سیاسی منظر نامہ

کل پرسوں ایک ذاتی دوست جو تحریک انصاف کا باقاعدہ ضلعی عہدیدار ہے سے گفتگو ہورہی تھی اس نے بتایا کہ لاہور میں کئی جگہوں پر ن لیگ کی بجائے تحریک لبیک تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دے رہی ہے غالبا تحریک لبیک لاہور سے 2 سے 3 سیٹیں جیت سکتی ہے۔
 
Institute for Public Opinion Research (IPOR) نے پنجاب کے بارے میں اپنا سروے جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب کے ہر حلقے کے سروے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن کیسز ، الیکٹیبلز کے منہ موڑنے اور مرکزی قائدین کی نااہلی کے باوجود پنجاب میں ن لیگ کی مقبولیت برقرار ہے۔پنجاب میں ن لیگ 51 فیصد ووٹ بینک کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ 2013 کے مقابلے میں اس کے ووٹ بینک میں 2 فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے اور اس کی مقبولیت 19 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد پر آگئی ہے۔
سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے بڑی تعداد میں ووٹ توڑے ہیں جس کی بنیادی وجہ پی پی اور ق لیگ کے اہم لیڈرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت ہے۔ پیپلز پارٹی کے 2013 کے مقابلے میں پنجاب میں ووٹ کم ہو کر 11 سے 5 فیصد پر آگئے ہیں ۔ مردم شماری کے بعد 2 کروڑ نئے ووٹوں کے اندراج کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوا ہے۔ پنجاب میں تحریک لبیک 3 فیصد ووٹوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بن چکی ہے جبکہ ق لیگ اور جماعت اسلامی کو صرف ایک ایک فیصد ووٹرز نے پسند کیا ہے۔
 
337125_6474225_akhbar.jpg

337125_3999953_akhbar.jpg

337125_6503194_akhbar.jpg

337125_8384671_akhbar.jpg

337125_8517011_akhbar.jpg
 

فرقان احمد

محفلین
سروے کے نتائج سے فی الوقت یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ وزیراعظم پیپلز پارٹی کا نہیں ہو گا تاہم شاید پیپلز پارٹی کی سپورٹ سے ہی بنے گا۔ امکان غالب ہے کہ زرداری صاحب، عمران خان اور شہباز شریف کو وزیراعظم دیکھنا نہ چاہیں۔ اس لیے مرکز میں کمزور وزیراعظم کا آنا بعد از قیاس نہ ہے۔ فی الوقت تو یہی معلوم پڑتا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
 

فرقان احمد

محفلین
ابھی تو الیکشن بائیکاٹ کی خبر بھی گرم ہے۔ دیکھیں جمعہ کے بعد کیا ہوتا ہے۔
عدلیہ کی غیر معمولی فعالیت اور جرنیلوں کی بے جا عجلت کے باعث شریف فیملی کی دم توڑتی سیاست ایک بار پھر زندہ و تابندہ ہو گئی ہے۔ اس موقع پر نواز شریف صاحب بائیکاٹ کی طرف نہ جائیں گے؛ وہ اپنے پتے بڑی سمجھ داری سے کھیل رہے ہیں۔ مرکز میں حکومت چھن بھی گئی تو عام انتخابات کے نتیجے میں پنجاب کی حکومت شاید پھر بھی مل ہی جائے ۔ یہ تو کسی صورت مہنگا سودا نہیں یعنی پنجاب میں حکومتی پارٹی اور مرکز میں مضبوط اپوزیشن پارٹی۔ بدقسمتی سے ہم نوے کی دہائی کی سیاست کی طرف لوٹ کر جا رہے ہیں۔
 

یاز

محفلین
عدلیہ کی غیر معمولی فعالیت اور جرنیلوں کی بے جا عجلت کے باعث شریف فیملی کی دم توڑتی سیاست ایک بار پھر زندہ و تابندہ ہو گئی ہے۔ اس موقع پر نواز شریف صاحب بائیکاٹ کی طرف نہ جائیں گے؛ وہ اپنے پتے بڑی سمجھ داری سے کھیل رہے ہیں۔ مرکز میں حکومت چھن بھی گئی تو عام انتخابات کے نتیجے میں پنجاب کی حکومت شاید پھر بھی مل ہی جائے ۔ یہ تو کسی صورت مہنگا سودا نہیں یعنی پنجاب میں حکومتی پارٹی اور مرکز میں مضبوط اپوزیشن پارٹی۔ بدقسمتی سے ہم نوے کی دہائی کی سیاست کی طرف لوٹ کر جا رہے ہیں۔
یہ بھول جائیے کہ پنجاب بھی ملے گا۔
امکان یہ ہے کہ پی پی کو سندھ کے بھی لالے پڑ جائیں شاید۔ تبھی تو نون لیگ اور پی پی کی جانب سے بائیکاٹ کا چانس ہو سکتا ہے۔
 
کیا اسی جماعت کی ملک میں حکومت بنتی ہے جس کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل ہو ؟
کسی حد تک متفق، لیکن میں اسے آشیر باد نہیں کہوں گا۔
حکومت بننے، دینے وغیرہ کا سلسلہ ایک تفصیلی مراسلے کا متقاضی ہے۔ وقت نکلا تو جلد اس پر اپنی ’ذاتی‘ اور ’تجرباتی‘ رائے دوں گا۔ :)
 

عباس اعوان

محفلین

ضیاء حیدری

محفلین
Top