الف نظامی

لائبریرین
میرے احساس کے دریا میں روانی تجھ سے
اے گلِ جاں میرے ہونے کی نشانی تجھ سے​
موسمِ گل بھی ترا فصلِ خزاں بھی تیری
میری آواز کے صحراوں میں پانی تجھ سے​
تجھ سے ہی میری تمناوں نے وسعت پائی
آنکھ کے رنگ ، سماعت کے معانی تجھ سے​
تجھ سے آنکھوں نے لیا رنگ پرکھنے کا ہنر
لفظ کی جادوگری نطق نے جانی تجھ سے​
تو جو چاہے تو سمندر کو کنارا کردے
خاک کے بخت میں پیدا ہو گرانی تجھ سے​
 

الف نظامی

لائبریرین
کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں
عجب سلیقے شہ زماں کے ، عجب قرینے حضور کے ہیں​
حرا سے کرنوں کی جگمگاہٹ ہمارے دل تک پہنچ رہی ہے
یہ گھڑیاں پل پل مسرتوں کی ، یہ لمحے پیہم سرور کے ہیں​
میں دل میں جھانکوں تو دیکھتا ہوں جھلک ترے روضہِ حسیں کی
کہ فاصلے جو نگاہ میں ہیں ، مغالطے نزد و دور کے ہیں​
حبیب مولائے کل کے اعجاز و فقر و جود و سخا کے آگے
جو ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں صنم متاع غرور کے ہیں​
مرے نبی کی نظر مکمل جمالِ یزداں میں منہمک ہے
مقام سدرہ کی وسعتوں میں کہاں حجابات طور کے ہیں​
خدا سے بندے کی قربتوں میں کوئی مزاحم نہیں ہے اصغر
جو اٹھ رہیں ہیں گماں کے پردے یہ سب کرشمے حضور کے ہیں​
 

رضا

معطل
جاویداقبال نے کہا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

نعت شریف
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
بس یادتیری دل میں رہے روزوشبینہ
بس یادتیری دل میں رہے روزوشبینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
وہ لمحہ وہ دن اوروہ آجائے مہینہ
وہ لمحہ وہ دن اوروہ آجائے مہینہ
پھر کاش تڑپتاہواپہنچوں میں مدینہ
پھر کاش تڑپتاہواپہنچوںمیں مدینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
سینہ ہومدینہ میراسینہ ہومدینہ
سینہ ہومدینہ میراسینہ ہومدینہ
بن جائے میرادل تیری الفت کاخزینہ
بن جائے میرادل تیری الفت کاخزینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
اے نورخدا،نوربھری دل پرنظرہو
اے نورخدا،نوربھری دل پرنظرہو
ہونورسے پرنوریہ بے نورنگینہ
ہونورسے پرنوریہ بے نورنگینہ
ہردم ہومیرا وردمدینہ ہی مدینہ
سرکارتمناہے یونہی عمربسرہو
بس تیری محبت میں ہی ہومرناجینا
ساقی مجھے جام ایسامحبت کاپلادے
ساقی مجھے جام ایسامحبت کاپلادے
اترے نہ نشہ اسکاکبھی شاہ مدینہ
اترے نہ نشہ اسکاکبھی شاہ مدینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ
تم خاک مدینہ میرے لاشے پہ چھڑکنا
تم خاک مدینہ میرے لاشے پہ چھڑکنا
پھرملناکفن پرجوملے انکاپسینہ
پھرملناکفن پرجوملے انکاپسینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ
عطارطلبگارہے بس نظرکرم کا
عطارطلبگارہے بس نظرکرم کا
لیلہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ
لیلہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ
بس یاد تیر ی دل میں رہے روز وشبینہ
ہردم ہومیراوردمدینہ ہی مدینہ


والسلام
جاویداقبال
"لیلہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ
لیلہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ"
اس میں "ی" زائد ہے۔
للہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ
للہ کرم ،جان کرم ،بہرمدینہ
 

الف نظامی

لائبریرین
ان کا در چومنے کا صلہ مل گیا
سر اٹھایا تو مجھ کو خدا مل گیا​
عاصیوں کا بڑا مرتبہ مل گیا
حشر میں دامنِ مصطفی مل گیا​
ان کھجوروں کے جھرمٹ میں کیا مل گیا
باغِ خلدِ بریں کا پتا مل گیا​
جس کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوا مل گئی
بس اسے زندگی کا مزا مل گیا​
مدحتِ مصطفی کا یہ احسان ہے
میرا حسان سے سلسلہ مل گیا​
کچھ نہ پوچھو کہ میں کیسے بیکل ہوا
مجھ کو کملی میں نورِ خدا مل گیا​
 

الف نظامی

لائبریرین
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا​
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا​
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ​
خطا کا ر سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا​
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا​
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا​
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا​
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا​
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا​
 

الف نظامی

لائبریرین
لب پر نعت پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے​
اور کسی جانب کیوں جائیں اور کسی کو کیوں دیکھیں
اپنا سب کچھ گنبدِ خضری کل بھی تھا اور آج بھی ہے​
پست و ہ کیسے ہوسکتا ہے جس کو حق نے بلند کیا
دونوں جہاں میں ان کا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے​
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے​
سب ہو آئے ان کے در سے جا نہ سکا تو ایک صبیح
یہ کہ اک تصویر تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے​
[align=left:a6e84f8439]ازصبیح رحمانی[/align:a6e84f8439]
 

ماوراء

محفلین
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
کہاں میں اور کہاں اس روضہ اقدس کا نظارہ
نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر دزدیدہ دزدیدہ
غلامانِ محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ سرِ شوریدہ شوریدہ
مدینے جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں
ہوا پاکیزہ پاکیزہ فضا سنجیدہ سنجیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسرہ افسردہ قدم لرزیدہ لرزیدہ​
 

ماوراء

محفلین
مَا کَانَ محمد اَبَا اَحَدٍ مِن رجالٍکم
ولا کن رسول اللہ وَ خاتم نبیین
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
خیرُ البَشَر وہ خَیرُالورا وہ، ہم سب کے رہنما وہ
اُسوہ انہی کی راہِ عمل ہے زندگی ہے چراغ
ہم سب بھیجیں اُن پہ ہزاروں، لاکھوں درود و سلام
کامل انساں محبوبِ یزداں محبوبِ ہر خاص و عام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
عفو و عطا و لطف و عنایت اُن کی ذات میں غایت
رب جس کی تعریف میں کہہ دے
انک لعلی خلق عظیم
ہم سب بھیجیں اُن پر ہزاروں لاکھوں درود و سلام
روٹھے ہوؤں کو رب سے ملانا میرے محمد کا کام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
ذکر ہے ان کا بستی بستی گونج رہی ہے محفلِ ہستی
دے کر دنیا بھر کی دولت مل جائے اگر ان کی محبت
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
معراج کی شب عرشِ بریں پر کیسا یہ ان کا مقام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
دیکھ تری امت کی سانسیں ڈوب چکی ہیں ڈوب رہی ہیں
دھیرے دھیرے مدھم مدھم ان زخموں پہ رکھ دے مرہم
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
امت کے غم میں شب بھر رونا میرے محمد کا کام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
سب سے عنصب سب سے اعلی میرے محمد کا کام
ڈوبتے ہوؤں کو کنارے لگانا میرے محمد کا کام
سوتے ہوؤں کو پیار سے جگانا میرے محمد کا کام
بے طلبوں میں طلب جگانا میرے محمد کا کام​
 

الف نظامی

لائبریرین
ہم پر نظر حضور یونہی آپ کی رہے
جیسے بنی ہوئی ہے ہماری بنی رہے​
سیراب ہو نہ جاوں میں جلووں سے آپ کے
جب تک میری حیات رہے تشنگی رہے​
اترے حضور دل پہ میرے نعت آپ کی
ہر رات یوں ہی گھر پہ میرے چاندی رہے​
میں تو حضور آپ کے دامن میں چھپ گیا
اب گردش حیات مجھے ڈھونڈتی رہے​
باب حرم کے سامنے پہنچوں کچھ اس طرح
شرم و حیا کے بار سے گردن جھکی رہے​
جب تک جمالِ شہر نبی کا ہو تذکرہ
مسرور میری آنکھ یونہی بند ہی رہے​
 

ماوراء

محفلین
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پر ہے سایہ تیرا

ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجدِاقصٰی تیرا

اب بھی ظلمات فروشوں کو گِلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا

پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا​
 

ماوراء

محفلین
بے خبر تو جوہرِ آئینہ ایام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
بدیع الزماں
اے رسولِ امین خاتم المرسلین
تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
ہے عقیدہ یہ اپنا بصدق و یقین
تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
اے رسولِ امین خاتم المرسلین
تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
بزمِ کونین پہلے سجائی گئی
پھر تیری ذات منظر پر لائی گئی
سید الاولین سید الآخریں
تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
مصطفٰی مجتبٰی تیری مداح ہو ثناء
میری بس میں نہیں دسترس میں نہیں
دل کو ہمت نہیں لب کو یارا نہیں
تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
دل کو ہمت نہیں لب کو یارا نہیں
اے رسولِ امین، تجھ سا کوئی نہیں
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا امام الاولیا یا خاتم الانبیا
دستِ قدرت ایسا بنایا تجھے
جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے
اے ازل کے حسین اے ابد کے حسین
ڈھونڈتی ہے تجھے میری جانِ عزیز
تیرا سکہ رواں کل جہاں میں ہوا
اس زمیں میں ہوا آسماں میں ہوا
کیا عرب کیا عجم سب ہیں زیرِ نگیں
توبہ توبہ نہیں کوئی تجھ سا نہیں
اے رسولِ امیں خاتم المرسلین
ہے عقیدہ یہ اپنا بصد ق و یقین
تجھ سا کوئی نہیں تجھ سا کوئی نہیں
اے رسولِ امیں خاتم المرسلین
جنید جمشید ۔​
 

ماوراء

محفلین
کیوں چمن میں بے صدا مثل رم شبنم ہے تو
لب کشا تو ہو جا سرودِ بے ربط عالم ہے تو

مجھے زندگی میں یارب سرِ بندگی عطا کر
میرے دل کی بے حسی کو غمِ عاشقی عطا کر
مجھے زندگی میں یارب سرِ بندگی عطا کر
میرے دل کی بے حسی کو غمِ عاشقی عطا کر
مجھے زندگی میں یارب
تیرے درد کی چمک ہو تیری یاد کی کسک ہو
میرے دل کی دھڑکنوں کو نئی بے کلی عطا کر
جو تجھی سی لَو لگا دے، جو مجھے میرا پتہ دے
میرے عہد کی زباں میں مجھے گم رہی عطا کر
جو دلوں میں نور کر دے، وہی روشی عطا کر
میری زندگی میں یارب
میں سفر میں سو نہ جاؤں، میں یہیں پہ کھو نہ جاؤں
مجھے ذوق و شوق منزل کی ہمہ ہمی عطا کر
بڑی دور ہے ابھی تک رگِ جان کی مسافت
جو دیا ہے قرب تو نے تو شعور بھی عطا کر
میرے قلب کو وہ فیضِ درِعارفی عطا کر
مجھے زندگی میں یارب
بھری انجمن میں رہ کر نہ ہوا آشنا کسی سے
مجھے دوستوں کے جھرمٹ میں وہ بے کسی عطا کر
مجھے تیری جستجو ہو، میرے دل میں تو ہی تو ہے
میرے قلب کو وہ فیضِ درِعارفی عطا کر
جو دلوں کو نور کر دے وہی روشنی عطا کر دے
مجھے زندگی میں یارب سرِ بندگی عطا کر
میرے دل کی بے حسی کو غم عاشقی عطا کر
مجھے زندگی میں یارب سرِ بندگی عطا کر
میرے دل کی بے حسی کو غمِ عاشقی عطا کر

نعت خوان:: جنید جمشید​
 

الف نظامی

لائبریرین
خلق کےسرور ، شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسل داور ، خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم​
نورِ مجسم ، نیر اعظم ، سرور عالم ، مونس آدم
نوح کے ہمدم ، خضر کے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم​
بحر سخاوت ، کان مروت ، آیہ رحمت ، شافع امت
مالک جنت قاسم کوثر صلی اللہ علیہ وسلم​
دولت دنیا خاک برابر ، ہاتھ کے خالی ، دل کے تونگر
مالک کشور ، تخت نہ افسر صلی اللہ علیہ والہ وسلم​
رہبر موسیٰ ، ہادی عیسٰی ، تارک دنیا ، مالک عقبٰی
ہاتھ کا تکیہ ، خاک کا بستر صلی اللہ علیہ والہ وسلم​
مہر سے مملو ریشہ ریشہ ، نعت امیر ہے اپنا پیشہ
ورد ہمیشہ دن بھر ، شب بھر صلی اللہ علیہ وسلم​

[align=left:71019cef44]امیر مینائی[/align:71019cef44]
 

الف نظامی

لائبریرین
غریبوں کی جو ثروت ہیں ، ضعیفوں کی جو قوت ہیں
انہیں عالم کے ہر دکھ کی دوا کہنا ہی پڑتا ہے​
انہیں فرماں روائے انس و جاں کہتے ہی بنتی ہے
انہیں محبوب رب دوسرا کہنا ہی پڑتا ہے​
زہے تاثیر ، ان کا نام نامی جب لیا جائے
لبوں کو لازما صلی علی کہنا ہی پڑتا ہے​
جہاں بھر کو کیا سیراب جن کے فیضِ بے حد نے
انہیں دریائے الطاف و عطا کہنا ہی پڑتا ہے​
کیا بیڑا جنہوں نے پا آکر نوع انساں کا
انہیں انسانیت کا ناخدا کہنا ہی پڑتا ہے​
جنہوں نے بزم امکاں سے مٹائی کفر کی ظلمت
انہیں تنویر حق ، نور الہدیٰ کہنا ہی پڑتا ہے​
از حفیظ تائب
 

الف نظامی

لائبریرین
میرے آقا
خلق سراپا​
نام محمد
کتنا پیارا​
ورد کرو سب
صل علٰی کا​
آپ کی ہستی
سب سے اعلٰی​
آپ کا رتبہ
سب سے بالا​
خلق خدا کا
ملجا و ماویٰ​
نور وفا کا
پھول حیا کا​
نیر تاباں
صدق و وفا کا​
ماہ منور
لطف و عطا کا​
پیکر اقدس
صبرو رضا کا​
دیں کا حاصل
آپ کا اسوہ​
رحمت عالم
شافع عقبٰی​
ان کی شفاعت
دل کا دلاسا​
روشن روشن
آپ کا چہرہ​
ایسے ، جیسے
نور کا ہالہ​
رنگ و نسل کا
بت توڑا تھا​
خلق خدا کا
دل جوڑا تھا​
میں ہوں ان کا
والا و شیدا​
شعر بہانہ
ان کی ثنا کا​
[align=left:eb599f5696]خواجہ عبدالمنان راز[/align:eb599f5696]
 

دوست

محفلین
کرم بن گئی ہے ، عطا ہوگئی ہے
نگاہِ نبی آسرا ہوگئی ہے

غمِ مصطفی سے بفضل تعالٰی
طبیعت مری آشنا ہوگئی ہے

دیارِ رسولِ خدا تک پہنچنا
یہ حسرت مرا مدعا ہوگئی ہے

ہوائے چمن سے فضائے جہاں تک
محمد کی مدحت سرا ہو گئی ہے

زمانہ ہمارا ادب کررہا ہے
نظر آپ کی ہم پہ کیا ہوگئی ہے

دیارِ نبی کی گلی تو دیکھو
حقیقت کی راہ کا پتا ہوگئی ہے

محمد کو جب بھی کسی نے ستایا
زباں ان کی وقفِ دعا ہوگئی ہے

مرے مصطفی کا جونہی نام آیا
مری روح نغمہ سرا ہوگئی ہے

میں محمود جب نعت پڑھنے لگا ہوں
یہ دنیا مری ہم نوا ہوگئی ہے
راجا رشید احمد محمود
 

الف نظامی

لائبریرین
تیرا جمال زندگی ، چاند اندھیری رات میں
تیرا وجود روشنی ، ظلمتِ شش جہات میں​

اہل جہاں تھے جب اسیر ، دامِ توہمات میں
تو نے اذانِ صبح دی ، بتکدہِ حیات میں​

تیری نظر جگر گداز ، تیرا پیام دل نواز
تیری نوا عمل فروز ، کارگہِہ حیات میں​

تیری نظر میں جانے کیا، کیفیتِ خلوص تھی
ذوقِ یقیں چمک اٹھا بزمِ تعصبات میں​

قلب کا تصفیہ بجا، نفس کا تزکیہ درست
تو تھا مگر عظیم تر، حسنِ معاملات میں​

کرکے عطا مئے خودی ، دے کے پیامِ سروری
بھردیا رنگِ دل کشی چہرہ واقعات میں​

تیرے کمالِ سعی سے تیرے عروجِ فکر سے
ربط معاشیات میں، عدل سیاسیات میں​

گونج اٹھی بصد جلال تیری نوائے دل نشیں
تو ہے صدائے لاالہ کفر کی کائنات میں​

ذہن کو جگمگا دیا ، تیری نوازشات نے
نورِ خلوص موجزن تیری نوازشات میں​

تیرا کلام صدق اساس ، تیری نظر ، نظر شناس
تیرا نظام جاوداں ، عالمِ حادثات میں​
غنچے چٹک چٹک پڑے پھول مہک مہک اٹھی
تو نے جو مسکرا دیا ، غم کدہِ حیات میں​

دل کو سکوں سا مل گیا، نام تیرا اگر لیا
غم میں ، الم میں ، یاس میں ، رنج میں ، مشکلات میں​
 

الف نظامی

لائبریرین
سوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح
کوئی شراب نہیں عشق مصطفی کی طرح​

وہ جس کا جذب تھا بیداری جہاں کا سبب
وہ جس کا عزم تھا دستور ارتقا کی طرح​
وہ جس کا سلسلہِ جود ابر گوہر بار
وہ جس کا دستِ عطا مصدرِ عطا کی طرح​

سوادِ صبح ازل جس کے راستے کا غبار
طلسم لوح ابد جس کے نقش پا کی طرح​

وہ عرش و فرش و زمان و مکاں کا نقشِ مراد
وہ ابتدا کے مطابق ، وہ انتہا کی طرح​

اسی کے حسنِ سماعت کی تھی کرامتِ خاص
وہ اک کتاب کہ ہے نسخہِ شفا کی طرح​

نہ پوچھ معجزہ مدحتِ شہ کونین
مرے میں ہے جنبشِ پرِ ہُما کی طرح​

جمالِ روئے محمد کی تابشوں سے ظفر
دماغ زندہ ہوا عرشِ کبریا کی طرح​
 

الف نظامی

لائبریرین
بزمِ طرب نہ کلبہ احزاں میں روشنی
گلشن میں روشنی نہ بیاباں میں روشنی​

جذبِ دروں نہ جوشِ نمایاں میں روشنی
شوقِ تہی نہ ذوقِ فراواں میں روشنی​

تارے بچھے بچھے تھے ، قمر تھا اداس اداس
مفقود تھی چراغِ فروزاں میں روشنی​

جذبات پر تھی کہر کی چادر پڑی ہوئی
آتی کہاں دیدہِ حیراں میں روشنی​

انساں بھٹک رہا تھا اندھیرے حصار میں
قلبِ حزیں نہ ذہنِ پریشاں میں روشنی​

میخوار و بت پرست کا قصہ تو درکنار
موجود تھی نہ عابدِ یزداں میں روشنی​

مفلوج ولولے تھے ، عزائم فسردہ تھے
احساس مر رہا تھا ، خیالات مردہ تھے​

تاریکیوں سے نور کے چشمے ابل پڑے
آئی عدم سے عالمِ امکاں میں روشنی​

ذرے چمک کے غیرتِ ماہتاب ہوگئے
خورشید بن کے چمکی جو فاراں میں روشنی​
گلہائے نو بہ نو سے بیاباں مہک اٹھے
سمٹے جو سائے، پھیلی گلستاں میں روشنی​

حرماں نصیبوں کو مسرت ہوئی نصیب
اک مہرباں نے کی دلِ ویراں میں روشنی​

اک آپ کے تبسم ِ انجُم تراش سے
تحت الشعور و دیدہ حیراں میں روشنی​

عالم تمام گوشہِ پرنور ہوگیا
تحت الثریٰ بھی نور سے معمور ہوگیا​
 

الف نظامی

لائبریرین
مدینے میں کاش اے دلِ زار ہوتے
وہ پرنور کوچے وہ بازار ہوتے​
سماتے وہ آنکھوں میں دلکش مناظر
خود اپنی نظر کے خریدار ہوتے​

وہ کیفیتِ خاص ہوتی عنایت
نہ بے ہوش ہوتے نہ ہشیار ہوتے​

کبھی بابِ جبریل پر دست بستہ
کبھی سرنگوں زیردیوار ہوتے​

کبھی چومتے جالیوں کو ادب سے
کبھی شوق میں محو دیدار ہوتے​

ادھر نامِ پاک نبی لب پہ آتا
ادھر دل کی دھڑکن سے بیدار ہوتے​

حمید ایسی قسمت کہاں تھی ہماری
کہیں ہم بھی پائین دربار ہوتے​
 
Top