نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ، متعدد افراد ہلاک

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 15, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    مزے کی بات یہ ہے کہ ہم اگر یہ بات کہیں تو سب سے زیادہ تکلیف براؤنیز کو ہوتی ہے:)

    عجیب خود ساختہ محبت کا رشتہ ہے کچھ براؤنیز کا گوری چمڑی سے کہ بات گورے کو کرو آگ براؤنیز کو لگتی ہے۔ :LOL::LOL:

    حالانکہ ہم فقط منافقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ "معتدل" طبقہ ایک ہی ترازو استعمال کرے، کتا کتا ہی کہلائے گا چاہے ٹامی ہو یا شیرو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دہشت گرد انسان نے بڑی چالاکی سے آسٹریلیا سے آ کر نیوزی لینڈ میں نفرت کا بیج بونے کی کوشش کی ہے لیکن اب یہ نیوزی لینڈ کی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کیسے اس سانحے کے اثرات کو ریورس کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور ملٹی کلچرل ازم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
    بھائی مسئلہ چمڑی کا نہیں آئیڈیولوجی کا ہے۔ دیسی لبرل مغربی لبرلز سے مرعوب ہیں۔ ان کے خلاف بات کریں گے تو منفی ریٹنگ ملے گی۔
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
    ناروے اور دیگر لبرل ممالک میں تو ایسا نہیں ہو سکا۔ بلکہ ہر ایسے حملے کے بعد شدت پسندوں کے سپورٹر ہی بڑھے ہیں۔ دیکھتے ہیں نیوزی لینڈ والے کیا کرتے ہیں۔
     
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ذہنی غلام پھر بھی "معتدل مزاج" ہی کہلاتے ہیں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس کی وجہ یہ ہے کہ سیکولر ازم سے پہلے مذہب موجود تھا اور سیکولر ازم کے آنے کے بعد بھی مذہب موجود ہے۔
    آپ مذہبی اختلاف سے ہونے والی لڑائی کو چھوڑ کر سیکولر ازم کی طرف آ بھی جائیں تو سیکولر معاشرے میں بھی زبان اور کلچرل اختلافات سامنے آ جاتے ہیں۔
    ہمیں اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا۔
    مسئلے کا حل مذہب کو چھوڑ کر سیکولر ازم کی طرف جانا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے مابین مثبت مکالمہ اور پر امن بقائے باہمی کی طرف رجوع کرنا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
    عین متفق!بنیادی مسئلہ وہی ہے کہ لبرل، سیکولر سیاست میں مذہب کی آمیزش کو ترقی پسند (progressive) معاشرے کی ضد سمجھتے ہیں۔ جبکہ قدامت پسند (conservative) قدیم زمانہ سے قائم معاشرتی روایات واقدار کو بحال رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی نظریاتی ٹکراؤ کی وجہ سے دونوں اطراف انتہا پسند پیدا ہوتا ہے، اور ہوتا رہے گا۔ کیونکہ ان دو متضاد نظریات کے درمیان خلا کو منطقی انداز سے پُر کرنا ممکن نہیں۔
     
  10. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جہاں مذہب کی بنیاد پر انتہا پسند موجود ہوتا ہے وہیں سیکولر بنیادوں پر بھی انتہا پسندی ہوتی ہے۔
    مسئلے کا حل مذہب کو چھوڑ کر سیکولر ازم کی طرف جانا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے مابین مثبت مکالمہ اور پر امن بقائے باہمی کی طرف رجوع کرنا ہے۔
    اگر آپ پائیدار ترقی چاہتے ہیں تو سیکولر ازم پر مبنی ترقی پسندی میں مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرنا شامل کریں اور معاشرہ و ریاست میں اس کو جگہ دیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  11. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ہائے یہ سچائی برائلرز کو کون سمجھائے
     
  12. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    130
    بدلہ لینا ضروری ہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 2
    • متفق متفق × 1
  13. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    130
  14. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کون سمجھائے؟
    یہ راہ ایسی ہے کہ بین المذاہب مکالمہ اور پر امن بقائے باہمی کی طرف جاتی ہے اور اس کو سیکولر معاشرہ ارتقائی منازل طے کر کے اور حادثات و سانحات سے سبق لے کر سیکھ جائے گا۔ یعنی یہ ذمہ داری معاشرے کے ریگولیٹرز پر عائد ہوتی ہے ، خود سیکھ لیں تو بہتر ہے ورنہ نظریہ ارتقاء تو موجود ہے ان کے لیے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
    اسرائیلی جمہوریہ میں اس حوالے سے پچھلے 10 سالوں میں مسلسل دائیں بازو کی یہودی مذہبی جماعتیں حکومت کر رہی ہیں۔ مگر نتائج کسی بہتری کی سمت نہیں جا رہے۔ اصولاً مذہبی جماعتوں کی سیاست میں شمولیت سے معاشرہ میں یہود اور دیگر مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی بڑھنی چاہئے۔ لیکن شماریات بتاتے ہیں کہ اس سے معاشرہ میں اتفاق کی وجہ بجائے ٹوٹ پھوٹ اور انتہا پسندی بڑھ گئی ہے۔ جس سے اسرائیل کی عرب اقلیت کے حقوق مجروح ہوئے ہیں۔
    [​IMG]
     
  16. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل پر امن بقائے باہمی کا اصول بھول چکا ہے اور فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔
    جہاں تک اسرائیل کے جمہوری ہونے کا سوال ہے تو یہ جمہوریت کی بدترین ڈیفی نیشن کو بھی سیٹیفائی نہیں کرتا۔
     
    • متفق متفق × 3
  17. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    130
    اسرائیل کا دائیاں بازو نام کے علاو ہ کہاں مذہب کو کوئی اہمیت دیتا ہے؟
     
  18. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,771
    میں اس سے متفق نہیں ہوں ۔ کیونکہ 1993 میں اسی اسرائیل کی بائیں بازو کی لبرل جماعتوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر فلسطین کے ساتھ اوسلو امن معاہدہ کیا تھا۔ جسے اسرائیلی عوام کی اکثریت کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں بھی بہت پذیرائی ملی تھی۔ لیکن اس ڈویلپمنٹ سے دائیں بازو کے مذہبی جنونی خوش نہیں تھے۔ جس کے بعد ان میں سے کسی ایک دہشت گرد نے امن معاہدہ پر دستخط کرنے والے وزیر اعظم کو پبلک ریلی میں گولیوں سے چھننی کر دیا۔
    نتیجتاً اگلے الیکشن میں اسرائیل کے حالیہ دہشت گرد وزیر اعظم اقتدار میں آگئے اور یوں اوسلو امن معاہدہ ان کی انتھک سازشوں سے اپنے اختتام کو پہنچا۔
     
  20. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر