سُنی عسکریت پسندوں کا بس اور ہسپتال پر حملے کا دعوی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

S. H. Naqvi

محفلین
دیکھیں جی لمبی کہانیوں میں الجھے بغیر، دو ٹوک الفاظ میں ایسے سانحات کی مذمت اور اور ایک صاف شفاف پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو حکومت کو، سیاسی پارٹیوں کو، مذہبی گروپوں کو ایک واضح موقف اپنانا ہو گا۔ کیوں نہ ایسی کاروائی کرنے والے اور پھر اسے کا فخریہ اظہار کرنے والے سے اہل سنت والجماعت برات کا اظہار کرے۔ اسی طرح کل اگر کوئی اور فرقہ(سپاہ محمد یا نفاذ جعفریہ والا کوئی گروہ) ایسی کسی دہشت گردی کی واردات میں ملوث پایا جاتا ہے اور اعلانیہ اس کے اظہار بھی کرتا ہے تو اہل تشیع کے مقتدر حلقوں اور نمائندہ تنظیموں کو چاہیے کے اسے سے اسی طرح سر عام برات کا اظہار کریں تا کہ شدت پسند گروہ جو پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے واضح ہو جائے اور عوام کو انکی اصلیت پتا چل جائے۔
(واضح رہے کہ فی الحال تو سنی لیبل رکھتے ہوے لشکر جھنگوی والے بالا جا رہے ہیں، خوف تو اس وقت کا ہے جب جوابا "ایرانی" اسلحہ اسی طرح سر عام استعمال ہونا شروع ہو جائے گا)اسی طرح سیاسی جماعتیں بھی ایسے گروہ کو بے نقاب اور تنہا کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں اور ان کے خلاف ایک واضح موقف رکھیں تا کہ پھر حکومت بھی ایسے واضح نشان زدہ گروہ کے خلاف ایک مضبوط اور واضح پالیسی بنانے کے قابل ہو سکے گی اور کوئی ٹھوس کاروائی کر سکے، تبھی پاکستان کو بچایا جا سکتا ہے وگرنہ ایسے کھلی بربریت کا جواز ڈھونڈتے رہے اورایسی گروہوں کو ہر دفعہ رعایتی نمبرز دیتے ہوئے پاس کرتے رہے تو پھر پاکستان کا بچنا مشکل ہے، حالات انتہائی بگڑے ہوے ہیں اور اشاریے بہت ہی خوفناک سچائیوں کوسامنے لا رہے ہیں۔۔۔۔۔!
 

S. H. Naqvi

محفلین
  • ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا ، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ،
    پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا
    موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ

    پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے
    استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
    جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
    کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
    ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی
    جناب عالی
    میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس زمانے کے اساتذہ میرے ساتھ ایسے ہی ظلم کرر ہے ہیں جیسے اونٹ کے ساتھ ہورہا ہے لوگ ان کے حقوق کو پامال کررہے ہیں ان سے کام بھی لیتے ہیں اور ان کو مارتے بھی ہیں۔اور ہاں اونٹ کا گوشت نہایت ہی لذیذ ہوتا ہے۔ اس کا گوشت کبھی آپ نے کھایا ہے اگر نہیں تو چلو میرے ساتھ میرے علاقے میں آپ کو کھلاتا ہوں۔ اور کبھی اونٹنی کا دودھ بھی آپ نے پیا ہے۔ یہ بہت ہی عمدہ اور صحت کیلئے مفید ہوتا ہے۔ اگر آپ میری درخواست پر غور کریں تو میں آپ کو اونٹ کا گوشت کھلانے اور اونٹنی کا دودھ پلانے کا وعدہ کرتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بالکل اسی طرح آج ہمارے تمام مسائل کا سبب طالبان ہیں ...
    کراچی میں بد امنی کیوں ہے ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ طالبان
    ملاله کا واقعہ کا سبب ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجہ طالبان
    ملک میں بم دھماکے کیوں ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجہ طالبان
    بینظیر کو کس نے قتل کیا ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب طالبان
    ہم نے بھی اونٹ کی طرح طالبان کو یاد کر رکھا ہے .کبھی اپنی کمزوریوں اور برائیوں کو بھی مد نظر رکھ کر دیکھیں۔۔۔۔۔!
  • ماخوذ از فیس بک
 

حسیب

محفلین
یوسف بھائی ، ایران نے جن مقاصد کے لئے شیعہ تنظیموں کی مدد کی بعینہ انہی مقاصد کے لئے عرب ممالک نے وہابی تنظیموں کی مدد کی۔ میں نے ہمیشہ دونوں فریقین کی پاکستان میں اس در اندازی کی کھل کر مزمت کی ہے۔ کبھی ایک فریق کی طرف ڈنڈی نہیں ماری کہ اس نے "دفاع" کے طور پر یہ بد معاشی کی۔
۔

ان وہابی تنظیموں پر روشنی ڈالیں جو پاکستان میں در اندازی کرتیں رہیں ہیں
 

یوسف-2

محفلین
کیا یہ ٹھیک نہ ہو گا کہ ہم قاتلین کی دو حرفی مذمت کریں اور ان کے اس عمل کو کھلے لفظوں میں اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے کی ہمت کر لیں؟ ۔
اس ضمن میں قرآن کا فرمان واضح ہے کہ جس نے کسی ایک بے گناہ کو قتل کیا، اُس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ میں ہر اُس فرد، گروہ، مسلک، ریاستی ادارے کی دوتوک الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جو کسی بھی بے گناہ (جس کا گناہ، جس پر لگایا جانے والا ”الزام“ ثابت نہیں) کو قتل کرے ۔ ۔ ۔
  1. خواہ وہ حکومت پاکستان کے وہ ”انتظامی حکام“ ہوں جو ماورائے عدالت مبینہ طالبان، القاعدہ سے وابستہ افراد اور ان کے بیوی بچوں سمیت تمام اہل خانہ کے ( عدالتی ٹرائل کئے بغیر بمباری کے ذریعہ یا فوجی آپریشن کے ذریعہ یا ڈرون حملوں میں سپورٹ کے ذریعہ) قتل عام میں ملوث تھے یا ہیں
  2. وہ تمام سیکیریٹی ایجنسی کے اہلکار جو حکومت کے اس غیر قانونی احکامات پر یا ازخود پاکستان کے مسلمان شہریوں کے اس طرح ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔ خواہ یہ قتل فاٹا میں ہو، خیبر پختون خواہ میں ہو یا بلوچستان میں
  3. میں القاعدہ یا طالبان سے وابستہ اُن تمام مبینہ افراد کی بھی مذمت کرتا ہوں جو اپنے اوپر مندرجہ بالا مظالم کا ”بدلہ“ عام پاکستانی بے گناہ عوام سے لیتے ہیں اور خود کش دھماکوں، یا عوامی مقامات پر دھماکوں کے ذریعہ بے گناہ افراد کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ قتل کے قصاص کا بدلہ قاتلین سے لیا جاتا ہے نہ کہ بے گناہ افراد سے
اُمید ہے کہ آپ بھی اسی طرح ”دوٹوک“ انداز میں ”جملہ قاتلین“ کی مذمت کریں گے۔ بے گناہ کا قتل ہر حال میں قابل مذمت ہے، خواہ یہ کوئی بھی کرے۔ تاہم ”عدل“ کا تقاضہ یہ ہے کہ ”جوابی قتل عام“ کی مذمت سے پہلے، بے گناہوں کے قتل کا ”آغاز کرنے والوں“ کی مذمت پہلے کی جائے۔ میں تو ہر دونون اقسام کے قتل عام کی مذمت کرتا ہوں۔
 

سید ذیشان

محفلین
اس ضمن میں قرآن کا فرمان واضح ہے کہ جس نے کسی ایک بے گناہ کو قتل کیا، اُس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ میں ہر اُس فرد، گروہ، مسلک، ریاستی ادارے کی دوتوک الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جو کسی بھی بے گناہ (جس کا گناہ، جس پر لگایا جانے والا ”الزام“ ثابت نہیں) کو قتل کرے ۔ ۔ ۔

اس کا تعین کون کرے گا کہ کون گنہ گار ہے اور کون نہیں؟
 

یوسف-2

محفلین
اس کا تعین کون کرے گا کہ کون گنہ گار ہے اور کون نہیں؟

یہاں ”بے گناہ“ سے مراد ایسا مجرم ہے جس کے جرم کی سزا ملکی قوانین یا شرعی قوانین کے مطابق موت ہو۔ جرم (یا گناہ) کا تعین عدالتیں کیا کرتی ہیں، ٹرائل کے بعد ۔ مجرم کا عدالتی ٹرائل ہونے اور اس کاجرم ثابت ہونے سے قبل اپنے ہی ملک کے کسی بھی ”ملزم یا ملزمان“ کو اس کے بیوی بچوں اور خاندان سمیت ڈرون حملوں، بمباری یا آپریشن کے ذریعہ ”قتل“ نہیں کیا جاسکتا۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ مندرجہ بالا حقائق کے بدنما ہاتھی کو یکسر نظر انداز کرکے ایک لفظ کے دُم کو پکڑ کر بحث کو کس رُخ پر لےجانا چاہتے ہیں۔ :) میں نے اپنا نکتہ نظر بیان کردیا ہے، جو اس ملک اُن کروڑوں شہریوں کا بھی نکتہ نظر ہے، جنہوں نے نواز لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف، س) وغیرہ کو اسی بنیاد پر ووٹ دئے ہیں کہ وہ امریکہ کی نام نہاد وار اگینسٹ ٹیررزم کے خلاف ہیں۔ آپ بھی اپنا نکتہ نظر شوق سے بیان کریں۔ لیکن فی الحال میں آپ سے کوئی مناظرہ یا مکالمہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں :p
 

سید ذیشان

محفلین
یہاں ”بے گناہ“ سے مراد ایسا مجرم ہے جس کے جرم کی سزا ملکی قوانین یا شرعی قوانین کے مطابق موت ہو۔ جرم (یا گناہ) کا تعین عدالتیں کیا کرتی ہیں، ٹرائل کے بعد ۔ مجرم کا عدالتی ٹرائل ہونے اور اس کاجرم ثابت ہونے سے قبل اپنے ہی ملک کے کسی بھی ”ملزم یا ملزمان“ کو اس کے بیوی بچوں اور خاندان سمیت ڈرون حملوں، بمباری یا آپریشن کے ذریعہ ”قتل“ نہیں کیا جاسکتا۔

آپ شائد "گناہ گار" کہنا چاہتے تھے۔ اگر ملکی قانون کی بات کریں تو پھر یا تو عدالتیں سزا دینے کا اختیار رکھتی ہیں، یا پھر اگر کہیں پر شورش ہو تو فوج کو حکومت بلا سکتی ہے۔ تو پولیس اور فوج کے علاوہ کسی بھی فرد واحد کو کسی کی جان لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اور پولیس اور فوج بھی صرف اور صرف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا کر سکتی ہے۔

جہاں تک شرعی قانون کی بات ہے تو پھر میرا وہی سوال ہے یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون موت کا حقدار ٹہرے گا؟ کیا یہ فیصلہ کسی مفتی یا مسجد کے مولوی پر چھوڑ دیا جائے؟

مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ مندرجہ بالا حقائق کے بدنما ہاتھی کو یکسر نظر انداز کرکے ایک لفظ کے دُم کو پکڑ کر بحث کو کس رُخ پر لےجانا چاہتے ہیں۔ :) میں نے اپنا نکتہ نظر بیان کردیا ہے، جو اس ملک اُن کروڑوں شہریوں کا بھی نکتہ نظر ہے، جنہوں نے نواز لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف، س) وغیرہ کو اسی بنیاد پر ووٹ دئے ہیں کہ وہ امریکہ کی نام نہاد وار اگینسٹ ٹیررزم کے خلاف ہیں۔ آپ بھی اپنا نکتہ نظر شوق سے بیان کریں۔ لیکن فی الحال میں آپ سے کوئی مناظرہ یا مکالمہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں :p

جہاں تک آپ کے حقائق کے "بد نما ہاتھی" کی بات ہے تو فوج کو حالت جنگ میں بھی قوانین کا پاس رکھنا چاہیے اور صرف اور صرف مسلح لوگوں پر گولی چلانی چاہیے۔ لیکن ہماری فوج بھی تو ہم لوگوں سے ہی مل کر بنی ہے تو کئی ایک ایسی وڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں فوج جنگی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بچوں اور بوڑھوں کو قتل کر رہی ہے۔ یہ کافی شرمناک ہے ایک ایسے ادارے کے لئے جو کہ اپنے ڈسپلن پر فخر کرتی ہے۔ جہاں تک ڈرون حملوں کی بات ہے تو یہ بھی بین الاقوامی قانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کو چاہیے کہ ان علاقوں میں کاروائی کر کے عرب اور دیگر دہشتگردوں کو نکال باہر کریں تاکہ کسی کو ہمارے ملک پر انگلی اٹھانے تک کی بھی جرات نہ ہو۔

لیکن جہاں درجنوں کی تعداد میں شیعہ مر رہے ہوں وہاں پر "تحریک نفاز فقہ جعفریہ" کے نام کو لے کر غلط فہمیاں پھیلانا آپ جیسے "حق گو" صحافی کو زیب نہیں دیتا۔ اس نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے یہ لوگ فقہ جعفریہ کو بزور انقلاب پورے ملک پر نافذ کرنا چاہتے تھے، تو یہ بات ناممکنات میں شامل ہے اور اس تحریک کے بانیان کو بھی اس کا خوب علم تھا۔ اس تحریک کے بننے کے مقاصد یہ تھے کہ ضیاء الحق نے فقہ جعرفیہ کے پیروکاروں پر فقہ حنفیہ کے قوانین ٹھونسنے کی کوشش کی تھی، جس کی وجہ سے ایک ری ایکشن کے طور پر یہ تحریک بنی۔ اور ان کا مقصد صرف فقہ جعفریہ کے پیروکاروں پر نفاذِ فقہ جعفریہ کرنا تھا نہ کہ پورے پاکستان کے باسیوں پر- 1980 میں اس تنظیم کے کچھ لوگوں نے اسلام آباد میں سیکریٹریٹ پر قبضہ کیا اور ضیاءالحق سے اپنے مطالبات منوائے۔ ضیاءالحق جیسا ڈیکٹیٹر جو کی صحافیوں کو کوڑے لگواتا تھا بھلا ایسی بات کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ اسی دوران ایران اور عراق کی جنگ شروع ہوئی، اور عراق کی مدد سے ضیاء الحق نے سپاہ صحابہ کی تنظیم بنوائی تاکہ پاکستان میں ایران کے influence کو ختم کیا جا سکے۔
 
موصوف کا نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغاوت کا مرتکب ہوجائے، اور حکومت اس گروہ کی طاقت کو کچلنے کیلئے اس گروہ کے خلاف اگر کارروائیاں کرے، تو اس گروہ کو اسلام کی تعلیمات اور قرآن کی آیت کے مطابق قصاص لینے کا حق حاصل ہے:) چنانچہ انکے خیال کے مطابق طالبان اور القاعدہ وغیرہ جو کچھ کر رہے ہیں سب جائز ہے شرط یہ ہے کہ پاکستان کی عوام کے خلاف نہ کریں ہاں البتہ پاکستانی فوج وغیرہ پر از روئے اسلام وہ حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔
اس کا تعین کون کرے گا کہ کون گنہ گار ہے اور کون نہیں؟
 

سید ذیشان

محفلین
موصوف کا نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغاوت کا مرتکب ہوجائے، اور حکومت اس گروہ کی طاقت کو کچلنے کیلئے اس گروہ کے خلاف اگر کارروائیاں کرے، تو اس گروہ کو اسلام کی تعلیمات اور قرآن کی آیت کے مطابق قصاص لینے کا حق حاصل ہے:) چنانچہ انکے خیال کے مطابق طالبان اور القاعدہ وغیرہ جو کچھ کر رہے ہیں سب جائز ہے شرط یہ ہے کہ پاکستان کی عوام کے خلاف نہ کریں ہاں البتہ پاکستانی فوج وغیرہ پر از روئے اسلام وہ حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔


موصوف تو مناظرہ یا مکلمہ کے موڈ میں ہی نہیں ہیں۔ :p
 

ساجد

محفلین
اس ضمن میں قرآن کا فرمان واضح ہے کہ جس نے کسی ایک بے گناہ کو قتل کیا، اُس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ میں ہر اُس فرد، گروہ، مسلک، ریاستی ادارے کی دوتوک الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جو کسی بھی بے گناہ (جس کا گناہ، جس پر لگایا جانے والا ”الزام“ ثابت نہیں) کو قتل کرے ۔ ۔ ۔
  1. خواہ وہ حکومت پاکستان کے وہ ”انتظامی حکام“ ہوں جو ماورائے عدالت مبینہ طالبان، القاعدہ سے وابستہ افراد اور ان کے بیوی بچوں سمیت تمام اہل خانہ کے ( عدالتی ٹرائل کئے بغیر بمباری کے ذریعہ یا فوجی آپریشن کے ذریعہ یا ڈرون حملوں میں سپورٹ کے ذریعہ) قتل عام میں ملوث تھے یا ہیں
  2. وہ تمام سیکیریٹی ایجنسی کے اہلکار جو حکومت کے اس غیر قانونی احکامات پر یا ازخود پاکستان کے مسلمان شہریوں کے اس طرح ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔ خواہ یہ قتل فاٹا میں ہو، خیبر پختون خواہ میں ہو یا بلوچستان میں
  3. میں القاعدہ یا طالبان سے وابستہ اُن تمام مبینہ افراد کی بھی مذمت کرتا ہوں جو اپنے اوپر مندرجہ بالا مظالم کا ”بدلہ“ عام پاکستانی بے گناہ عوام سے لیتے ہیں اور خود کش دھماکوں، یا عوامی مقامات پر دھماکوں کے ذریعہ بے گناہ افراد کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ قتل کے قصاص کا بدلہ قاتلین سے لیا جاتا ہے نہ کہ بے گناہ افراد سے
اُمید ہے کہ آپ بھی اسی طرح ”دوٹوک“ انداز میں ”جملہ قاتلین“ کی مذمت کریں گے۔ بے گناہ کا قتل ہر حال میں قابل مذمت ہے، خواہ یہ کوئی بھی کرے۔ تاہم ”عدل“ کا تقاضہ یہ ہے کہ ”جوابی قتل عام“ کی مذمت سے پہلے، بے گناہوں کے قتل کا ”آغاز کرنے والوں“ کی مذمت پہلے کی جائے۔ میں تو ہر دونون اقسام کے قتل عام کی مذمت کرتا ہوں۔
یوسف بھائی ، اس میں مذمت نہ کرنے والی کیا بات ہے۔ کیا آپ نے میرے سابقہ مراسلوں میں بلوچوں کے قتل اور اغوا پر بار بار حکومتی مذمت نہیں دیکھی؟ ۔ کیا سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سے بندے غائب کئے جانے پر میں نے آواز بلند نہیں کی؟۔
کیا آپ نہیں جانتے کہ میرا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو قبائلی علاقوں میں اپنی افواج کے ذریعے کارروائی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ الحاق کے معاہدے کی رو سے ہم اپنی افواج وہاں رکھ سکتے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے لئے استعمال نہیں کر سکتے۔
کیا آپ نے ڈرون حملوں پر میرے مراسلے نہیں دیکھے ، شاید ان حملوں پر کسی نے امریکہ اور اس کے وکیلوں کو میری طرح محفل پر بار بار غلط ثابت کیا ہو۔
عالی جاہ قتل تو بہت بڑی بات ہے ہم نے تو حکومتی نمائندوں کے ہاتھوں عوام پر تشدد کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
 

Fawad -

محفلین
جب سے پاکستان (قادیانی پرویز مشرف کی حکومت کے ماتحت انتطامیہ، فوج، و دیگر سیکیوریٹی ادارے) امریکہ کی نام نہاد وار اگینسٹ ٹیررزم (اور عملاً مسلمانوں کے خلاف جنگ، جسے بش سرکار نے کروسیڈ قرار دیا تھا) میں ”شامل“ ہوا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں (امریکی ، ناٹو) کے ساتھ مل کر مسلمانوں (افغانی اور پاکستانی شہریوں،) کے ”قتل عام“ میں شریک ہوا ہے، پاکستانی شہری (مسلمان) دونوں طرف سے مارے جارہے ہیں۔ ایک طرف سیکیوریٹی ایجنسیز بمباری کرکے، آپریشن کرکے پاکستانی مسلمانوں کو قتل کر رہی ہے، ڈروں حملوں کےذریعہ مسلمانو کا صفایا کیا جارہا ہے


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کسی بھی تنازعے کے ميرٹ اور اس کے اسباب کو سمجھنے کے لیے ان واقعات کا غير جانب دارانہ تجزيہ کرنا چاہيے جو بالاخر ايک فوجی کاروائ کی صورت اختيار کر جاتا ہے۔ اس تناظر ميں امريکہ پر ان تنازعات کو شروع کرنے کا الزام نہيں لگايا جا سکتا۔ 911 کے واقعات سے بہت پہلے دہشت گردوں نے امريکہ کے خلاف کھلی جنگ کا باقاعدہ اعلان کر ديا تھا۔ القائدہ کے دہشت گردوں کی جانب سے دنيا بھر ميں امريکی شہريوں کو نشانہ بنايا جا رہا تھا اور طالبان کی ليڈرشپ نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود عالمی برادری سے تعاون اور حمايت سے صاف انکار کر ديا تھا۔

آپ کے موقف کا بنيادی نقطہ يہ ہے کہ امريکہ دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوئے باقاعدہ ايک حکمت عملی کے تحت خطے ميں بے دريخ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ آپ کی يہ سوچ نا صرف يہ کہ ناقابل فہم ہے بلکہ اس ضمن ميں آپ نا تو کوئ شواہد پيش کر سکتے ہيں اور نا ہی کوئ منطقی دليل دی جا سکتی ہے۔

ميں نے فورمز پر يہ سوال بارہا اٹھايا ہے کہ اگر امريکی حکومت اور ہمارا موقف اتنا ہی شيطانی ہے جتنا کہ آپ کی رائے سے ظاہر ہے تو پھر کيا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ، سعودی عرب سميت کئ اہم اسلامی ممالک اور پاکستان اور افغانستان کی مقامی حکومتيں نا صرف يہ کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے موقف کی حمايت کر رہی ہيں بلکہ ان مشترکہ دشمنوں کا پيچھا کرنے کے ليے ہمارے ساتھ مل کر کام کر رہی ہيں؟
يہ ياد رہے کہ ستمبر 10 2001 کو اس خطے ميں ہماری کوئ فوجی نہيں تھا اور نا ہی ہمارا ايسا کوئ منصوبہ يا خواہش تھی کہ ايک ايسی جنگ کے ليے اپنے فوجی اور وسائل کھپائے جائيں جو ايک دہائ سے زيادہ عرصے سے جاری ہے۔ ہميں بادل ناخواستہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائ کا فيصلہ کرنا پڑا جنھوں نے ہم پر حملہ کيا تھا۔

يہ الزام بالکل لغو ہے کہ ہم خطے ميں بغير کسی تفريق کے عام مسلمانوں کو قتل کرنے کے درپے ہيں۔ اس دعوے کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ خود امريکہ کے اندر مسلمان ہر شعبہ زندگی ميں بغير کسی روک ٹوک کے ترقی کے زينے طے کر رہے ہيں اور اس عمل ميں 911 کے واقعات کے بعد بھی کوئ رخنہ نہيں پڑا ہے۔ ہم صرف ان عناصر کا تعاقب کر رہے ہيں جنھوں نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ يہ وہی عناصر ہيں جو اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ کم سن طالبات سے بھری ہوئ سکول بس کو دھماکے سے اڑا دينا اور پھر اس کے بعد ہسپتالوں کو نشانہ بنانا "عظيم کاميابی" کے زمرے ميں آتا ہے اور ان کی خود ساختہ "مقدس جدوجہد" کے ضمن ميں ايک جائز اقدام ہے۔
پاکستان کو امريکی حکومت سے خطرہ نہيں ہے بلکہ اصل خطرہ تو اس وحشيانہ سوچ سے ہے جو دانستہ معاشرے کے خدوحال کو گہنا رہی ہے اور قوم کی بنيادی نظرياتی اساس کو نشانہ بنا رہی ہے۔ قوم کے بانی کے ليے نفرت کے جذبات، آئينی قدروں اور ثقافتی ورثے کے ليے ان کی سوچ تو زيارت جيسی تاريخی قومی عمارت پر حملے سے واضح ہو چکی ہے۔

آپ اس تبائ اور بربادی کا تصور کر سکتے ہيں اگر ان مجرموں کے خلاف کوئ تاديبی کاروائ نا کی جائے اور انھيں بغير کسی روک ٹوک کے اپنی کاروائياں جاری رکھنے کے ليے کھلی چھٹی دے دی جائے۔

جيسا کہ ميں نے پہلے بھی يہ لکھا تھا کہ تاريخ کے کسی بھی فوجی تنازعے کی طرح دہشت گردوں کے خلاف کاروائ کے نتيجے ميں بھی بے گناہ انسانوں کی ہلاکت ايک تلخ حقيقت ہے ليکن آپ کو يہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کون سا فريق دانستہ بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ يہ وہي لوگ ہيں جو اس تنازعے کو شروع کرنے کا موجب بنے تھے اور جنھوں نے مذاکرات، قراردادوں اور پرامن طريقوں سے کی جانے والی ہر کوشش اور دہشت گردی کی وبا کو روکنے کے لیے کيے جانے والے تمام مطالبات کو يکسر مسترد کر ديا تھا۔

کوئٹہ ميں حاليہ حملوں اور ايسے ہی ديگر سانحوں کی روک تھام کے ليے اسٹريجک اتحاديوں کے درميان مشترکہ کاوشيں انصاف کے حصول کے ضمن ميں ناگزير عمل ہے۔ اسے کسی بھی طور سے فتنہ يا تشدد کا محرک قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
zindagi_anmol_hai.jpg


revised_Ziarat_banner.jpg
 
یوسف بھائی ، ایران نے جن مقاصد کے لئے شیعہ تنظیموں کی مدد کی بعینہ انہی مقاصد کے لئے عرب ممالک نے وہابی تنظیموں کی مدد کی۔ میں نے ہمیشہ دونوں فریقین کی پاکستان میں اس در اندازی کی کھل کر مزمت کی ہے۔ کبھی ایک فریق کی طرف ڈنڈی نہیں ماری کہ اس نے "دفاع" کے طور پر یہ بد معاشی کی۔
آپ نے ایک بار پھر بات کی ہے بیرونی طاقت کی عیاری کی تو اس کے لئے اتنا طویل مضمون لکھے بغیر ہی کہہ دیتے کہ عرب قوم پرستی میں برطانیہ کی لارنس آف عریبیہ کے ذریعے کی گئی عیاری کا مطالعہ کر لیں۔ اگر ہم اس سے بھی پچھلی تاریخ میں جائیں گے تو شاید میرے بہت سارے دوست تاریخ کی بہت ساری سچائیوں کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔ خلافت کا خاتمہ اور عرب قوم پرستی پر ہی غور فرما لیں تو بات آپ کے اپنائے گئے مؤقف کے خلاف جاتی ہے۔
آپ اپنی بات کہنے میں آزاد ہیں لیکن جن نکات کی بنیاد پر آپ طالبان کی حمایت میں لکھنا چاہ رہے ہیں میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں۔ دنیا کی حربی تاریخ اٹھائیے اور دیکھئے کہ پراکسی وار اور وار لارڈز کے ذریعے جنگیں لڑنے والوں کا کیا انجام ہوتا رہا ہے۔ روس کہاں تک پہنچا اور کہاں تک جا سکتا تھا اس کا پاکستان کے بے گناہ عوام کا شدت پسند گروہ کے ہاتھوں ہونے والے قتل کے جرم کے دفاع سے کیا تعلق؟۔
کیا یہ ٹھیک نہ ہو گا کہ ہم قاتلین کی دو حرفی مذمت کریں اور ان کے اس عمل کو کھلے لفظوں میں اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے کی ہمت کر لیں؟ ۔
نہ نہ ساجد بھائی کٹے نہ کھولیئے ادھر بہت سارے لوگ آپ کی بیان کردہ سچائیوں کو ہضم نہیں کرپائیں گے دراصل میرے جیسے لوگ کدھر جائیں کریں تو کریں کیا کیونکہ ہم تو مولا علی کے بھی ماننے والے ہیں حسنین کریمین پر بھی جان نچھاور کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ خلفائے راشدین پر بھی ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔
شیعہ لوگ صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں جن کی آپ کو یوٹیوب پر وڈیوز مل جائیں گی۔
وہابی لوگ حسنین کریمین کو باٖغی غدار اور گالیاں دیتے ہیں فیس بک پر آپ کو سب کچھ مل جائے گا
اب میرے جیسے لوگ کیا کریں کس کا ساتھ دیں کیونکہ دونوں گمراہ فرقے ڈیفالٹر ہیں
 

Fawad -

محفلین
ایک طرف سیکیوریٹی ایجنسیز بمباری کرکے، آپریشن کرکے پاکستانی مسلمانوں کو قتل کر رہی ہے، ڈروں حملوں کےذریعہ مسلمانو کا صفایا کیا جارہا ہے تو اس کے ”جواب“ میں امریکن سی آئی اے اپنے ہی تخلیق کردہ القاعدہ، طالبان (یا ان کی صفگوں میں داخل کردہ اپنے ریمنڈ ڈیوس جیسے سینکڑوں ایجنٹوں کے ذریعہ) کو اسلحہ، خود کش جیکٹ اور سرمایہ فراہم کرکے بے گناہ قتل ہونے والوں کے ورثاء کو ”بدلہ“ لینے کے لئے ”تیار“ کر رہی ہے۔ ۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


آپ بدلے کا لفظ ايک ايسے واقعے کے تناظر ميں استعمال کر رہے ہيں جس ميں بے رحم ظالموں نے ايک سکول بس کو نشانہ بنايا ہے جس ميں کمسن طالبات سوار تھيں۔ يہی نہيں بلکہ اس کے بعد ہسپتال کو بھی اپنی وحشيانہ کاروائ ميں شامل کيا گيا۔

قابل افسوس بات يہ ہے کہ آپ اور آپ کی سوچ سے متفق ديگر رائے دہندگان معصوم شہريوں پر حملوں پر اپنے غم وغصہ کا اظہار تو کرتے ہيں ليکن زمينی حقائق سے کم آگہی اور نادانستگی ميں اس غلط رويے اور دانستہ تشہير شدہ نظريے کو تقويت دينے کا سبب بھی بنتے ہيں جس کے پيچھے وہ متشدد سوچ کارفرما ہے جس کی بغير کسی پس وپيش مذمت کی جانی چاہيے۔

کيا آپ ايمانداری سے يہ سمجھتے ہيں کہ سکول کی کم سن طالبات کو بے رحمانہ طريقے سے قتل کرنا ايک ايسا فعل ہے جس کی توجيہہ پيش کی جا سکتی ہے يا جسے "بدلہ"، "ردعمل" اور "جوابی کاروائ" جيسے الفاظ کے ذريعے درست قرار ديا جا سکتا ہے؟

اور پھر زيارت جيسے تاريخی قومی ورثے کی تبائ کو آپ کس کھاتے ميں ڈاليں گے؟

يہ سوچ بالکل غلط ہے کہ يہ عناصر محض اپنی کسی محرومی يا اپنے اوپر کسی ظلم کے نتيجے ميں ردعمل کا اظہار کر رہے ہيں۔ يہ محض مجرموں کا گروہ ہے جو پاکستان کی رياست کی خودمختاری اور رٹ کو چيلنج کر رہے ہيں۔ اپنے مذموم مقاصد کے ليے فتنہ سازی اور دانستہ تشدد کو ہوا دينا ہی ان کی حکمت عملی ہے۔

دہشت گردی کا عمل چاہے وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف کيا جائے يا اپنے ملک کی حدود کے اندر کيا جائے، وہ بہر صورت جرم کے زمرے ميں آتا ہے۔ اسے کسی بھی صورت ميں سياسی جدوجہد، انتقام يا ردعمل کے پيرائے ميں بيان نہيں کيا جانا چاہیے۔

بے گناہ انسانوں کے دانستہ قتل کی کوئ قابل قبول توجيہہ پيش نہيں کی جا سکتی ہے۔ اور پھر معصوم بچوں کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنا ان کی "بہادری" اور "عظيم مقصد" کی حقيقت واضح کرنے کے ليے کافی ہے۔


دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر لينے اور واضح شواہد کے باوجود فورمز پر اب بھی کئ رائے دہندگان بے ساختہ دہشت گردی کی ان کاروائيوں کا الزام بھی غير ملکی ايجينسيوں اور امريکہ پر لگانے ميں دير نہيں لگاتے۔


کچھ جوشيلے اور جذباتی تجزيہ نگاروں کے نظريات اور سوچ کے برخلاف يہ گھتی سلجھانا مشکل نہيں ہے کہ ان حملوں کے پيچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ آپ ان تنظيموں سے وابستہ ترجمانوں اور ليڈروں کے ميڈيا کو ديے گئے بے شمار بيانات اور انٹرويوز مد نظر رکھيں۔ يہ انٹرويوز صرف مغربی ميڈيا پر ہی موجود نہيں ہيں بلکہ پاکستانی ميڈيا پر بھی اس کے بےشمار ثبوت موجود ہيں۔ کيا يہ درست نہيں ہے کہ ان دہشت گردوں نے متعدد بار پاکستانی عوام کی منتخب کردہ حکومت اور خود پاکستان پر حملے کرنے کی دھمکياں دی ہيں؟ کيا اس بنيادی سوال کے جواب ميں کوئ تاويل پيش کی جا سکتی ہے؟


ان حملوں کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور اپنی متشدد سوچ کو وسعت دينا ہے۔ يہ دہشت گردوں کا واضح کردہ ايجنڈا اور ريکارڈ پر موجود ارادہ ہے۔ اس کے بعد کسی قسم کے ابہام يا سازشی کہانيوں کی کوئ گنجائش باقی نہيں رہ جاتی ہے۔


ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح کردوں کہ کوئٹہ ميں کوئ مستقل امريکی ٹھکانہ نہيں ہے۔ امريکہ کی کچھ ٹيميں گاہے بگاہے يہاں کا دورہ ضرور کرتی ہيں جس کی ضرورت اس وقت پيش آتی ہے جب آئ ايس اے ايف پاکستان کی سرحدوں کے قريب کاروائ کرتی ہے تو اس ضمن ميں پاکستان کی فوج اور آئ ايس اے ايف کے مابين معلومات کے تبادلے کی ضرورت پيش آتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu


revised_Ziarat_banner.jpg
 

طالوت

محفلین
نہ نہ ساجد بھائی کٹے نہ کھولیئے ادھر بہت سارے لوگ آپ کی بیان کردہ سچائیوں کو ہضم نہیں کرپائیں گے دراصل میرے جیسے لوگ کدھر جائیں کریں تو کریں کیا کیونکہ ہم تو مولا علی کے بھی ماننے والے ہیں حسنین کریمین پر بھی جان نچھاور کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ خلفائے راشدین پر بھی ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔
شیعہ لوگ صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں جن کی آپ کو یوٹیوب پر وڈیوز مل جائیں گی۔
وہابی لوگ حسنین کریمین کو باٖغی غدار اور گالیاں دیتے ہیں فیس بک پر آپ کو سب کچھ مل جائے گا
اب میرے جیسے لوگ کیا کریں کس کا ساتھ دیں کیونکہ دونوں گمراہ فرقے ڈیفالٹر ہیں
وقت ہو تو ذاتی میں ربط فراہم کر کے معلومات میں اضافہ فرمائیں ، ذاتی اس لئے کہ یہ دھاگہ موضوع پر ہی رہے۔ پیشگی شکریہ۔
 

ساجد

محفلین
معزز اراکین ، یہ دھاگہ مناسب کانٹ چھانٹ کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ بالمجموع کسی بھی مکتبہ فکر پر الزام لگانے سے پرہیز کریں۔ گو کہ یہ حقیقت ہے کہ ہر مکتبہ فکر میں عسکریت پسندی کا عنصر موجود ہے لیکن اسے پورے فرقے کے علمی و فقہی معاملات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ صرف متعلقہ شدت پسند اراکین تک بات محدود رکھیں۔
 

میر انیس

لائبریرین
معزز اراکین ، یہ دھاگہ مناسب کانٹ چھانٹ کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ بالمجموع کسی بھی مکتبہ فکر پر الزام لگانے سے پرہیز کریں۔ گو کہ یہ حقیقت ہے کہ ہر مکتبہ فکر میں عسکریت پسندی کا عنصر موجود ہے لیکن اسے پورے فرقے کے علمی و فقہی معاملات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ صرف متعلقہ شدت پسند اراکین تک بات محدود رکھیں۔
شکریہ ساجد آپ نے دیر سے ہی صحیح ایک اچھا قدم اٹھایا گو کہ آپ نے میرا پیغام بھی حزف کردیا مگر مجھ کو اسکا کوئی افسوس نہیں میں چاہتا ہوں کہ کم از کم محفل تو فرقہ وارانہ تعصب اور نفرت سے پاک رہے۔
 

میر انیس

لائبریرین
جب سے پاکستان (قادیانی پرویز مشرف کی حکومت کے ماتحت انتطامیہ، فوج، و دیگر سیکیوریٹی ادارے) امریکہ کی نام نہاد وار اگینسٹ ٹیررزم (اور عملاً مسلمانوں کے خلاف جنگ، جسے بش سرکار نے کروسیڈ قرار دیا تھا)
یوسف صاحب آپ بار بار پرویز مشرف کو قادیانی قرار دیتے ہیں کیا کسی مسلمان کو قادیانی کہنا اسلام کی رو سے جائز ہے؟۔ آپ اکثر باتوں کا قران و احادیث سے جواب دیتے ہیں براہ مہربانی کسی مسلمان کو بغیر تحقیق اور واضع ثبوت کے کافر قرار دینے والے کی سزا قران و احادیث کے حوالے سے ہی ارشاد فرمائیں ۔
پرویز مشرف کے اقدامات سے اختلافات ایک الگ بات ہے پر آج کل ہمارے ملک میں یہ فیشن بن گیا ہے کہ جو کوئی بھی کسی مذہبی تنظیم کے خلاف اقدامات کرتا ہے اس تنظیم کے لوگ اسکو کافر کہنا شروع کردیتے ہیں ۔ اگر مشرف کافر ہوتا تو آپ کے ہیرو سعودی عرب کے فرمانروا اسکو اتنا بڑا اعزاز دیتے کہ اسکو وہاں جانا نصیب ہوگیا جہاں چڑھ کر حضرت بلال(ر) نے اذان دی تھی اور یہ اعزاز یا میری نظر میں رتبہ تو بڑے بڑے علماء کو بھی نصیب نہیں ہوا۔ میں بہت مشکور ہوں گا کہ آپ مجھ کو یہاں یا ذاتی طور پر مشرف کے قادیانی ہونے کے ثبوت فراہم کریں گے تاکہ میرے علم میں اضافہ ہو ۔ دوسری صورت میں آپ کو توبہ کرنا ہوگی
 

Fawad -

محفلین
امریکہ کی نام نہاد وار اگینسٹ ٹیررزم (اور عملاً مسلمانوں کے خلاف جنگ، جسے بش سرکار نے کروسیڈ قرار دیا تھا) میں ”شامل“ ہوا ہے


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ الزام کہ امريکہ اسلام کے خلاف حالت جنگ ميں ہے اور اس دليل پر مبنی سوچ جس کا ذکر اس تھريڈ ميں کيا جا رہا ہے اس کی بنياد قريب 10 برس قبل سابق صدر بش کی جانب سے استعمال ہونے والے ايک لفظ "کروسيڈ" کی ايک مخصوص انداز میں اختراح کی گئ تشريح ہے۔ ميں پہلے ہی اس تناظر اور حالات کی وضاحت کر چکا ہوں جن ميں سابق صدر نے ان عناصر کے خلاف اجتماعی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی اہميت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی جنھوں نے 911 کو امريکہ پر حملے کيے تھے۔

ليکن چونکہ امريکی صدر کی جانب سے ادا کيے جانے والے الفاظ کو رائے دہندگان "ناقابل ترديد" ثبوت کی حيثيت سے قابل قبول معيار اور پيمانہ تسليم کرتے ہيں تو پھر اسی صدر کے يہ واضح الفاظ اس غلط سوچ کو رد کرنے کے لیے کافی ہونے چاہیے کہ امريکی حکومت اسلام پر جنگ مسلط کرنے کے درپے ہے۔


اسی ضمن میں چاہوں گا کہ صدر اوبامہ کے نقطہ نظر کو بھی سنيں جنھوں نے متعدد بار بيانات اور تقارير ميں موجودہ امريکی انتظاميہ کی سرکاری پوزيشن واضح کی ہے۔





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

zindagi_anmol_hai.jpg



revised_Ziarat_banner.jpg
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top