حسان خان

لائبریرین
مدّعا حاصل به هر جا گشت ما را منزل است
تنگِ شکّر مصر باشد کاروانِ مور را
(شوکت بخاری)
جس جگہ بھی ہمیں مُدّعا حاصل ہو گیا، وہ ہماری منزل ہے؛ چیونٹیوں کے کارواں کے لیے شَکَر کا انبار مصر ہوتا ہے۔
 
مستی به چشم شاهد دلبند ما خوش است
زان رو سپرده‌اند به مستی زمام ما
(حافظ شیرازی)

ہمارے حسین محبوب کی نظر میں مستی اچھی ہے اسی لئے ہماری زمام اس نے مستی کے سپرد کر دی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
چنان ز شرمِ تو بی‌آب و رنگ گشته شراب
که موجِ باده چو موجِ نسیم بی‌رنگ است
(شوکت بخاری)

تمہاری شرم سے (یا تم سے شرمندہ ہو کر) شراب اِس طرح بے آب و رنگ ہو گئی ہے کہ موجِ بادہ [بھی] موجِ نسیم کی طرح بے رنگ [ہو گئی] ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
حالتِ بیمار را بیمار می‌داند که چیست
الفتی چون نیست با من چشمِ بیمارِ تُرا؟
(مولوی شریف بخارایی)

بیمار کی حالت کو بیمار جانتا ہے کہ کیا ہے۔۔۔ [پس] تمہاری چشمِ بیمار کو میرے ساتھ کوئی اُلفت کیوں نہیں ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
گرم دارد آتشِ حُسنِ تو بازارِ تُرا
گرمیِ بازار می‌سوزد خریدارِ تُرا
(مولوی شریف بخارایی)

تمہاری آتشِ حُسن تمہارے بازار کو گرم رکھتی ہے؛ بازار کی گرمی تمہارے خریدار کو جلا ڈالتی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
معنئ تازہ کہ جوئیم و نیابیم کجاست
مسجد و مکتب و میخانہ عقیم اند ہمہ


علامہ محمد اقبال ۔ (جاوید نامہ)

وہ معنئ تازہ کہ جسے ہم ڈھونڈتے ہیں اور نہیں پاتے، آخر وہ کہاں ہے؟ کہ مسجد اور مکتب (و مدرسہ) اور میخانہ، سبھی کے سبھی (تازہ فکر سے) بانجھ ہیں۔
 

عین احمد

محفلین
سلام حسان بھائی اریب بھائی امید ہے کے آپ کے مزاج بخیر ہونگے --ہمیں اس کلام ترجمہ درکار ہے -

من آن درّم كه در بحر جلال الله بودَستم
به كوه طور با موسي كليم الله بودَستم

گهي زناّرمي بستم گهي قرآن مي خواندم
گهي در مذهب ترسا، بسي محنت كشيدَستم

دو صد جامه كهن كردم، لباس فقر پوشيدم
بر آن برجي كه من بودم، هزاران يك رسيدَستم

به اسماعیل پیغمبربه ابراهیم بن آذر
درآن سروقت قربانی به قربانگاه بودستم

اَيا ملا مكن ظاهر سر اسرار مردان را
ندانستي، ندانستي كه سر الله بودَستم

ايا عثمان مروندي چرا مستي در اين عالم؟!
كه جز (ياهو) و يا (من هو) دگر چيزي ندانستم
 

حسان خان

لائبریرین
سلام حسان بھائی اریب بھائی امید ہے کے آپ کے مزاج بخیر ہونگے --ہمیں اس کلام ترجمہ درکار ہے -

من آن درّم كه در بحر جلال الله بودَستم
به كوه طور با موسي كليم الله بودَستم

گهي زناّرمي بستم گهي قرآن مي خواندم
گهي در مذهب ترسا، بسي محنت كشيدَستم

دو صد جامه كهن كردم، لباس فقر پوشيدم
بر آن برجي كه من بودم، هزاران يك رسيدَستم

به اسماعیل پیغمبربه ابراهیم بن آذر
درآن سروقت قربانی به قربانگاه بودستم

اَيا ملا مكن ظاهر سر اسرار مردان را
ندانستي، ندانستي كه سر الله بودَستم

ايا عثمان مروندي چرا مستي در اين عالم؟!
كه جز (ياهو) و يا (من هو) دگر چيزي ندانستم
وعلیکم السلام!
برادر عین احمد، آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ ترجمہ کرنا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے، اور ہم ہر وقت کسی سے ترجمہ کرنے کی توقع نہیں رکھ سکتے، خصوصاً اُس وقت کہ جب صرف ایک بیت کی بجائے پوری غزل یا نظم ترجمے کے لیے دی گئی ہو۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ کو کبھی ترجمے کی حاجت ہو تو صرف ایک بیت ہی ترجمے کے لیے دیجیے، تاکہ آپ پر اور مترجم پر بار نہ ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
چه مغناطیس حل‌کرده‌ست یا رب خونِ نخچیرش
که پیکان یک قدم پیش است از سعیِ پرِ تیرش
(بیدل دهلوی)

یا رب! اُس کے شکار کے خون نے کیسا مقناطیس حل کیا ہے کہ پیکانِ تیر اُس کے تیر کے پر کی سعی سے ایک قدم آگے ہے۔

تشریح: شاعر کہہ رہا ہے کہ اِس شکار کا خون مقناطیسی خاصیت رکھتا ہے، اور اِس سبب سے، پیکانِ تیر اُس کے پر سے پیشتر شکار کی جانب جا رہا ہے۔ در حقیقت، یہاں شکار ہونے کا ایک طرح کا اشتیاق کار فرما ہے جو تیر کو خود کی جانب کھینچ رہا ہے۔
'پَیکان' تیر یا نیزے کے سِرے پر نصب فِلِزّی (دھاتی) نوک کو کہتے ہیں۔ مقناطیس چونکہ فِلِزّی چیزوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے، اور چونکہ شکار کی جانب آ رہے اِس تیر کا فِلِزّی پیکان، اُس کے پر سے پیش پیش ہے، اِس لیے شاعر نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے محبوب کے نخچیر کے خون کو مقناطیس کہا ہے۔
یا یہ کہیے کہ عاشق کو اپنے معشوق کے دستوں قتل ہونے کا اِس قدر اشتیاق ہے، کہ اُس کا خون یار کے پھینکے ہوئے تیر، خصوصاً اُس تیر کے پیکان کے لیے، مقناطیس بن گیا ہے۔
 
آخری تدوین:
گر چه بدنامیست نزد عاقلان
ما نمی‌خواهیم ننگ و نام را
(حافظ شیرازی)

ہم نام و ننگ کے خواہاں نہیں ہیں۔ اگرچہ کہ یہ عاقلوں کے نزدیک بدنامی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
باشد خُمِ باده مشرقِ اخترِ رز
مینایِ بلورین صدفِ گوهرِ رز
کس نیست به بزمِ باده بیگانه ز کس
ساقی پِسرِ رز است و مَی دُخترِ رز
(شوکت بخاری)
خُمِ بادہ وہ جگہ ہے جہاں سے ستارۂ انگور طلوع ہوتا ہے؛ [جبکہ] مینائے بلوریں گوہرِ انگور کا صدف ہے؛ بزمِ بادہ میں کوئی بھی کسی سے بیگانہ نہیں ہے؛ ساقی پِسرِ انگور ہے اور شراب دُخترِ انگور۔

× مینائے بُلوریں = بُلور (کرسٹل) سے بنا آبگینۂ شراب
× شراب کو 'دُخترِ رز' یعنی انگور کی دُختر کہا جاتا ہے۔

× ایک نسخے میں رُباعی کا یہ متن بھی نظر آیا ہے:
باشد خُم باده مشرقِ اخترِ رز
مینایِ بلورین صدفِ گوهرِ رز
کس نیست به بزمِ باده بیگانهٔ کس
ساقی پِسرِ رز است مَی دُخترِ رز


دونوں صورتوں میں رباعی کا معنی ایک ہی ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تا به کَی شوکت گُریزی از میانِ مردُمان
وحشتی از خویش کن آخر تو هم از مردُمی
(شوکت بخاری)

اے شوکت! کب تک مردُم کے درمیان سے گُریز کرو گے؟ اپنے آپ سے دُوری و تنہائی اختیار کرو، کہ آخر تم بھی تو مردُم میں سے ہو۔

مأخذ: مجمع‌النفایس، سراج‌الدین علی خان آرزو
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(مصرع)
"بی رفیقانِ چمن باغ کم از گلخن نیست"
(شوکت بخاری)

رفیقانِ چمن کے بغیر باغ گُلخَن سے کم نہیں ہے۔
× گُلخَن = حمّام کی آتش گاہ


مأخذ: مجمع‌النفایس، سراج‌الدین علی خان آرزو
 

حسان خان

لائبریرین
وبالِ پایهٔ رفعت فُتادگان دانند
زمین فُتاده به پایم که آسمان نشوی

(شوکت بخاری)
پایۂ رِفعت کے وبال کو گِرے ہوئے [ہی] جانتے ہیں۔۔۔ زمین میرے پاؤں میں گِر گئی کہ "آسمان نہ بننا!"
× پایہ = درجہ × رِفعَت = بلندی

مأخذ: مجمع‌النفایس، سراج‌الدین علی خان آرزو
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
فلک بیهوده صائب سعی در اِخفایِ من دارد
نه آن شمعم که بِتْوان داشت پنهان زیرِ سرپوشم
(صائب تبریزی)
اے صائب! فلک بے فائدہ مجھے مخفی کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ میں وہ شمع نہیں ہوں کہ مجھے سرپوش کے زیر میں پنہاں رکھا جا سکے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ز خواری آن یتیمم دامنِ صحرایِ امکان را
که گر خاکم سبو گردد نمی‌گیرند بر دوشم
(صائب تبریزی)

میں [اپنی] پستی و زبونی کے سبب دامنِ صحرائے امکاں کا وہ یتیم ہوں کہ اگر میری خاک سبو بن جائے، [تو بھی مردُم] مجھے شانے پر نہیں اُٹھائیں گے۔
× سَبُو = کُوزہ؛ کُوزۂ شراب
 

حسان خان

لائبریرین
عضو عضوِ خویش زرد از ناتوانی کرده‌ام
جامهٔ عریانیِ خود زعفرانی کرده‌ام

(شوکت بخاری)
میں نے اپنے عُضْو عُضْو کو ناتوانی سے زرد کر لیا ہے؛ میں نے اپنے جامۂ عُریانی کو زعفرانی کر لیا ہے۔

مأخذ: مجمع‌النفایس، سراج‌الدین علی خان آرزو
 

حسان خان

لائبریرین
هم‌صحبتی به مردُمِ عالم ضرور نیست
بیگانگی چو هست به کس آشنا مباش

(شوکت بخاری)
مردُمِ دنیا کے ساتھ ہم صُحبتی ضروری نہیں ہے؛ بیگانگی جب موجود ہے، تم کسی سے آشنا مت ہو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تصرُّف چون کند دشمن به آب و رنگِ افکارم
نِگارین گردد انگُشتی که بِگْذارد بر اشعارم
(شوکت بخاری)
دشمن میرے افکار کے آب و رنگ پر تصرُّف کیسے کرے؟۔۔۔ [کہ میرے اشعار تو ایسے رنگین ہیں] کہ [دشمن] میرے اشعار پر جو انگُشت رکھے گا، وہ مزیّن و منقّش ہو جائے گی۔

مأخذ: مجمع‌النفایس، سراج‌الدین علی خان آرزو
 
Top