پنجاب حکومت نے دسویں جماعت کے کورس سے اسلام کے اسباق نکال دئیے

تازہ خبر کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے اس کا نوٹس لے لیا ہے اور مضامین دوبارہ داخل نصاب کرنے کا حکم جاری کردیا ہے

پنجاب کا نصاب نہ ہوا غریب کی جورو ہوگئی
 

عسکری

معطل
عمران نجانے کون سے اسلام کی بات کرتا ہے۔ شاید اس کو طالبان/ظالمان والا اسلام ہی ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اس کو وہ اسلام نظر نہیں آتا جو مسلمانوں کا سچا دین ہے۔
کونسا دین ہمیں تو جو نظر آ رہا ہے وہی کہہ رہے ہیں اور کوئی خفیہ مذہب ہے کیا :rolleyes:
 

علی خان

محفلین
3-24-2013_140756_1.gif

رونامہ جنگ بتاریخ 24-مارچ-2013
 

سید ذیشان

محفلین


ہاہاہا۔پاکستان میں کسی بھی ریفارم کا average duration چوبیس گھنٹے ہے۔
میں خود بھی حیران تھا کہ نصاب میں ایسی تبدیلی کی جرت کس کو ہوئی۔ ہمارا ملک مولویوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ اب کوئی بھی ایسی چیز جو بظاہر اسلام کے خلاف نظر آئے گی اس پر وہ ہڑبونگ مچے گا کہ خدا کی پناہ۔
 

سید ذیشان

محفلین
یہ امت مسلمہ کے لیے ایک شرمناک کام ہے

امت مسلمہ کہاں سے آ گئی؟ یہ کام پاکستان میں ہوا ہے، اور وہ بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں، اور وہ بھی 24 گھنٹے کے لئے، اور اس کی بھی انصار عباسی کو خبر مل گئی۔ تو امت پنجاب کہئے یا امت پاکستان۔
 
کمال ہو گیا یہ تو۔ عربی اردو سے زیادہ اسلامی زبان ہے، اس لئے ہمیں عربی پڑھانی چاہیے۔ اردو تو ہندووں کو بھی آتی ہے۔

جتنی اتی ہے ہمیں پتہ ہے

کتنے ہندو ہیں جو قرآن کا اردو ترجمہ پڑھتے و سنتے ہیں
کتنے ہندو ہیں جو حدیث کو اردو میں پرھتے ہیں

عربی کے بعد اردو میں اسلامی کتب کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
جتنی اتی ہے ہمیں پتہ ہے

کتنے ہندو ہیں جو قرآن کا اردو ترجمہ پڑھتے و سنتے ہیں
کتنے ہندو ہیں جو حدیث کو اردو میں پرھتے ہیں

عربی کے بعد اردو میں اسلامی کتب کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

فارسی کہاں گئی میرے بھائی؟
اردو تو نئی نویلی زبان ہے۔ علماء تو اکثر کتب فارسی میں تحریر کرتے تھے۔ اردو میں لکھنے کا رواج تو اب پڑا ہے۔
 

عاطف بٹ

محفلین
ہاہاہا۔پاکستان میں کسی بھی ریفارم کا average duration چوبیس گھنٹے ہے۔
میں خود بھی حیران تھا کہ نصاب میں ایسی تبدیلی کی جرت کس کو ہوئی۔ ہمارا ملک مولویوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ اب کوئی بھی ایسی چیز جو بظاہر اسلام کے خلاف نظر آئے گی اس پر وہ ہڑبونگ مچے گا کہ خدا کی پناہ۔
مولویوں نے یہ ملک ہائی جیک کیا ہوتا تو آپ کے ہم خیال غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز والے اس ملک میں جو دن رات تماشے کرتے پھرتے ہیں وہ نہ ہورہے ہوتے اور ایسی کسی بھی بات پر ان لوگوں کی وہ درگت بنائی جاتی کہ آئندہ کبھی کسی کو جرات نہ ہوتی ویسی کوئی حرکت کرنے کی۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ ریاست تو ہم نے نظریے کا ڈھول پِیٹ کر حاصل کرلی ہے لہٰذا اب جو مرضی کرتے چلے جائیں کسی مائی کے لال کی مجال نہیں ہونی چاہئے کہ ہمیں کچھ پوچھ سکے۔ محترم، آپ شاید تاریخ عالم سے بےخبر معلوم ہوتے ہیں۔ ذرا کوئی ایک مثال تو سامنے لائیے جس میں مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی کسی ریاست نے اپنے قوانین غیرمذہبی بنیادوں پر تشکیل دیئے ہوں۔ کیا امریکہ و یورپ کے تعلیمی اداروں میں وہ نصاب پڑھایا جاسکتا ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے فکری رجحانات سے ہم آہنگی نہ رکھتا ہو؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا ہے تو پھر پاکستان کے حوالے سے لوگوں کے پیٹ میں درد کیوں اٹھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جب ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے تو قوانین و ضوابط بھی اسی نظریے کے پیش نظر بنائے جائیں گے۔
 

عاطف بٹ

محفلین
فارسی کہاں گئی میرے بھائی؟
اردو تو نئی نویلی زبان ہے۔ علماء تو اکثر کتب فارسی میں تحریر کرتے تھے۔ اردو میں لکھنے کا رواج تو اب پڑا ہے۔
اب سے کیا مراد کوئی دو سال پہلے کی بات ہے؟ جس زبان کو آپ نئی نویلی کہہ رہے ہیں اس کو باقاعدہ رائج ہوئے ڈیڑھ صدی سے رائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لکھنے کا رواج اس زبان میں پانچ صدیوں سے زیادہ قدیم ہے۔
 
فارسی کہاں گئی میرے بھائی؟
اردو تو نئی نویلی زبان ہے۔ علماء تو اکثر کتب فارسی میں تحریر کرتے تھے۔ اردو میں لکھنے کا رواج تو اب پڑا ہے۔

فی الوقت برصغیر میں مذہبی تعلیم کا ذریعہ اردو ہے
یہ زبان پاکستان، انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، برما، سری لنکا کے علاوہ بہت سے یورپی اور امریکی مدارس کی اکثریت میں بھی دینی تعلیم کے لیے استعمال ہوتی ہے
فارسی دوسری اقوام کے لیے ریلونٹ ہوگی ۔
ہمارے لیے اردو ہے
 

سید ذیشان

محفلین
مولویوں نے یہ ملک ہائی جیک کیا ہوتا تو آپ کے ہم خیال غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز والے اس ملک میں جو دن رات تماشے کرتے پھرتے ہیں وہ نہ ہورہے ہوتے اور ایسی کسی بھی بات پر ان لوگوں کی وہ درگت بنائی جاتی کہ آئندہ کبھی کسی کو جرات نہ ہوتی ویسی کوئی حرکت کرنے کی۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ ریاست تو ہم نے نظریے کا ڈھول پِیٹ کر حاصل کرلی ہے لہٰذا اب جو مرضی کرتے چلے جائیں کسی مائی کے لال کی مجال نہیں ہونی چاہئے کہ ہمیں کچھ پوچھ سکے۔ محترم، آپ شاید تاریخ عالم سے بےخبر معلوم ہوتے ہیں۔ ذرا کوئی ایک مثال تو سامنے لائیے جس میں مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی کسی ریاست نے اپنے قوانین غیرمذہبی بنیادوں پر تشکیل دیئے ہوں۔ کیا امریکہ و یورپ کے تعلیمی اداروں میں وہ نصاب پڑھایا جاسکتا ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے فکری رجحانات سے ہم آہنگی نہ رکھتا ہو؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا ہے تو پھر پاکستان کے حوالے سے لوگوں کے پیٹ میں درد کیوں اٹھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جب ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے تو قوانین و ضوابط بھی اسی نظریے کے پیش نظر بنائے جائیں گے۔

آپ نے کونسے ممالک کا نصاب دیکھا ہے جو ایسی باتیں کر رہے ہیں؟ اور ویسے بھی پوری دنیا میں مذہب کے نام پر بنائے جانے والے دو یا تین ممالک ہیں (پاکستان، اسرائیل اور ایران)۔
مغرب میں غالب اکثریت عیسائیوں کی ہے لیکن ان کے نصاب میں عیسائیت کا کوئی مضمون نہیں ہے۔ ایک مضمون ہے جس کو comparative religions کہتے ہیں جس میں تمام بڑے مذاہب کی تعلیمات سے آگاہ کیا جاتا ہے (جی ہاں، عیسائی بچوں کو اسلام پڑھایا جاتا ہے!)

اگر کوئی مینڈک کوئیں میں رہنا چاہتا ہے تو ہم اس کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اس سے باہر نکلے۔
 

سید ذیشان

محفلین
اب سے کیا مراد کوئی دو سال پہلے کی بات ہے؟ جس زبان کو آپ نئی نویلی کہہ رہے ہیں اس کو باقاعدہ رائج ہوئے ڈیڑھ صدی سے رائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لکھنے کا رواج اس زبان میں پانچ صدیوں سے زیادہ قدیم ہے۔

چودہ سو سال کے مقابلے میں ڈیڑھ صدی کوئی معنی نہیں رکھتی!
 
Top