لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی، پی اے ٹی کو مارچ سے روک دیا

سید زبیر

محفلین
اس وقت بھی تمام طاقت قومی اسمبلی اور سینٹ کے پاس ہی ہے۔ قومی اسمبلی آج ہی تحریک عدم اعتماد منظور کر کے وزیر اعظم کو گھر بھیج سکتی ہے
برادر عزیز ! قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خاصی کثیر تعدا د ہے مگر کیا وہ اپنی پارٹی کے قائد کی مرضی کے خلاف اظہار رائے کے لئے آزاد ہیں ۔ یا صرف اپنے قائد کے بھونپو ہیں۔ پارٹی کی رائے کے خلاف آواز بلند کرنے سے اُن کی ممبر شپ ختم ہو جائے گی ۔ ممبران اجلاس میں شرکت اور قانون سازی میں وہ کتنے سنجیدہ ہیں آپ بخوبی جانتے ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ صرف اپنی اور اپنے حواریوں کے لئے مراعات لینے کے لئے سرگرم عمل ہوتے ہیں ۔
 

حسیب

محفلین
برادر عزیز ! قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خاصی کثیر تعدا د ہے مگر کیا وہ اپنی پارٹی کے قائد کی مرضی کے خلاف اظہار رائے کے لئے آزاد ہیں ۔ یا صرف اپنے قائد کے بھونپو ہیں۔ پارٹی کی رائے کے خلاف آواز بلند کرنے سے اُن کی ممبر شپ ختم ہو جائے گی ۔ ممبران اجلاس میں شرکت اور قانون سازی میں وہ کتنے سنجیدہ ہیں آپ بخوبی جانتے ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ صرف اپنی اور اپنے حواریوں کے لئے مراعات لینے کے لئے سرگرم عمل ہوتے ہیں ۔
سر! آپ زندگی کے کسی بھی شعبہ کو لے لیں اپنے افسران کے خلاف بات کرنے کی جرات چند لوگوں کے پاس ہی ہوتی ہے اور اکثر اوقات اُن لوگوں کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے
یہی حال اسمبلی میں بھی ہوتا ہے ممبران پارٹی کے قائد کے خلاف بات کر سکتے ہیں لیکن اکثر اتنی جرات نہیں رکھتے اس بات پہ اُن کی پارٹی سے ممبر شپ تو ختم ہو سکتی ہے لیکن اسمبلی سے ممبرشپ ختم نہیں ہو سکتی
ممبران یقینا قانون سازی کے لیے سنجیدہ نہیں ہوتے لیکن اس میں قصور ممبران کا ہے یا کچھ حد تک ہم لوگوں کا بھی ہے جن کی وجہ سے وہ اسمبلی میں پہنچے ہیں اس میں آئین یا قانون کا کوئی قصور نہیں
 
Top