بچوں کی باتیں

جاسمن

لائبریرین
اماں نکو نک (پنجابی۔مطلب بہت زیادہ)مصروف تھیں محمد کے جغرافیہ کے آلودگی والے پراجیکٹ کی تکمیل میں۔
محمد:اماں میرا دانت ٹوٹ گیا ہے۔
اماں ۔(مگن)اچھا!دودھ والا!
محمد:چائے والا
 

جاسمن

لائبریرین
اماں:محمد!آج بانوقدسیہ کا انتقال ہوگیا۔
محمد:اوہو۔اب تو ان کا پورا گروپ ختم ہوگیا۔اور اب شاید ان کی سطح کا کوئی اتنا اچھا ادیب بھی نہیں ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
ایمی امّاں کے بہت سے خزانوں پہ قابض ہوگئی ہے جیسے موتی،ستارے،بے کار زیورات،گوٹے کناریاں،ڈوریاں،دھاگے ،پرانے کارڈ،گفٹ پیپرز وغیرہ وغیرہ(یہاں بہت سے وغیرہ کی ضرورت ہے)
ایمی نے اِن چیزوں کی مدد سے کچھ نئی چیزیں ،پرس،زیورات وغیرہ تیار کئے تھے سکول کی ایک تقریب میں استانی کے کہنے پہ بیچنے کے لئے۔ اُس دن تو نہیں بکے لیکن پچھلے ہفتہ اُس کی ہم جماعت ساتھی اُس سے فرمائش کر کے چیزیں خرید رہی ہیں اور آج تک کی آمدنی 340 روپے ہے۔
ایمی سماجی بہبود کے کام بھی کرتی ہے۔ جو ساتھی لڑکیاں دور دراز جگہوں پہ رہتی ہیں اور بازار جانا بہت مشکل ہوتا ہے،ایمی اُن کے لئے عموماََ سٹیشنری کی خریداری کرتی ہے۔فلاں پاؤچ فلاں نے منگوایا ہے،فلاں قلم فلاں کو بڑا پسند آیا ہے،اُس کے لئے خریدنا ہے۔ سو اپنے بچوں کے ساتھ اُن کے ساتھیوں کی چیزیں بھی خریدنی پڑتی ہیں۔
 

جاسمن

لائبریرین
پچھلے ہفتہ شروع کئے جانے والے کام سے کل تک ایمی نے485 روپے کمائے۔آج کی آمدنی 195 ہے۔
بقول ایمی میں نے بزنس شروع کر دیا ہے۔اب آپ میرے جیب خرچ کے لئے فکرمند نہ ہوں۔
دو سیلز گرلز بھی ہیں۔جو بغیر معاوضہ کے کام کرتی ہیں۔ایمی بس اپنی سیٹ پہ بیٹھی رہتی ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
پچھلے ہفتہ شروع کئے جانے والے کام سے کل تک ایمی نے485 روپے کمائے۔آج کی آمدنی 195 ہے۔
ایمی :"میں نے بزنس شروع کر دیا ہے۔اب آپ میرے جیب خرچ کے لئے فکرمند نہ ہوں۔"
دو سیلز گرلز بھی ہیں۔جو بغیر معاوضہ کے کام کرتی ہیں۔ایمی بس اپنی سیٹ پہ بیٹھی رہتی ہے۔
 
ایمی امّاں کے بہت سے خزانوں پہ قابض ہوگئی ہے جیسے موتی،ستارے،بے کار زیورات،گوٹے کناریاں،ڈوریاں،دھاگے ،پرانے کارڈ،گفٹ پیپرز وغیرہ وغیرہ(یہاں بہت سے وغیرہ کی ضرورت ہے)
ایمی نے اِن چیزوں کی مدد سے کچھ نئی چیزیں ،پرس،زیورات وغیرہ تیار کئے تھے سکول کی ایک تقریب میں استانی کے کہنے پہ بیچنے کے لئے۔ اُس دن تو نہیں بکے لیکن پچھلے ہفتہ اُس کی ہم جماعت ساتھی اُس سے فرمائش کر کے چیزیں خرید رہی ہیں اور آج تک کی آمدنی 340 روپے ہے۔
ایمی سماجی بہبود کے کام بھی کرتی ہے۔ جو ساتھی لڑکیاں دور دراز جگہوں پہ رہتی ہیں اور بازار جانا بہت مشکل ہوتا ہے،ایمی اُن کے لئے عموماََ سٹیشنری کی خریداری کرتی ہے۔فلاں پاؤچ فلاں نے منگوایا ہے،فلاں قلم فلاں کو بڑا پسند آیا ہے،اُس کے لئے خریدنا ہے۔ سو اپنے بچوں کے ساتھ اُن کے ساتھیوں کی چیزیں بھی خریدنی پڑتی ہیں۔
بہت اعلیٰ:)
 

زیک

مسافر
کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں ٹائلٹ میں تھا کہ اس کا دروازہ کھٹکھٹا۔
میں: کیا بات ہے؟
بیٹی: ایک سوال ہے۔
میں: کیا میرا باہر آنے کا انتظار نہیں ہو سکتا؟
بیٹی: نہیں
بیتی: خدا کا اوریجن کیا ہے؟ بگ بینگ سے کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے خدا کہاں تھا؟
 

جاسمن

لائبریرین
اماں : محمد!میں تمہیں کبھی صدیق سالک،اشفاق حسین،شفیق الرحمٰن،پطرس بخاری اور نسیم حجازی پڑھتے دیکھتی ہوں اور کبھی عمرو عیار اور فلاں جادوگر وغیرہ تو بہت ہنسی آتی ہے مجھے۔( واقعی محمد صاحب دونوں طرح کی کتابیں شوق و ذوق سے پڑھتے ہیں۔)
محمد: ہاں میرے ہم جماعت 200 صفحات سے کم کی کتابوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ہمارے معیار کی نہیں ہیں اور یہ عمرو عیار وغیرہ جیسی کتابوں کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ جب 700 صفحات کی کتاب ایشو کرا کے لے جاتے ہیں اور اُس پہ ریویو لکھنا پڑتا ہے تو مجھے کہتے ہیں یار لکھ دو ناں!
 

جاسمن

لائبریرین
محمد:بابا کی کہنی لگ گئی مجھے ورنہ لٹریچر پہ نوبل انعام وصول کر لینا تھا میں نے۔
محمد صاحب اردو اور انگریزی ادب بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔خاص طور پہ اردو۔سو خواب بھی ایسے آتے ہیں۔
انہوں نے 35،40 صفحات کا ایک ناول بھی تحریر کیا ہے۔دونوں استانیاں اور تاریخ کی استانی بھی بہت خوش ہوتی ہیں اپنے شاگرد کے حوالے سے۔
 
محمد:بابا کی کہنی لگ گئی مجھے ورنہ لٹریچر پہ نوبل انعام وصول کر لینا تھا میں نے۔
محمد صاحب اردو اور انگریزی ادب بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔خاص طور پہ اردو۔سو خواب بھی ایسے آتے ہیں۔
انہوں نے 35،40 صفحات کا ایک ناول بھی تحریر کیا ہے۔دونوں استانیاں اور تاریخ کی استانی بھی بہت خوش ہوتی ہیں اپنے شاگرد کے حوالے سے۔
میرا بیٹا جب سے جانور گھر(چڑیا گھر ) دیکھ آیا ہے کہتا رہتا ہے بابا میں نے ہاتھی لینا ہے۔ میں نے ایک دن پوچھا رکھو گے کہاں پر؟ بولا بابا چھت پر رکھوں گا۔ میں نے کہا اور چڑھاو گے کیسے؟ بولا بابا میں دھکا لگا کر چڑھا دوں گا بیٹ سے۔ ساتھ میں اپنا بیٹ بھی لہرا یا :)
 
آج صاحب زادے نے نئی فرمائش کردی۔ فون آیا۔ پہلے تو بیچارے کو اپنی توتلی زبان اور لڑ کھڑاتے الفاظ کے ساتھ یہ بتانا مشکل ہوا کہ "وہ" خود کال کر رہا ہے۔ پھر بولا پا پا میرے لیے چھوٹا سا بکرا لے لو میں نے آکر اس سے کھیلنا ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ گھر جاتے ہوئے جناب کے لیے پلاسٹک کا بکرا لے گیا ۔ اصل بکرے کی جگہ بنانے میں مصروف ہوں شام سے ۔ :)
 
بڑے صاحب زادے "با با با با بلیک شیپ" یاد کررہے تھے گزشتہ دنوں۔ چھوٹے والے نے بھی رٹ لیا اور اب میں اس کے لیے "بابا" سے "بابا بلیک شیپ" ہوگیا ہوں۔۔۔:)
 

جاسمن

لائبریرین
محمد:میں اپنے کمپیوٹر پہ بھی نہیں بیٹھ سکتا اب۔یہ دیکھیں کرسی پہ بھی چِڑیا نے فن کے مظاہرے کیے ہوئے ہیں۔عین میری میز کے اوپر گھونسلا بنایا ہے۔ہر وقت کمپیوٹر پہ کپڑا پھیلانا پڑتا ہے۔
محمد منہ بسور رہا تھا اور امّاں سے ہنسی ضبط نہیں ہورہی تھی۔
"کبھی آپ کمپیوٹر نہیں چلانے دیتیں اور کبھی یہ چِڑیا۔"
 
Top