گو موجود لوگوں کی تحریریں بھی لڑی کو خوبصورت ، پر رونق اور تابناک بنائے ہوئے ہیں مگر خاص طور پر استادِ محترم کی کمی واقعی محسوس ہورہی ہے ، رب کریم اُنھیں تندرست وتوانارکھے اور اُن کا سایہ ٔ شفقت تمام محفلین کے سروں پر قائم رہے ، آمین۔
 

سیما علی

لائبریرین
کیسے ہیں سب السلام علیکم سب کو ؟؟
قرینے سے پہلے وجی بھیا کووعلیکم السلام اب بتائیے اتنے دن کہاں مصروف رہے ۔۔۔

اب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ‌ ر‌ ڑ ز ژ س ش ص ض ط‌ ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے

ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر20​

 

سیما علی

لائبریرین
IMG-2134.jpg

عاطف بھیا
بھیا کے لئے ہم نے چائے بنائی ہے ۔۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ظالمانہ نظام کو ختم کرکے عادلانہ نظام نافذ کرنے کے لیےمقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ کو منصف مزاج اور نان کرپٹ ہونا چاہیے
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
ظالمانہ نظام کو ختم کرکے عادلانہ نظام نافذ کرنے کے لیےمقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ کو منصف مزاج اور نان کرپٹ ہونا چاہیے
طور مجموعی طور پر قوم کا ان خواص کے خلاف ہے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ آسمان سے اترنے والی تو ہے نہیں۔ بحیثیتِ قوم ہمیں بدلنے کی ضرورت ہے ۔
 

سیما علی

لائبریرین
شفافیت کا فقدان نظر آتا ہے ۔۔معاشی دباؤ ہے اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہے۔ تو دوسری جانب ریاست اور معاشرے کے درمیان گہری ہوتی خلیج ہے۔ اس انتخاباتی کرائسس نے ملک کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔۔
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
شفافیت کا فقدان نظر آتا ہے ۔۔معاشی دباؤ ہے اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہے۔ تو دوسری جانب ریاست اور معاشرے کے درمیان گہری ہوتی تقسیم ہے۔ اس انتخاباتی کرائسس نے ملک کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔۔
سیما آپا، تقسیم کی جگہ میرے خیال میں خلیج بہتر لفظ ہے جو ہمارے اندر کے خلفشار کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
رحمتیں اور بے شمار برکتیں ہیں اس ملک میں ۔۔۔بس صبر و شکر گذاری کی کمی نظر آتی ہے ۔۔
؀
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
 

عظیم

محفلین
ذکر ملکی ترقی کا ہو رہا ہے تو تعلیمی معیار بھی خوب ہونا چاہیے اور عوام بھی پڑھی لکھی اور با شعور ہونی چاہیے۔ یوں تو الحمد للہ اب بھی اللہ کا فضل ہے ماشاء اللہ
 

سیما علی

لائبریرین
ذکر ملکی ترقی کا ہو رہا ہے تو تعلیمی معیار بھی خوب ہونا چاہیے اور عوام بھی پڑھی لکھی اور با شعور ہونی چاہیے۔ یوں تو الحمد للہ اب بھی اللہ کا فضل ہے ماشاء اللہ
ڈاکٹروں کی اب بھی شدید کمی کا سامنا ہے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے !36 ہزار سے زائد خواتین ڈاکٹرز یا تو بے روزگار ہیں یا مختلف وجوہات کی بنا پر لیبر فورس سے باہر رہنا پسند کرتی ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق 1947 میں اپنے قیام کے بعد سے پاکستان نے اب تک تقریباً 2 لاکھ ڈاکٹرز پیدا کیے، جن میں سے نصف خواتین ہیں۔

اب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ‌ ر‌ ڑ ز ژ س ش ص ض ط‌ ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے

ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر20​

 

سیما علی

لائبریرین
دیہی علاقوں میں پاکستان کے 52 فیصد یا نصف سے زیادہ میڈیکل گریجویٹس عملی زندگی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور 31 فیصد بے روزگار ہیں، دیہی علاقوں میں لیبر فورس سے باہر رہنے کو ترجیح دینے والے طلبہ کا تناسب 17 فیصد ہے جوکہ 20 فیصد کی قومی اوسط سے کم ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
خیر آباد کا ایک علمی خاندان جو اب فلمی خاندان بن چکا ہے۔شاعر،نغمہ نگارواسکرپٹ رائٹر جاویداخترمحتاج تعارف نہیں۔ ان کےاداکار بیٹے فرحان اختراورفلم ڈائرکٹر بیٹی زویااخترکو دنیا جانتی ہے،ان کی موجودہ بیوی شبانہ اعظمی اپنی اداکاری اورسابقہ بیوی ہنی ایرانی اپنی اسکرپٹ رائٹنگ کے لئے شہرت کی حامل ہیں۔۔
مگر کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ خاندان ماضی میں بھی اپنے علمی کاموں کے لئےجانا جاتا رہاہے۔


نیز اس خاندان کا ہندوستان کی جنگ آزدی میں اہم کردار رہا ہے۔مولانا فضل امام خیرآبادی اورمولانافضل حق خیرآبادی اس خاندان کے مورث اعلیٰ ہیں جن کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔اسی خاندان میں معروف شاعر ریاض خیرآبادی، مضطرخیرآبادی،نیرخیرآبادی ہوئے اور کئی اہم لوگ پیدا ہوئے۔ جاویداختر کے والد جاں نثاراخترخود ایک اچھے شاعر،نغمہ نگاراور فلم ڈائرکٹروپروڈیوسر تھے۔ جاں نثاراختر کی پہلی بیوی صفیہ اختراچھی نثر نگار تھیں جب کہ جاوید کے ماموں مجاز لکھنوی اردونصاب کا حصہ ہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
’حرف آشنا‘‘ اور"زیرِ لب " صفیہ اختر کے خطوط کا مجموعہ ہے۔صفیہ اختر، ترقی پسند شاعر جان نثار اخترکی اہلیہ، مجاز لکھنٰوی کی بہن اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اخترکی والدہ تھیں۔وہ ردولی،ضلع بارہ بنکی کی رہنے والی تھیں اور جوانی میں ہی انتقال کرگئی تھیں۔ وہ ایک گھریلو خاتون تھیں، ساتھ ہی ساتھ اچھی نثرنگار بھی تھیں۔ اس حقیقت کا اظہار ان کے خطوط سے ہوتا ہے جو کتابی شکل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ صفیہ اخترکی حرف آشنا‘‘ اور"زیرِ لب ۔کو
خود جاں نثار اختر نے کتابی شکل میں صفیہ اختر کی وفات کے بعد شائع کیا تھا۔
 
Top