بلجیم، جرمنی اور فرانس کی سیر

عرفان سعید

محفلین
کیا آپ کو ایک بھی مسجد کہیں نظر نہیں آئی؟
مسجدیں موجود ہیں۔ فرانکفرٹ میں ہی پاکستانیوں کی پانچ مسجدیں ہیں۔ البتہ مسجد کی شکل کی عمارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مسجدوں کا انتظام عام طور پر کسی بلڈنگ کے ہال میں ہوتا ہے۔
 

عرفان سعید

محفلین
فرانکفرٹ کا نام آتے ہی دنیائے سخن کی ایک ایسی بے نظیر شخصیت کا نام ذہن میں گونجنے لگتا ہے جس نےڈھائی سو سال قبل نہ صرف جرمن بلکہ عالمی ادب کے شاہکار تخلیق کیے۔ ایک ایسی ہستی کہ جرمنی کا شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں اس شخصیت کے نام پر کوئی سڑک یا گلی موجود نہ ہو۔ ایک ایسی ہستی کہ اگر دنیا کی شاعری کی تاریخ میں چند ایسے سخن وروں کا انتخاب کیا جائے جنہوں نے فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے، شعریت کی نزاکتوں کو برقرار رکھتے ہوئے، تخیل کی بلند و بالا پرواز کرتے ہوئے، اپنی شاعری کو پیغام دینے کا ذریعہ بنایا ہو، اور ان کی ایک انتہائی محدود فہرست بندی بھی کی جائے، تو اس شخصیت کو اس سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ وہی شخصیت ہے کہ جس کی ادبی عظمت کا اعتراف اقبال نے غالب کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے ان الفاظ میں کیا ہے۔

آہ! تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

میری مراد جرمنی کے نادرۂ روزگار شاعر و ادیب گوئٹے سے ہے۔ فرانکفرٹ گوئٹے کا آبائی شہر ہے اور اس کی رہائش گاہ کو ایک گوئٹے میوزیم میں بدل دیا گیا ہے۔ اگلی منزل اس عظیم شاعر کی رہائش گاہ تھی۔ سڑک پر رہنمائی کے لیے سائن بورڈ آویزاں تھے۔

 
آخری تدوین:

عرفان سعید

محفلین
گوئٹے کے گھر کی سیر سے پہلے، جرمن زبان میں گوئٹے کی ایک شاہکار تحریر کا انگریزی ترجمہ۔
گو ترجمہ ہے لیکن پڑھنے اور سراہنے کے لائق ہے۔

 

عرفان سعید

محفلین
گوئٹے کا تعلق ایک نہایت متمول خاندان سے تھا۔ اس کا باپ ایک مشہور قانون دان اور ماں فرانکفرٹ کے مئیر کی بیٹی تھی۔ جس گھر میں گوئٹے کی دنیا میں آمد ہوئی وہ اس کی دادی نے 1733 میں خریدا تھا۔اصل عمارت 1600 میں بنے دو گھروں پر مشتمل تھی جسے اس کے باپ نے تعمیرِ نوسے ایک عمارت میں ڈھال دیا تھا۔ موجودہ عمارت اسی شکل میں موجود ہے۔ گھر کیا ہے پورا ایک محل ہے! چار منزلیں اور چودہ کمروں پر مشتمل یہ گھر گوئٹے خاندان کی مالی حیثیت بتانے کے لیے کافی ہے۔

گھر کی بیرونی عمارت

 

عرفان سعید

محفلین
گوئٹے کے گھر سے متصل عمارت میں میوزیم کا دفتر تھا۔ جو ایک نمائش کے ہال میں لے جاتاہے۔ ہال کی دیواروں پر بے شمار پینٹنگ لگی ہوئی تھیں۔

 
Top