نظریہ ارتقاء پر اعتراضات اور ان کے جواب

سید عاطف علی

لائبریرین
مجھے پہلے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ بات موضوع سے نکل کر خدا کے وجود و عدم کی بحث پر آجائے گی۔ اور باوجود تمام گزارش کے ایسا ہی ہوا۔ :)
سلامت رہیں۔
بار دگر۔
آداب۔..
نظریہ ارتقا کا اصل نکتہ ہی یہ ہے کہ کائنات خدا کے تخلیق کر نے سے نہین بلکہ از خود وجود میں آئی ۔شروع میں ارتقا کی بحثیں یہاں پرپہنچ ختم ہوتی تھیں اب جبکہ شروع ہی یہاں سے ہوں تو لامحالہ دھاگے کے مقفل ہونے اور ساتھ ساتھ کئی اور گل کھلانے اور مذ ہب سمیت دیگر موضوعات کو لپیٹ میں کے بعد پر ہی ختم ہوتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب نے سائنس پر اس وقت تک اعتراض نہیں کیا جب تک سائنس نے مذہب کی حدود میں در اندازی کر کے ایک مذہب کی شکل اختیار کرکے "آزاد معاشرہ "تشکیل دینے کی کوشش نہ کی ۔
اب اس کا علاج ایک علاج یہ ہے کہ ارتقاء کو مجموعی موضوع بنانے کی بجائے اس سے وابستہ مثبت و منفی دلائل کے انفرادی پہلوؤ ں اور بنیادوں کوکو الگ الگ موضوع بنایا جائے ۔
 
آخری تدوین:

x boy

محفلین
ہم سب بگ بینک تو مانتے ہی ہیں نا،، BIG BUG بھی ماننا پڑے گا۔
اسی کی وجہ سے سب خرابیاں ہیں۔
 

زیک

مسافر
یاد رہے کہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے اسکے ایک جزیرہ پر قیام کے دوران اور وہاں پر موجود مخلوقات کا قریب سے مشاہدہ کے بعد جنم لیا تھا۔ یوں سائنسی طریقہ کے مطابق پہلے تھیوری آتی ہے جو بعد میں عملی تجربہ و مشاہدہ کے ذریعہ صادق ہوتی ہے یا اسکے بالمقابل پہلے مشاہدہ یا تجربہ ہوتا ہے اور اسے تھیورائز کر کے اسکی تصدیق کر لی جاتی ہے۔
پہلے طریقہ میں آئن اسٹائن کا نظریہ ہے جبکہ دوسرے طریقہ میں ڈارون کا نظریہ۔
ڈارون کے زمانے میں جینز کا تصور نہیں تھا۔ بعد میں مینڈل کے تجربات کے بعد ارتقاء جینز کے ذریعہ کیسے کام کرتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
مجھے پہلے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ بات موضوع سے نکل کر خدا کے وجود و عدم کی بحث پر آجائے گی۔ اور باوجود تمام گزارش کے ایسا ہی ہوا۔ :)
قرآن پاک میں کن فیکون متعدد بار آیا ہے۔ اسکا مذہبی لوگ اکثر معجزاتی مطلب لیتے ہیں حالانکہ اگر غور کیا جائے تو بگ بینگ یعنی ظہور کائنات سے لیکر اس سیارہ زمین کے وجود تک سب کھرب ہا سال کے ارتقائی تسلسل کا حصہ ہے جس میں سے یہاں زندگی کی پیدائش اور اسکا ارتقاء ایک بہت قلیل سا عرصہ ہے۔ جنہوں نے اسکو نہیں سمجھنا انہوں نہیں سمجھنا بیشک آپ اسکی تائید میں جتنی مرضی اثبوت اور دلائل لیکر آ جائیں :)

میرا خیال ہے کہ مذہبی لوگوں کو نظریہ ارتقاء سے اس وقت تکلیف ہوتی ہے جب انسان کو نظریہ ارتقاء آدم علیہ السلام کی بجائے بندر کی اولاد ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
بندر کی اولاد؟ تو آپکے خیال میں حضرت آدم علیہ السلام سیدھا جنت سے یہاں زمین پر اتارے گئے تھے تو وہ جسمانی حالت میں کیسے تھے؟ نیز آج انسانوں کی سفید فام، سیاہ فام اور دیگر متعدد نسلیں موجود ہیں تو حضرت آدم کس نسل سے ہوئے؟ :)

نظریہ ارتقا کا اصل نکتہ ہی یہ ہے کہ کائنات خدا کے تخلیق کر نے سے نہین بلکہ از خود وجود میں آئی ۔شروع میں ارتقا کی بحثیں یہاں پرپہنچ ختم ہوتی تھیں اب جبکہ شروع ہی یہاں سے ہوں تو لامحالہ دھاگے کے مقفل ہونے اور ساتھ ساتھ کئی اور گل کھلانے اور مذ ہب سمیت دیگر موضوعات کو لپیٹ میں کے بعد پر ہی ختم ہوتی ہیں۔
ہم یہاں زمین پر موجود مخلوقات کے ارتقاء پر بحث کر رہے ہیں نہ کہ خدا کے وجود پر۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ان دونوں موضوعات کو آپس میں ملانے والے خود مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ ہیں جو نظریہ ارتقاء پر یقین رکھنے والوں کو "لبرل" کا طعنہ دیتے آئے ہیں :)

حقیقت یہ ہے کہ مذہب نے سائنس پر اس وقت تک اعتراض نہیں کیا جب تک سائنس نے مذہب کی حدود میں در اندازی کر کے ایک مذہب کی شکل اختیار کرکے "آزاد معاشرہ "تشکیل دینے کی کوشش نہ کی ۔
یہ ایک اور مضحکہ خیز بات چھوڑ دی آپنے۔ جب گیلیلیو نے 16 ویں صدی میں اسوقت کے غلط العام نظریات کو چیلنج کیا کہ یہ کائنات زمین کے گرد نہیں گھومتی تو اسوقت کے کیتھولک پاپائے روم نے موصوف کو بلا کر دھمکیاں دیں کہ وہ اپنے ان نئے "عقائد" کا پرچار بند کردے وگرنہ اسکے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ بالآخر 1992 یعنی کوئی 500 سال بعد کیتھولک چرچ نے اپنے کئے کی معافی مانگ لی کہ ہم غلط تھے اور گیلیلیو درست۔ یہ سائنس کی مذہبی گمراہیوں کیخلاف سب سے بڑی جیت تھی لیکن اسکے باوجود آجکل کے مذہبی لوگ اپنے آپکو بہت بڑا حق پرستوں کا چیمپئن سمجھتے ہیں :)
image002.gif

http://christiananswers.net/q-eden/galileo.html

اب اس کا علاج ایک علاج یہ ہے کہ ارتقاء کو مجموعی موضوع بنانے کی بجائے اس سے وابستہ مثبت و منفی دلائل کے انفرادی پہلوؤ ں اور بنیادوں کوکو الگ الگ موضوع بنایا جائے ۔
جب دنیا بھر کے سائنسدان صحیح معنوں میں نظریہ ارتقاء پر بحث کرتے ہیں تو وہ عموماً وجود خدا کو درمیان میں نہیں لاتے کہ یہ بالکل الگ اور فلسفیانہ بحث ہے۔ سائنس نہ تو خدا کے وجود کو تسلیم کر سکتی اور نہ ہی جھٹلا سکتی ہے کہ خدا کوئی مادی وجود تو نہیں :)
گو کہ کئی ملحد اس حوالہ سے اپنی شہرہ آفاق کتب لکھ چکے ہیں۔ اور اسکے رد میں بھی کئی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔

ہم سب بگ بینک تو مانتے ہی ہیں نا،، BIG BUG بھی ماننا پڑے گا۔
اسی کی وجہ سے سب خرابیاں ہیں۔
بگ بینک نہیں بگ بینگ جناب :)

convergent evolution بھی ممکن ہے
جی ایسا ممکن ہے۔ جیسے حشرات الارض نے اڑنے کی صلاحیت پرندوں سے ہٹ کر حاصل کی۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ ایک اور مضحکہ خیز بات چھوڑ دی آپنے۔ جب گیلیلیو نے 16 ویں صدی میں اسوقت کے غلط العام نظریات کو چیلنج کیا کہ یہ کائنات زمین کے گرد نہیں گھومتی تو اسوقت کے کیتھولک پاپائے روم نے موصوف کو بلا کر دھمکیاں دیں کہ وہ اپنے ان نئے "عقائد" کا پرچار بند کردے وگرنہ اسکے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ بالآخر 1992 یعنی کوئی 500 سال بعد کیتھولک چرچ نے اپنے کئے کی معافی مانگ لی کہ ہم غلط تھے اور گیلیلیو درست۔ یہ سائنس کی مذہبی گمراہیوں کیخلاف سب سے بڑی جیت تھی لیکن اسکے باوجود آجکل کے مذہبی لوگ اپنے آپکو بہت بڑا حق پرستوں کا چیمپئن سمجھتے ہیں :)
میرا خیال یہ ہے کہ یہ مذہب کا اعتراض نہیں تھا بلکہ مذہب کے ٹھیکیداروں کا اعتراض تھا جو ان کی جہالت کے مروجہ وقتی نظام پر مبنی تھا میرا دراصل مطلب بھی یہی تھا :)۔اس کا بیّن اور واضح ثبوت بھی آپ ہی کی بات کو ذرا غور سے دیکھنے سے سے مل جاتا ہے ہے کہ ان مذہبی ٹھیکیداروں نے ہی موصوف کو دھمکیاں دیں جس کا مذہب درس نہیں دیتا۔ ۔:p۔۔۔۔ہر شخص کو اپنا مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے۔ ۔۔۔ مزید براں یہ کہ جیسا کہ بعد میں ان کے رجوع سے بھی ظاہر ہوا بقول آپ کے 500 سال بعد۔میرا یہ بھی خیال ہے کہ تمام علما ء اس بات پر یک زبان نہیں ہوں گے۔
 

arifkarim

معطل
کیا آپ نے قرآن پاک کی کوئی تفسیر کا مطالعہ کبھی نہیں کیا؟
جی کیا ہے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت آدم علیہ السلام جسمانی حالت میں یہاں حضرت حوا کیساتھ اتارے گئے تب بھی مختلف انسانی نسلوں کی تخلیق کہاں سے ثابت ہوگی؟ کیا ایک سے زائد آدم تھے؟ ایک سیاہ فام، ایک سفید فام وغیرہ؟
 

حمیر یوسف

محفلین
کیا آپ نے قرآن پاک کی کوئی تفسیر کا مطالعہ کبھی نہیں کیا؟
بھائی قرآن پاک کی کسی تفسیر میں حضرت آدم کی نسل وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ حتی کے پرآنی الہامی کتب کی تفاسیر میں بھی یہ تفضیل نہیں ملتی ;)
 

arifkarim

معطل
بھائی قرآن پاک کی کسی تفسیر میں حضرت آدم کی نسل وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ حتی کے پرآنی الہامی کتب کی تفاسیر میں بھی یہ تفضیل نہیں ملتی ;)
ہم جاننا چاہیں گے کہ آپنے اپنی تعلیم کہاں حاصل کی کہ ہمارے خیالات آپ سے کافی ملتے جلتے ہیں :)
 
آپکے خیال میں حضرت آدم علیہ السلام سیدھا جنت سے یہاں زمین پر اتارے گئے تھے تو وہ جسمانی حالت میں کیسے تھے؟
میرا وہی خیال ہے جو قرآن پاک کا فرمان ہے۔
جی کیا ہے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت آدم علیہ السلام جسمانی حالت میں یہاں حضرت حوا کیساتھ اتارے گئے تب بھی مختلف انسانی نسلوں کی تخلیق کہاں سے ثابت ہوگی؟ کیا ایک سے زائد آدم تھے؟ ایک سیاہ فام، ایک سفید فام وغیرہ؟
یہ بعد کی بحث ہے کہ نسل انسانی قد اور جلد اور آنکھوں کا تغیر کیسے رونما ہوا۔ اس بارے میں ضرور تحقیق ہونی چاہئے لیکن قرآن پاک کے حکم سے انکار کی شرط کے ساتھ نہیں۔
بھائی قرآن پاک کی کسی تفسیر میں حضرت آدم کی نسل وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ حتی کے پرآنی الہامی کتب کی تفاسیر میں بھی یہ تفضیل نہیں ملتی ;)
نسل انسانی تو شروع ہی آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے ۔ یہ سوال ہی بہت بے تکا ہے کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ :)
 

arifkarim

معطل
یہ بعد کی بحث ہے کہ نسل انسانی قد اور جلد اور آنکھوں کا تغیر کیسے رونما ہوا۔ اس بارے میں ضرور تحقیق ہونی چاہئے لیکن قرآن پاک کے حکم سے انکار کی شرط کے ساتھ نہیں۔
جنیاتی تغیر ات بھی اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہیں۔ شواہد اور ریسرچ کے مطابق انسانی نسلوں کے مابین ارتقاء ہوا ہے اور جدید ترین تغیراتی تبدیلی نیلی آنکھوں کا رونما ہوناہے جو نسل انسانی میں کوئی 6 سے 10 ہزار سال قبل بحیرہ اسود کے گرد و نواح میں رہنے والے ایک آدم میں نظر آنا شروع ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں نیلی آنکھوں کی اکثریت یورپی النسل ہے:
Asa-Butterfield.jpg

http://www.dailymail.co.uk/sciencet...or-lived-10-000-years-ago-near-Black-Sea.html

نسل انسانی تو شروع ہی آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے ۔ یہ سوال ہی بہت بے تکا ہے کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ :)
ایسا آپکا ماننا ہے۔ سائنس اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتی کہ اسکے آثار قدیمہ کے مطابق کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملتے۔
جدید سائنس کے مطابق افریقی النسل سب سے زیادہ قدیم ترین نسل انسانی ہے جبکہ جنیاتی طور پر سب سے زیادہ تغیر یافتہ نسل یورپی ہے:
http://www.livescience.com/42838-european-hunter-gatherer-genome-sequenced.html
مختلف علاقوں سے ملے قدیم انسانی ڈھانچوں کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ قدیم یورپی باشندے بھی ہماری طرح بھوری یا کالی رنگت کے تھے۔ لیکن پھر انقلاب زراعتی آنے کے بعد انکی جلد رفتہ رفتہ سورج کی کمی اور خوراک میں تبدیلی کے باعث اسفید ہونا شروع ہو گئی۔
یاد رہے کہ آنکھوں کا نیلا ہونا یا جلد کا اسفیدہونا جنیاتی طور پر کوئی اضافہ نہیں ہے بلکہ وہ جینز جو پہلے آنکھوں اور جلد کو بھورا یا کالا رنگ دینے کے ذمہ دار تھے نے نئے بچوں کی پیدائش سے قبل ہی کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اسکی بجائے یہ جینز رفتہ رفتہ عمر بڑھنے کیساتھ ساتھ کام کرنا شروع ہو جاتے تھے۔ اسی لئے آجکل بھی عموماً یورپی النسل اسفید فام بچے پیدائش کے وقت سنہرے بال، نیلی آنکھوں والے ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے بالوں اور آنکھوں کا رنگ تبدیل ہو کر عام انسانوں جیسا ہو جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:
ایسا آپکا ماننا ہے۔ سائنس اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتی کہ اسکے آثار قدیمہ کے مطابق کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملتے۔
جدید سائنس کے مطابق افریقی النسل سب سے زیادہ قدیم ترین نسل انسانی ہے جبکہ جنیاتی طور پر سب سے زیادہ تغیر یافتہ نسل یورپی ہے:
میرا ایسا ماننا ظاہر ہے کہ حکم قرآنی کی وجہ سے ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسی تحقیق نا کی جائے اور جنیاتی تغیرات کو سمجھنے کی کوشش نا کی جائے۔ فرق صرف یقین رکھنے اور بات کو حتمی سمجھنے کا ہے۔ میں قرآن پاک کی بات کو حتمی سمجھتا ہوں اور سائنس کی بات کو بھی اہمیت دیتا ہوں لیکن انسانی سائنسی تحقیق کو حتمی نہیں سمجھتا :)
 

arifkarim

معطل
میرا ایسا ماننا ظاہر ہے کہ حکم قرآنی کی وجہ سے ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسی تحقیق نا کی جائے اور جنیاتی تغیرات کو سمجھنے کی کوشش نا کی جائے۔ فرق صرف یقین رکھنے اور بات کو حتمی سمجھنے کا ہے۔ میں قرآن پاک کی بات کو حتمی سمجھتا ہوں اور سائنس کی بات کو بھی اہمیت دیتا ہوں لیکن انسانی سائنسی تحقیق کو حتمی نہیں سمجھتا :)
آپکی بات اپنی جگہ درست ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ سائنس کسی آدم کو نہیں مانتی۔ بلکہ اسکے مطابق آجکل کے انسانوں کا جد امجد Homo sapiens sapiens تھا جسکا ارتقاء اس کی متوازی نوع انسانی Homo neanderthalensis کے باہم ملاپ کیساتھ ہوا۔ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ قدیم نوع انسانی معدوم ہو گئی اور ہماری جدیدنوع انسانیHomo Sapiens یعنی سوچنے والا انسان کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔ یہی ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا نچوڑ ہے جو آج سے کوئی 2 لاکھ سال قبل رونما ہوا تھا:
1374795539_mxoJLjRUSZCvbC8HH8uL_homosapiens.jpg

بعض مذہبی ذہنیت رکھنے والے احباب کو مندرجہ بالا خاکے میں موجود قدیم نوع انسانی بندر یا گوریلے کے مشابہ لگے گیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ و ہ بند ر نہیں جدید بنی نو انسان ہی کی سابقہ انواع تھے جو ارتقائی عمل سے گزر کر ناپید ہو گئے اور اپنی باقیات ہم میں چھوڑ گئے :)
neanderthals_bbcnews.gif
 

زیک

مسافر
اسکے مطابق آجکل کے انسانوں کا جد امجد Homo sapiens sapiens تھا جسکا ارتقاء اس کی متوازی نوع انسانی Homo neanderthalensis کے باہم ملاپ کیساتھ ہوا۔ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ قدیم نوع انسانی معدوم ہو گئی اور ہماری جدیدنوع انسانیHomo Sapiens یعنی سوچنے والا انسان کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔
جدید انسان ۹۵ فیصد سے زیادہ افریقہ کے ہومو سیپیئنز سیپیئنز ہی سے ہے۔ جدید دور میں افریقہ سے باہر رہنے والوں میں بہرحال ۵ فیصد تک نیئندرتال یا ڈینیسوون کی اینسسٹری پائی جاتی ہے
 

حمیر یوسف

محفلین
ہم جاننا چاہیں گے کہ آپنے اپنی تعلیم کہاں حاصل کی کہ ہمارے خیالات آپ سے کافی ملتے جلتے ہیں :)
عارف بھائی، میں تو اپنی تمام زندگی کراچی میں پلا بڑھا ہوں، اور ظاہر ہے تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی ہے، اب مجھے پتہ نہیں کہ آپ کہاں تعلق رکھتے ہیں اور کن کن جگہوں سے تعلیم حاصل کی ہے؟ لیکن ہمارے خیالات جو اتنے ملتے جلتے ہیں وہ بھی شائد convergent evolution کی ہی کوئی مثال لگتی ہے۔ خیالات کی Homology :LOL:. خیر جو اپنے ذہن کو آزاد رکھ کر غیر جانبداری سے سوچتا ہے، انکے خیالات آپس میں ایسے ہی ملتے جلتے لگتے ہیں۔
 

حمیر یوسف

محفلین
یہ بعد کی بحث ہے کہ نسل انسانی قد اور جلد اور آنکھوں کا تغیر کیسے رونما ہوا۔ اس بارے میں ضرور تحقیق ہونی چاہئے لیکن قرآن پاک کے حکم سے انکار کی شرط کے ساتھ نہیں۔

نسل انسانی تو شروع ہی آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے ۔ یہ سوال ہی بہت بے تکا ہے کہ وہ آیا کاکیشائی نسل کے تھے، آیا منگول نسل کے تھے یا افریقی نسل کے تھے؟ :)
لیکن بھائی میرے اگر آپ ارتقا کے عمل کو رد کرتے ہیں تو آپ کے الفاظ کا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ پھر ایک جانور جس شکل میں پیدا ہوا، اسکی آل و اولاد آج تک ایسے کی ایسی ہی چلی آرہی ہے۔ پھر آپ کی کہی ہوئی اس بات میں کوئی وزن ہی نہیں رہے گا کہ
"یہ بعد کی بحث ہے کہ نسل انسانی قد اور جلد اور آنکھوں کا تغیر کیسے رونما ہوا۔ اس بارے میں ضرور تحقیق ہونی چاہئے"
کیونکہ جب آپ تغیر کو مانتے ہی نہیں کہ یہ ہوا تھا تو اس پر آگے آپ بحث کیسے کروگے؟ پھر جب حضرت آدم جب پیدا ہوئے تھے تو وہ اپنی شکل و رنگ و روپ کے اعتبار سے انسانوں کے کس گروہ سے ملتے جلتے تھے؟ کسی ایک آپشن کو اختیار تو آپکو بھی لازمی کرنا ہی پڑے گا؟ بالفرض آپ نے اگر افریقی نسل کو منتحب کیا تو پھر باقی کے نسل انسانی کے گروہ یعنی کاکیشیائی اور منگول کیا اسکے مطلب "غیر آدم" کی پیداوار تھے؟ کیونکہ بظاہر تو آپ اس تغیر کو مانتے نہیں ہیں، جو ارتقاء کے ثبوت کے لئے سائنسدان مہیا کرتے ہیں؟
امید ہے بھائی آپکے پاس ان سوالات کی کوئی سیدھی سادھی قابل فہم توجیح ہوگی، جسکے بعد یقینا آپ ہم جیسے نالائقوں کو مطمئن کرسکیں :sneaky:

 
لیکن بھائی میرے اگر آپ ارتقا کے عمل کو رد کرتے ہیں تو
میں ارتقا کے عمل کو کلیتاً رد نہیں کرتا ۔ البتہ میرا نظریہ یہ ہے کہ جو بات قرآن وحدیث میں واضح طور پر آگئی ہے اسی کو حتمی سمجھا جائے۔ چونکہ قرآن و حدیث میں حضرت آدم علیہ السلام کے موجودہ انسانی شکل میں ہونے کا ذکر ہے اس لئے اس کو اسی طرح من و عن مانا جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی تغیر کا ذکر حدیث پاک میں موجود ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ ان کا قد کئی گز لمبا تھا اور آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے موجودہ انسانی شکل کے انسان وجود میں آیا۔ تو ظاہر ہے کہ یہ تغیر ہے اور حدیث اس کا انکار نہیں بلکہ اقرار کر رہی ہے۔ :)
 
Top