نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ، متعدد افراد ہلاک

جاسم محمد

محفلین
فرق یہ ہے کہ انگریز بغیر کسے ٹھوس نظریے کے ایک نسلی جبلت پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
متفق۔ اگر تعداد کا حساب لگایا جائے تو پوری انسانیت میں بھوری النسل انسان سب سے زیادہ ہیں۔ جن میں دیسی انڈو پاک بھی شامل ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی اس پر فخر نہیں کیا۔ پتا نہیں ان گوروں کو کیا مسئلہ ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
54358277_2873637539528761_5518592419089612800_n.jpg
 

فلسفی

محفلین
"اسلامی دہشت گردی" یہ اصطلاح ایک دہشت گرد "انسان" کی تخلیق کردہ محسوس ہوتی ہے۔
وکی پیڈیا پر یہ ٹرمینالوجی بہت سے واقعات کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔ جن میں زیر بحث واقعے جیسے دوسرے واقعات بھی ہے فرق صرف یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والے غیر مسلم تھے۔
 
متفق۔ اگر تعداد کا حساب لگایا جائے تو پوری انسانیت میں بھوری النسل انسان سب سے زیادہ ہیں۔ جن میں دیسی انڈو پاک بھی شامل ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی اس پر فخر نہیں کیا۔ پتا نہیں ان گوروں کو کیا مسئلہ ہے۔
ایسی مہمان نواز قوم جو گولیوں سے مہمان نوازی کرتی ہے۔ ان کا کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ شروع سے ایسے ہی تھے اور ایسے ہی رہیں گے۔

شرمندہ ہونے کی بجائے کامنٹ سیکشن ، جہاں لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں، میں آپ کو اس کی مذمت کی بجائے کہیں زیادہ اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے گورے جانور ملیں گے ، آپ خود دیکھ لیں۔ یہ اور کہاں ہوتا ہے؟ شاید چین اور جاپان جو ان سے ملتی جلتی ہائی آئی قیو ، گورے رنگ کی، شمالی نسلیں ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جاسم المعروف سابقہ عارف کریم کا پیٹرن نمبر 2: ہر دھاگہ میں قادیانی لچ تلنا اور اسرائیل دوستی نبھانا۔
 

جاسم محمد

محفلین
شاید چین اور جاپان جو ان سے ملتی جلتی ہائی آئی قیو ، گورے رنگ کی، شمالی نسلیں ہیں۔
چین جاپان کوریا وغیرہ بھی ایشیائی بھوری النسل ہی ہے۔ وہ بے تحاشا میک اپ کے ساتھ گوری لگتی ہے :)
میرے خیال میں وہ نسل کے معاملہ میں اتنا شدت پسند نہیں ہیں جتنا مغربی اقوام میں ہیں۔
 
چین جاپان کوریا وغیرہ بھی ایشیائی بھوری النسل ہی ہے۔ وہ بے تحاشا میک اپ کے ساتھ گوری لگتی ہے :)
ہمیں فرق نہیں پڑتا۔

انگریزوں نے جس طرح کالوں اور بھوروں کا جینا حرام کر رکھا ہے، جنگ کو چھوڑ کر ایک چینی یا جاپانی کو کتنا سہنا پڑتا ہے؟ کیا یہ حملہ کسی جاپانی رہائشی علاقے میں آپ سو سال میں بھی تصور کر سکتے ہیں؟

اور ہاں، اگر آپ اپنی نسل کے خیر خواہ انسان ہیں، آپ کو گوری نسل کے فتنوں جیسے اسرائیل اور قادیانیت کے دفاع کی کیا ضرورت ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
انگریزوں نے جس طرح کالوں اور بھوروں کا جینا حرام کر رکھا ہے، جنگ کو چھوڑ کر ایک چینی یا جاپانی کو کتنا سہنا پڑتا ہے؟ کیا یہ حملہ کسی جاپانی رہائشی علاقے میں آپ سو سال میں بھی تصور کر سکتے ہیں؟
ان مشرقی ایشیائی اقوام کے ساتھ انگریز یا امریکی یہ سب کر چکے ہیں۔ تاریخ پڑھیں کہ کیسے ان سامراجی طاقتوں نے چین، جاپان، ویت نام، فلی پائن وغیرہ پر اپنا تسلط قائم رکھا۔
اور پھر کیسے ان قوموں نے سخت ریفارمز، محنت اور قابلیت سے اپنا لوہا منوایا اور آج مغرب کی ٹکر پر آکر کھڑی ہو گئی ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور ہاں، اگر آپ اپنی نسل کے خیر خواہ انسان ہیں، آپ کو گوری نسل کے فتنوں جیسے اسرائیل اور قادیانیت کے دفاع کی کیا ضرورت ہے؟
کیونکہ یہاں پر اکثر غلط پراپگنڈہ پر مبنی معلومات کو پھیلایا جاتا ہے۔ اسرائیلی معاشرہ بھی دیگر مماک کے معاشروں جیسا ہی ہے۔ جہاں اندرونی انتشار، ٹوٹ پھوٹ عام ہے۔
شماریات کے مطابق اسرائیل کا صرف 40 فیصد طبقہ سیکولر ہے۔ باقی مذہبی یہودی یا عرب مسلم، مسیحی، درزی وغیرہ ہیں۔
PF_2016.03.08_israel-01-01.png


قادیانیوں نے مذہبی لشکر کی صورت میں جہاد کشمیر پر پاک فوج کا ساتھ دیا تھا۔ آپ اسے نہیں مانتے، نہ مانیں۔ مگر اسے نہ ماننے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔
 
ان مشرقی ایشیائی اقوام کے ساتھ انگریز یا امریکی یہ سب کر چکے ہیں۔ تاریخ پڑھیں کہ کیسے ان سامراجی طاقتوں نے چین، جاپان، ویت نام، فلی پائن وغیرہ پر اپنا تسلط قائم رکھا۔
اور پھر کیسے ان قوموں نے سخت ریفارمز، محنت اور قابلیت سے اپنا لوہا منوایا اور آج مغرب کی ٹکر پر آکر کھڑی ہو گئی ہیں۔
بات اتنی مشکل نہیں ہے۔ صحیح ہے ان کے مابنین جنگیں ہوئیں لیکن پھر انگریزوں کی آپ میں بھی تو کئی جنگیں ہوئیں۔ اور اگر ہالاکاسٹ کے قصے میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے، تو صرف ستر اسی سال پہلے تک گورے ایک دوسرے کو اونز میں بھیجتے تھے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اس دہشت گرد نے بندوق پر کیا کیا لکھ رکھا تھا اس اس کا نظریاتی پیغام کیا نکلا ؟
نیوزی لینڈ مساجد حملہ آور کے اسلحہ پر مسلم عیسائی جنگوں کی تاریخ لکھی تھی
حامد الرحمان جمع۔ء 15 مارچ 2019

1592546-newzealandattack-1552655070-781-640x480.jpg

حملے میں ملوث مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرلیا گیا جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے فوٹو:انٹرنیٹ

نیوز ی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 4 دہشت گردوں نے دو مساجد میں فائرنگ کرکے 49 نمازیوں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا ہے۔

اس واقعے میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ ہے جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے۔ حکام کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ مسلمان مخالف اور انتہا پسند مسیحی گروہ کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی ہولناک واردات سرانجام دی۔ بریوک نے 2011 میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔

gun-1552654859.jpg


نیوز ی لینڈ کے حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائی ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نام لکھے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔

brenton-tarrant-1552654856.jpg


معرکہ بلاط الشہداء

حملہ آور نے اپنی بندوق پر لکھا Tours 732۔ اس نے دراصل Battle of Tours کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے۔ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔

یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور د بورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔

3-1552654853.jpg


مسلمانوں کی کامیابی سے مسیحی دنیا خوف زدہ ہوگئی۔ فرانس کے بادشاہ نے دیگر عیسائی ممالک سے مدد طلب کی تو انہوں نے امدادی فوجیں روانہ کیں۔

توغ کے قریب دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحیوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اس کے باوجود وہ بہت بہادری سے لڑے۔

10 روز تک جنگ کے بعد مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اگر مسلمان یہ جنگ جیتے تو آج یورپ سمیت پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔

2-1552654849.jpg


مشہور مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی معرکہ آرا تاریخ “تاریخ زوال روما” میں لکھا ’’عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفورڈ میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتی‘‘۔

sebastiano venier

حملہ آور نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر دوسری عبارت لکھی ’sebastiano venier‘۔

سباستیانو وینئر اطالوی کمانڈر تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لیپانٹو میں اطالوی دستے کی قیادت کی تھی۔ جنگ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو یورپ کے مسیحی ممالک کے اتحاد اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ تھی جس میں مسیحی اتحادی افواج کو کامیابی نصیب ہوئی۔

مسیحی فوج میں اسپین، جمہوریہ وینس، پاپائی ریاستیں، جینوا، ڈچی آف سیوائے اور مالٹا کے بحری بیڑے شامل تھے۔

sebastiano-1552655609.jpg


یہ معرکہ یونان کے مغربی حصے میں خلیج پطرس میں پیش آیا جہاں عثمانی افواج کا ٹکراؤ عیسائی اتحاد کے بحری بیڑے سے ہوا جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔

یہ بھی دنیا کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ 15 ویں صدی کے بعد کسی بھی بڑی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی اور بہت بڑی شکست تھی جس میں عثمانی اپنے تقریباً پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے۔

اس جنگ میں ترکوں کے 80 جہاز تباہ ہوئے اور 130 عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ 15 ہزار ترک شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے اس کے مقابلے میں 8 ہزار اتحادی ہلاک اور ان کے 17 جہاز تباہ ہوئے۔

Marcantonio Colonna

حملہ آور نے جیکٹ پر Marcantonio Colonna لکھا۔ یہ بھی اطالوی بحری فوج کا کمانڈر تھا جس نے جنگ لیپانٹو میں حصہ لیا تھا۔

marcantonio-1552655606.jpg


چارلس مارٹل

martel-1552656626.jpg


حملہ آور نے اپنی اسلحے پر چارلس مارٹل کا نام بھی لکھا جو فرانس کا کیتھولک حکمران تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسیحی افواج کی قیادت کی تھی اور مسلمانوں کو شکست دی تھی۔

ویانا 1683

حملہ آور نے اپنی بندوق کے میگزین پر ویانا 1683 بھی لکھا۔

اس نے دراصل جنگ ویانا کا حوالہ دیا۔ 1683ء میں یہ صلیبی جنگ خلاف عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کے دور میں مسلمان فوج نے 1529 میں آسٹریا کے دار الحکومت ویانا کا محاصرہ کرلیا۔

موسم، راستوں کی خرابی اور رسد کی کمی کی وجہ سے محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا لیکن یورپ کے وسط تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔

1-1552654843.jpg




ویانا کا دوسرا محاصرہ 1683 میں سلطان محمد چہارم کے دور میں ہوا جس کی قیادت ترک صدراعظم قرہ مصطفٰی پاشا نے کی۔ دوسرے محاصرے میں مسلمانوں کو قرہ مصطفٰی پاشا کی نااہلی کے باعث جنگ میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی وسطی یورپ میں ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی بلکہ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

نیوزی لینڈ کے حملہ آوروں نے اپنے اسلحے پر اسی طرح کی مزید عبارتیں اور پیغامات بھی تحریر کیے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دنیا میں مسلمانوں پر لگایا گیا دہشت گردی کا لیبل محض ایک دھوکہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مغرب ان چاروں دہشتگردوں سے کیا سلوک کرتا ہے؟ جہاں عافیہ صدیقی کو محض ایک مبینہ حملے کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی وہیں 50 بے گناہ افراد کا خوب بہانے والوں کو کیا سزا ملتی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور اگر ہالاکاسٹ کے قصے میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے، تو صرف ستر اسی سال پہلے تک گورے ایک دوسرے کو اوونز میں بھیجتے تھے۔
ہولوکاسٹ قصہ نہیں ہے۔ ڈاکومنٹڈ تاریخی فیکٹ ہے۔ جہاں یورپی النسل (گورے) یہودیوں اور دیگر اقوام کی نسل کشی کی گئی تھی۔
Holocaust Educational Resource
 
Top