئی ٹی کمپنیز میں ایسا رحجان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ورکر اپنے گھر یا جہاں مرضی رہ کر ہی کام کریں
 

رانا

محفلین
آئی ٹی والوں سے ایک بات پوچھنی تھی کیا آئی ٹی کمپنیز میں ایسا رحجان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ورکر اپنے گھر یا جہاں مرضی رہ کر ہی کام کریں
مجھے ابھی ایک جاب آفر ہوئی تھی چند دن پہلے کہ ہفتے میں چند گھنٹوں کے لئے دفتر آنا ہوگا، کام آپ گھر سے ہی کریں گے۔ مجھے تو سوئچ کرنے میں دلچسپی ہی نہیں تھی اس لئے منع کردیا۔ عموماََ ایسی کمپنیوں میں جاب مستقل نہیں ہوتی بلکہ جب تک پروجیکٹس ہیں تب تک جاب ہے۔
اسکے علاوہ سابقہ کمپنی میں ہم دفتر میں کام کرتے تھے لیکن ریموٹ مشینوں پر۔ تمام مشینیں سرور پر تھیں اور ہر پروجیکٹ کی الگ مشین ہوتی تھی۔ اور ایک پروجیکٹ پر جتنے ڈیویلپر ہوتے اتنی ہی مشینیں سرور پر بنادی جاتیں۔ ہم اپنے اپنے پی سی سے ریموٹ ڈیسکٹاپ کے ذریعے ان مشینوں پر کام کرتے تھے۔ اب کسی ڈیویلپر کو چھٹی کرنی ہوتی اور کام بھی ضروری ہوتا تو اسے اجازت ہوتی کہ گھر سے ہی ریموٹ ڈیسکٹاپ کے ذریعے اپنی مشین پر کام کرلے۔
 
بہت سی کمپنیز یہ سہولت دیتی ہیں۔
جواب تھوڑا تفصیل طلب ہے کہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔
ایک صورت تو رانا بھائی نے بتائی ہے، اور یہ بہت عام ہے۔ کہ دفتر آ کر ہی کام کرنا ہوتا ہے، مگر کسی کی مجبوری کی صورت میں اسے گھر سے کام کی اجازت ہوتی ہے۔
کچھ کمپنیز ایسی ہوتی ہیں کہ اگر کوئی بوجوہ مستقلاً گھر سے کام کرنا چاہ رہا ہو, تو اس کی بھی اجازت دیتی ہیں۔
کچھ کمپنیز پراجیکٹس کے لیے عارضی ٹیم ہائیر کرتی ہیں تو انھیں بھی گھر سے کام کی اجازت ہوتی ہے۔
کچھ کمپنیز مکمل طور پر گھر سے کام کی اجازت دیتی ہیں، مگر عموماً ایسی کمپنیز سکرین ریکارڈنگ کے ذریعہ وقت کا حساب لگاتی ہیں۔
کچھ پلیٹ فارم ایسے ہیں جو ہائیر ہی گھر سے کام کرنے والوں کو کرتے ہیں، مثلاً کراس اوور۔ لیکن یہ سکرین ریکارڈنگ کے ذریعے وقت کا کڑا حساب کرتے ہیں، اور لوگ عموماً تنگ آ جاتے ہیں۔
ایک دوست نے کچھ عرصہ کراس اوور پر کام کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف ٹولز پر گزارے گئے وقت کو گنتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاہے آپ نے کام کی غرض سے ہی کوئی انٹرنیٹ براؤزنگ وغیرہ کی ہو، وہ وقت شامل نہیں ہوتا۔ بہت نپا تلا حساب کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طے شدہ وقت پورا کرنے کے لیے زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔
 

رانا

محفلین
اس فیلڈ میں ایک یہ بھی تجربہ ہوا کہ اپنی ایجادات یعنی اپنے بنائے ہوئے ٹولز کو اپنے سینئرز کے ساتھ شئیر کرنا اچھی بات ہے لیکن اگر سینئر کم ظرف ہو تو پھر اپنے ٹولز کو اپنی ذات کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔:)
خاکسار کی پہلی جاب پر تھری ٹیئر آرکیٹیکچر پر ایپلیکیشنز بنتی تھیں۔ اس کے لیے پہلے ہر ٹیبل کے مطابق ایک ڈیل بنانا ایک بیل بنانا پھر اس ایس پی لکھنا پھر بائینڈنگ کے میتھڈز لکھنا۔ اس میں کافی وقت خرچ ہو جاتا تھا اور پھر اس کے لیے میتھڈ بھی ڈیفائن کرنا تو اس میں کافی وقت خرچ ہو جاتا تھا۔ جب ایک ایسا ٹیبل بنانا پڑا جس میں 80 سے زائد فیلڈز تھیں تو احساس ہوا کہ یہ تو بڑا درد سری والا کام ہے اور اچھا خاصا وقت گھنٹوں کے حساب سے اس میں صرف ہو جاتا ہے۔ خاکسار کی توجہ اللہ تعالی نے اس طرف پھیر دی کہ اس کے لیے ایک ٹول بنایا جائے جو یہ سارا کام آٹومیٹک کردے۔ کام کے ساتھ ساتھ جب جب تھوڑی سی فرصت ملتی تو اس پر کام کرنا شروع کر دیتا اور دو سے تین دن میں یہ ٹول تیار ہوگیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ اس کو بس ٹیبل بتانا ہوتا تھا کہ اس ٹیبل کے لیے ہمیں یہ سارے کام کرنے ہیں وہ خود ہی ڈیل بھی بنا دیتا بیل بھی بنا دیتا اس کا پروسیجر بھی لکھ دیتا اور اس کی بائینڈگ کے میتھڈز بھی لکھ دیتا۔ تو وہی کام جو کہ اسی ٹیبل کے لیے خاکسار نے گھنٹے لگا کر کیا تھا چند سیکنڈز میں ہو گیا۔ اور پھر اپنے سینئر کے ساتھ شیئر کیا کہ یہ دیکھیں یہ ٹول بنایا ہے۔ پہلے تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ سارا کام خودکار بھی ہو اور ٹھیک بھی ہورہا ہو۔ پھر جب میں نے اسے بتایا کہ میں نے ابھی حالیہ جتنے فارمز بنائے ہیں وہ اسی سے بنائے ہیں تو انہوں نے اس کو خود ٹیسٹ کیا۔ اور اس کے بعد یہ ہوا کہ اب خاکسار کے اوپر ورک لوڈ مزید بڑھا دیا۔ جب میں یہ کہتا ہے کہ یہ تو بہت زیادہ کام ہے تو کہتے اس ٹول کے ذریعے یہ بیل ڈیل وغیرہ تو چند سیکنڈ کا کام ہے اس کے بعد کون سا کام اتنا رہ جاتا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ ان سے اس ٹول کو چھپا کر ہی رکھنا بہتر تھا۔:)
 
اس فیلڈ میں ایک یہ بھی تجربہ ہوا کہ اپنی ایجادات یعنی اپنے بنائے ہوئے ٹولز کو اپنے سینئرز کے ساتھ شئیر کرنا اچھی بات ہے لیکن اگر سینئر کم ظرف ہو تو پھر اپنے ٹولز کو اپنی ذات کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔
اس بات سے میں یہ سمجھا کہ کسی سینئر نے آپ کے کام کو اپنا بتا کر آگے پیش کیا۔ مگر معاملہ کچھ اور تھا۔
میں اپنی محنت اور آر اینڈ ڈی پر کسی اور کی تعریف سن چکا ہوں، اس وقت یہ کافی اذیت ناک تھا۔ مگر اب مجھے ان چیزوں کی پروا نہیں ہوتی۔ اگر میں نے کچھ ایسا کیا ہے جو میرے لیے یا کسی اور کے لیے فائدہ مند ہے تو یہی میری تسلی کے لیے کافی ہوتا ہے۔ :)
 
جب میں یہ کہتا ہے کہ یہ تو بہت زیادہ کام ہے تو کہتے اس ٹول کے ذریعے یہ بیل ڈیل وغیرہ تو چند سیکنڈ کا کام ہے اس کے بعد کون سا کام اتنا رہ جاتا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ ان سے اس ٹول کو چھپا کر ہی رکھنا بہتر تھا۔:)
شکر کریں کہ آپ کو اللہ حافظ نہیں کہہ دیا کہ آپ کا کام تو اب یہ ٹول کر دیتا ہے۔
 

عباس رضا

محفلین
اس بات سے میں یہ سمجھا کہ کسی سینئر نے آپ کے کام کو اپنا بتا کر آگے پیش کیا۔ مگر معاملہ کچھ اور تھا۔
میں اپنی محنت اور آر اینڈ ڈی پر کسی اور کی تعریف سن چکا ہوں، اس وقت یہ کافی اذیت ناک تھا۔ مگر اب مجھے ان چیزوں کی پروا نہیں ہوتی۔ اگر میں نے کچھ ایسا کیا ہے جو میرے لیے یا کسی اور کے لیے فائدہ مند ہے تو یہی میری تسلی کے لیے کافی ہوتا ہے۔ :)
”ہوں۔۔۔!“ ڈاکٹر داور مسکرائے اور اُن کی یہ مسکراہٹ بے جان بھی نہیں تھی۔ وہ چند لمحے عمران کی آنکھوں میں دیکھتے رہے پھر بولے۔ ”مجھے ان چیزوں کی پرواہ کم ہوتی ہے۔۔۔۔ ابھی ایسے ہی ہزارہا ادھورے پلان میرے ذہن میں موجود ہیں اس لئے ایک آدھ کے ضائع ہوجانے سے میری فکری صلاحیتوں پر کیا اثر پڑسکتا ہے۔۔۔ میرے لئے یہی خوشی کیا کم ہے کہ میں اپنے ذہن کی عظیم بلندیوں سے ان چوروں پر حقارت کی نظریں ڈالتا ہوں۔“ (پیاسا سمند، عمران سیریز از ابن صفی)
 
میرے لئے یہی خوشی کیا کم ہے کہ میں اپنے ذہن کی عظیم بلندیوں سے ان چوروں پر حقارت کی نظریں ڈالتا ہوں۔
نہ ہی یہ زعم ہے کہ کوئی انوکھے اور عظیم کام کیے ہیں اور نہ ہی یہ میری خوشی کی وجہ ہے۔ :)
میرے کسی بھی کام سے کسی کا بھلا ہو جائے تو یہی میری خوشی کے لیے کافی ہے۔ :)
 

رانا

محفلین
اس بات سے میں یہ سمجھا کہ کسی سینئر نے آپ کے کام کو اپنا بتا کر آگے پیش کیا۔ مگر معاملہ کچھ اور تھا۔
میں اپنی محنت اور آر اینڈ ڈی پر کسی اور کی تعریف سن چکا ہوں، اس وقت یہ کافی اذیت ناک تھا۔ مگر اب مجھے ان چیزوں کی پروا نہیں ہوتی۔ اگر میں نے کچھ ایسا کیا ہے جو میرے لیے یا کسی اور کے لیے فائدہ مند ہے تو یہی میری تسلی کے لیے کافی ہوتا ہے۔ :)
نہیں ایسا تو نہیں ہوا البتہ سینئر نے میری پرفارمنس کو جتنی میں نے دکھائی تھی وہ آگے باس کو شو نہیں کی۔ اس کا اندازہ اسطرح ہوا کہ یہ میری پہلی جاب کے پہلے مہینے کی بات ہے۔ تین ماہ بعد پروبیشن مکمل ہونے پر قوی امید تھی کہ اچھا انکریمنٹ ملے گا۔ لیکن ملا صفر انکریمنٹ۔۔ بہت دل خراب ہوا اور تہیہ کرلیا کہ اس جاب کو تو چھوڑنا ہی ہے یہاں دل نہیں لگانا۔ لیکن جاب سوئچ کرتے کرتے بھی سوا تین سال لگ گئے۔ اسکی وجہ ایگریمنٹ کی زنجیریں تھیں۔
 
آخری تدوین:
Top