غزل برائے اصلاح

محمد فائق

محفلین
بات جب دوستی کی آتی ہے
یاد تیری بہت ستاتی ہے

عمر گزرے گی میری تیرے بغیر
فکر یہ مجھ کو کھائے جاتی ہے

ہجر ہے تو وصال بھی ہوگا
بات یہ کب یقیں دلاتی ہے

مرضِ عشق کی دوا ہی نہیں
عارضہ یہ تو نفسیاتی ہے

کوئی آساں نہیں سفر میرا
زندگی روز یہ جتاتی ہے

اور کچھ بھی نہیں ہے دنیا میں
بے ثباتی ہی بے ثباتی ہے

خواب کرتے ہیں مطمئن مجھ کو
جب حقیقت کبھی ڈراتی ہے

اس لیے سوچتا نہیں گھر کی
مفلسی در بدر پھراتی ہے

صرف لکھا ہے حالِ دل فائق
شاعری اس میں واجباتی ہے
 

الف عین

لائبریرین
مقطع کے علاوہ سب درست لگ رہی ہے غزل۔
واجبی تو درست ہے، لیکن واجباتسے مطلب بدل جاتا ہے۔ اور واجباتی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
 

محمد فائق

محفلین
مقطع کے علاوہ سب درست لگ رہی ہے غزل۔
واجبی تو درست ہے، لیکن واجباتسے مطلب بدل جاتا ہے۔ اور واجباتی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
رہنمائی کا شکریہ سر

ہوں تو میں بوریا نشیں فائق
ویسے مسند بھی مجھ پہ بھاتی ہے

کیا یہ شعر درست ہے
 
عمر گزرے گی میری تیرے بغیر

فاعلاتن مفاعلن فعلات
اس مصرع کا وزن یہ ہے
باقی تمام مصرعوں کا وزن
فعلاتن مفاعلن فعلن یہ ہے
کیا یہ رائج ہے یا مصرع تبدیل کرنا پڑے گا
محمد ریحان قریشی صاحب محمد وارث صاحب الف عین سر
جی ان بحروں کا خلط جائز ہے.
 
Top