کتا ب و سنت ڈاٹ کام کی لائیبریری سے...

عبد المعز

محفلین
اسلام دینِ حق ہےاس کے عقائد سچے او رخالص ہیں ،اس کی عبادات سادہ او رانسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کےپیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ، آپ سب سے عظیم انسان ہیں جس کا اعتراف بعض انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی ہے ۔انگریز مصنف مائکل ہارٹ نے تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کی تو اس نے نبی کریم ﷺکے نام کو سرفہرست رکھا ۔سلسلہ انبیاء کےآخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں اور اسلام آخری او رحتمی دین ہے جو قیامت تک تمام لوگوں کے لیے جامع اورعالمگیر منبع ہدایت ہے اسی فکری وعملی دعوت کے لیے شعبہ علوم ِاسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہور گزشتہ نصف صدی سے نہایت اخلاص سےمصروف عمل ہے۔زیر نظر کتاب ''علوم اسلامیہ'' انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہورکے طلباء کے لیے نصابی کتاب ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی(چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور )، ڈاکٹر حافظ محمد شہباز( لیکچر شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور) نے انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سال اول کے طلباء وطالبات کے لیے مرتب کیا ہے ۔ مرتبین نے اس کتاب کو سات حصوں (قرآن ، الحدیث ، عقائد اسلام ،سیرت النبیﷺ، اسلام او رجدید سائنس،اخلاقیات ) میں تقسیم کیا ہے تاہم دیگر اہل اسلام کےلیے بھی اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے ۔لہذا افادۂ عام کےلیے اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے (م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
مقدمہ
حصہ اول القرآن الحکیم
فضائل قرآن
قرآن مجید کے محاسن
قرآن کریم کی جمع و تدوین
سورۃ المائدہ
تفسیر سورۃ المائدہ
احرام
حج
حلال و حرام کی حکمت
دین کامل
شرائط شکار
وضو کی فضیلت اور طریقہ
طہارت کے آداب
تیمم کا طریقہ
غسل کا طریقہ
اہل کتاب کے عقائد ، کتاب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت
سورۃ الفرقان
سورۃ الحجرات
تفسیر سورۃ الحجرات
حصہ دو م الحدیث
حدیث کی اہمیت و ضرورت
امام نووی  اور ان کی اربعین
حدیث 1 تا 21
حصہ سوم عقائد اسلام
توحید
رسالت
یوم آخرت پر ایمان
حصہ چہارم سیرت النبیﷺ
نبوت
مسلمانوں کا وطن چھوڑنا
حصہ پنجم اسلام اور جدید سائنس
قرآن حکیم اور سائنس
مسلمانوں کی سائنسی تاریخ کا مختصر تعارف
حصہ ششم اخلاقیات
قرآنی آیات
احادیث مبارکہ
 

عبد المعز

محفلین
انسان کے لیے گھر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے او ر اللہ تعالی نے کتاب ِمبین میں گھر کی سہولت کی دستیابی کواپنا انعام قرار دیا ہے ۔انسان جب اپنے چاروں اطراف نظر دوڑائے تو کتنے ہی لوگ ایسے نظر آئیں گے ، جو گھر جیسی نعمت سے محرومی کی وجہ سے سڑکوں کے کنارروں اور پارکوں میں پڑے راتیں بسر کرتے ہیں یا چھت کی عدم دستیابی کے سبب خیموں میں زندگی کے دن گزار نے پر مجبور ہیں ۔ ایسی صورت میں گھر کی سہولت جیسی نعمت کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اوراس نعمت غیر مترقبہ پر اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔چونکہ گھر کا میسر آنا انسان کے لیے سعادت مندی کی علامت او راللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے ،اس اعتبار سے گھر کے سر پرست پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن پرعمل پیرا ہو کر وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے نجات کاساماں کرسکتا ہے او ر روز ِقیامت اپنی مسؤلیت سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے ۔گھریلو معاملات کی اصلاح اور اولاد ووغیرہ کی دینی واخلاقی تربیت گھر کےسر پرست کی ذمہ داری ہے ۔زیر نظر کتا ب''مثالی گھر'' مولانا فاروق رفیع ﷾ (مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ) کی تصنیف ہے موصوف تصنیف وتالیف ،تخریج وتحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا نصف درجن کتب کے مصنف ، اچھے مدرس اور واعظ ہیں۔ اللہ تعالی ان کےعلم وعمل او ر زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) موصوف نے اس کتاب میں گھر کی اصلاح کے متعلق شرعی تعلیمات کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور جو عادات ِ بد ،اخلاق رزیلہ گھر کے بگاڑ او ربدامنی کا سبب بنتے ہیں ان پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ یہ کتاب گھرکے افراد کی اصلاح و تربیت کا مرقع او رگھرکو پرامن وپرسکون بنانے او راہل خانہ کی شرعی تعلیمات سےآراستہ کرنےکا خوبصورت گلدستہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں شامل ہر موضوع کو کتاب وسنت کے دلائل سے آراستہ کیا ہے او راس میں درج شدہ احادیث کی بڑی عرق ریزی سے تحقیق وتخریج کی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش او ر مصنف کے والدین ،اساتذہ ، او ر ہل خانہ کےلیے ذریعہ نجات بنائے (آمین)(م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
عرض مولف
گھر کب آؤ گے؟
گھر اللہ کی عظیم نعمت
کشادہ گھر خوش بختی کی علامت
گھر کے سرپرست کی ذمہ داریاں
صالحہ عورت کے اوصاف
نکاح سے پہلے منگیتر کو دیکھنا
اصلاح اہل خانہ کے لیے اسلامی تجاویز
اسلام اور اصلاح اہل خانہ
نماز اور اصلاح اہل خانہ
ایمان و اخلاص اور اصلاح اہل خانہ
قرآن اور اصلاح اہل خانہ
دوست کے انتخاب میں اسلامی معیار
گھر کی اصلاح اور ذکر الہٰی
ذکر الہٰی کی برکات
صبح و شام کے اذکار سے اصلاح
سونے کے آداب و اذکار
گھروں میں نوافل کا اہتمام
رحمتیں کیوں روٹھ جاتی ہیں؟
تصویر سازی کا حکم
تصاویر کا کیا کیا جائے؟
گھر کے متعلق چند شرعی احکام
برباد ہوتا گھر اور شرعی تقاضے
دینی کتب مثالی گھر کی زینت
مثالی گھر اور مراحل تربیت
فارغ اوقات گھر پر گزاریں
بچوں کے معمولات پر نظر رکھنا
بچوں کی تربیت
گھر کے معمولات اور نظام الاوقات
گھر کی بات گھر میں رہے!
محب و مودت کا کردار
مثالی گھر اور زبان کا کردار
فحش گوئی ، بد زبانی اور لعن طعن کرنا
اصلاح میں سچ اور جھوٹ کا کردار
غیبت اور چغل خوری
حسد ، غصہ ، حرص اور بخل کے اسباب و علاج
چادر اور چار دیواری
پردے کے احکام
عورت کے گھر سے نکلنے کے آداب
ٹی وی اور آلات موسیقی
گھر کے انتخاب کے متعلق چند ضروری باتیں
حسن سلوک
والدین کے ساتھ حسن سلوک
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک
مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک
جامع آداب
 

عبد المعز

محفلین
ہم میں کون شخص ہے جس نے آج تک اذان کی صدائے دلنواز نہ سنی ہو۔بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ایک مسلمان اپنی زندگی میں جو آواز بار بار اور سب سے زیادہ سنتا ہے وہ اذان ہی ہے۔یہ صدائے فلاح وفوز دنیا کی ہر بستی ،ہر نگر ،ہر شہر اور ہر اس علاقے میں جہاں مسلمان بستے ہیں روزانہ پانچ وقت بلند ہوتی ہے اور اللہ کی توحید کا اعلان کرتی ہے۔لیکن بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ وہ اذان جسے ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں ،جس کا ایک ایک حرف ہمارے نہاں خانہ دل میں اپنی پرعظمت شان وشوکت رکھتا ہے،جو دین کی ایک معروف شناخت اور ایک اہم ترین شعار ہے،ہم اس اذان کے پیغام سے کما حقہ واقف نہیں ہیں،اس کے معانی ومفاہیم اور حقائق ومعارف سے دور ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اذان جن معانی وحقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے ،اگر وہ ہمارے دل ودماغ میں پیوست ہو جائیں تو ہماری زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب آجائے۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’اذان ایک پیغام، ایک دعوت‘‘مولانا عبد الہادی عبد الخالق مدنی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اذان کی اسی معنویت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے،شاید کہ اس کے مطالعہ سے کسی کے دل ودماغ کی دنیا میں مفید ہلچل پیدا ہو اور آخرت کی نجات اور اللہ کی قربت کا ذریعہ بن جائے۔(راسخ)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
فصل اول: اذان اسلام کا امتیازی شعار
فصل ثانی: تکبیر
فصل ثالث: شہادتین
فصل رابع: الحیعلہ
فصل خامس: تکبیر و تہلیل
فصل سادس: اذان ایک پر اثر عالمگیر دعوت
مراجع و مصادر
 

عبد المعز

محفلین
محبت ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے اسی طرح معاشرہ میں ہر فرد اس کامتلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہرمتلاشی کی سوچ اورمحبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تویہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام محبت اوراخوت کا دین ہے اسلام چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت،پیار اوراخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کوغلط رنگ دے کرمحبت کے لفظ کو بدنام کردیا گیا او ر معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں پید ہو چکی ہیں اسکی ایک مثال عالمی سطح پر ''ویلنٹائن ڈے '' کا منایا جانا ہے ہر سال۱۴ فروری کو عالمی یومِ محبت کےطور پر '' ویلنٹائن ڈے'' کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے ۔ اس د ن جوبھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہے۔زیر نظر کتاب '' ویلنٹائن ڈے تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں'' معروف صاحب بصیرت قلم کاراور بچوں کےادیب عبد الوارث ساجد﷾ کی تصنیف ہے موصوف اس کتاب کے علاوہ کئی کتب کےمصنف ہیں فاضل مصنف نے اس کتاب میں ویلنٹائن ڈے کی تاریخ ،اس کے فروغ میں میڈیا کردار،محبت کاتہوار (ویلنٹائن ڈے ہم کیوں منائیں،ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت جیسے موضوعات کو تفصیل سے پیش کرنے کےبعد آخرمیں کبار علماء کرام کے ویلنٹائن ڈے کے متعلق فتاویٰ جات کو بھی اس کتاب میں شامل کردیا ہے اللہ مصنف کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی اس کاوش کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
عرض مولف
اس جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی
مقدمہ
مغرب کی تھوک
تقریظ
ویلنٹائن ڈے منانا ضروری ہے؟
پہلا باب ’’ ویلنٹائن ڈے ‘‘ تاریخ کے آئینے میں
مسرت بھی عبادت بھی
اصلی او رنقلی خوشی
بے شرمی کی تاریخ
عیسائیت کا اثر
محبت کا دیوتا حسن کی دیوی
جشن زرخیزی
خفیہ شادیاں
محبت کا شہید
ایک او رویلنٹائن
ویلنٹائن ڈے پر مبارک بادی کارڈ کا رواج
بکری اور کتے کی قربانی
جنسی اختلاط کا دن
زانی پادری
دولت کمانے کا ذریعہ
پاکستان میں ویلنٹائن ڈے
جنسی بے راہ روی کا فروغ
دوسرا باب ویلنٹائن ڈے کا فروغ اور میڈیا کا کردار
حیا کی کمی
محبت کر لو جی بھر لو
پی ٹی وی کی خدمات
میں تو ا پنی ہی نظروں سے گر گئی
غیرت کا جنازہ
تیسرا باب پاکستانی طلباء ویلنٹائن کی راہوں پر
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
تعلیمی اداروں میں عشق کے مریض
ہر اور لیلیٰ کی پرستار
ساتویں کلاس میں عشق
دس سال کا مجنوں
میں اپنی ٹیچر سے محبت کرتا ہوں
میں کسے چنوں والدین یا عاشق کو؟
محبت میں والدین رکاوٹ
محبت کے نرالے کھیل
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
مخلوط تعلیمی ادارے
عشقیہ خطوط کا مقابلہ
چوتھا باب اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
تم تو میری بہن ہو
محبوبہ بہن بن گئی
محبوب پر کتا چھوڑ دیا گیا
منہ کالا چھترول اور گدھے پر سواری
سنگدل محبوب نے زندگی اجاڑ دی
محبوبہ کی ٹھکائی
دیہاتی لڑکی نے چھترول کر دی
محبوب کی خودکشی
ایک لڑکی دو عاشق
پانچواں باب محبت کیا ہے؟
محبت ہی وجود کا راز ہے
اللہ تعالیٰ کی محبت
محبت کے درجات
مراتب محبت
محبت کے انداز
دینی مفہوم
چھٹا باب محبت کے دیوتا کا تہوار
عصمت کی قربانی
گلاب کا رنگ سرخ کیوں؟
دیوتا کی یاد میں عورتوں کے آنسو
جشن بہاراں
ساتواں باب ویلنٹائنی محبتوں کا انجام
خطرنا ک بیماری
امام ابن تیمیہ  کی رائے
عزت بھی گئی اور ناک بھی کٹ گئی
عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا
کیبل کے اثرات
بوس و کنار کا عالمی ریکارڈ
آٹھواں باب محبت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر
اللہ کا محبوب
اصلی مسلمان
دو مرد یا دو عورتیں
غیر محرم کے ساتھ تنہائی حرام ہے
آئیے ہم حقیقی محبت پائیں
نواں باب ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت
باغی او ردیوث
فیشن کے نام پر اسلام دشمنی
دسواں باب محبت کا تہوار ہم کیوں منائیں؟
اللہ کے دشمنوں کی پیروی
مسلمان اس تہوار کو کیوں نہیں منا سکتے؟
محبت سال بھر میں ایک دن کیوں؟
ہائے مسلمان کی بیٹیوں پر افسوس
عالم اسلام میں ویلنٹائن ڈے کا فروغ
آخری بات
گیارہواں باب ویلنٹائن ڈے کے متعلق علمائے کرام کے فتاوی جات
بارہواں باب اسلام اور پاکستان کو بچائیے
صبح روشن کی دیگر کتب
 

عبد المعز

محفلین
شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔دعاؤں کے حوالے سے بہت سے کتابیں موجود ہیں جن میں علماء کرام نے مختلف انداز میں میں دعاؤں کو جمع کیا ہے ۔زیرتبصرہ کتاب ''سنہری دعائیں'' مولانا عبد المالک مجاہد ﷾(ڈائریکٹر دارالسلام) کی تصنیف ہے اور مجاہد صاحب کی سنہری سیریز کا حصہ ہے ۔اس کتاب میں ایک نئے انداز سے روز مرہ کی اہم دعائیں ذکرکی گئی ہیں جن سے عام آدمی کوواسطہ پڑتاہے ۔دعاؤں کی فضیلت یا ان کے فوائد کےحوالے سے جو بات درست او رسنت سے ثابت ہے اس کی وضاحت بھی کردی گئی ہے ۔ اللہ تعالی مولانا عبدالمالک مجاہد﷾ کی دینِ اسلام کی نشرواشاعت کے لیے خدمات کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔(م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
عرض ناشر و مولف
نیند سے بیدار ہونے کی دعا
بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دعا
بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا
وضو سے پہلے کی دعا
گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا
تہجد کے وقت اور نماز فجر کے لیے گھر سے نکلتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
مسجد سے نکلنے کی دعا
اذان کا جواب
اذان کے بعد درود شریف اور مسنون دعائیں
تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا
رکوع کی دعا
رکوع سے اٹھنے کی دعائیں
سجدے کی دعا
دو سجدوں کے درمیان کی دعائیں
تشہد اور دورد سلام
درود شریف
سلام پھیرنے سے پہلے کی دعائیں
آیت الکرسی
سورۃ اخلاص
نماز استخارہ کی دعا
صبح وشام کے اذکار و دعائیں
درود شریف
قنوت وتر کی دعائیں
مشکلات کے حل کی دعا
حاکم کے ظلم سے خوف کی دعا
نماز جنازہ
بچے کی نماز جنازہ اور دعائیں
سجدہ تلاوت کی دعا
شیطان کب بھاگتا ہے ؟
زیارت قبور کی دعا
چاند دیکھنے کی دعا
دودھ پینے سے پہلے کی دعا
کھانا کھانے سے پہلے کی دعا
چھینک کی دعائیں
حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا
آغاز سفر کی دعا
حج یا عمرے کا احرام باندھنے والا لبیک کیسے کہے؟
طواف کی دعائیں
رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان کی دعا
یوم عرفہ کی دعا
رمی جمرات کے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر
قربانی کرتے وقت کی دعا
سوتے وقت کی دعائیں
نیا لباس پہننے کی دعا
نظر بد کے علاج کی دعائیں
عیدین کی تکبیرات
نماز عیدین کا طریقہ
نماز استسقاء کی دعائیں
نماز کسوف و خسوف کی دعائیں
نماز کسوف کا طریقہ
متفرق دعائیں
 

عبد المعز

محفلین
زیر تبصرہ چودہ صفحات پر مشتمل یہ چھوٹا سا کتابچہ ’’علم الکلام فلسفہ ومنطق کی مذمت اور مشہور منطق پرستوں کی توبہ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبد المحسن العباد کی کتاب قطف الجنی الدانی شرح مقدمۃ القیروانی صفحہ 54 تا 61 سے ماخوذ ہے اور ترجمہ کی سعادت محترم طارق علی بروہی نے حاصل کی ہے۔اس میں موصوف نے پہلے حصہ میں مختلف علماء سلف مثلا امام شافعی، امام احمد بن حنبل ،امام ابو یوسف اور امام ذہبی وغیرہ جیسے اہل علم کے اقوال کی روشنی میں علم الکلام فلسفہ ومنطق کی مذمت پر استدلال کیا ہے اور اس کی خرابی کو واضح کیا ہے۔ اور دوسرے حصے میں مشہور منطق پرستوں کی توبہ اور رجوع الی الحق کے واقعات کو بیان کیا ہے۔یہ کتابچہ اپنے موضوع پر ایک مفید اور راہنما تحریر ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کے فائدے کو عام کردے اور مسلمانوں کو منطق وفلسفہ جیسی فضولیات میں پڑنے کی بجائے براہ راست قرآن وحدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔(راسخ)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
علم الکلام (فلسفہ و منطق) کی تعریف
اہل الکلام
علم الکلام کی مذمت میں کچھ سلف کا کلام
علم الکلام کی سزا
بعض مشہور متکلمین کا علم الکلام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے حیرت و ندامت کا اظہار کرنا اور بعض کا اس سے ہدایت کی جانب رجوع کرنا
 

عبد المعز

محفلین
اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم ﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالی نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت او روحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی زبان صادقہ کا فیصلہ ہے ۔ قادیانیت کے رد میں اہل اسلام کے تقریبا ہر مکتب فکر علماء نے مختلف انداز میں خدمات سرانجام دی ہیں ۔زیرتبصرہ کتاب''مطالعہ قادیانیت مطالعہ وجائزہ '' مفکر ِاسلام مصنف کتب کثیرہ سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی رد قایانیت کے موضوع پر عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ترجمہ بھی سید صاحب نے خود ہی کیا۔ جس میں انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کے عقیدہ او ردعوت کا تدریجی ارتقا،مرزا صاحب کی سیرت اور تحریک قادیانیت کاتنقیدی جائزہ جیسے عناوین کے تحت دلائل کے ساتھ قادیانیت کا رد کیا ہے اللہ تعالیٰ سید ابو الحسن ندوی  کی دینِ اسلام کی ترویج واشاعت کے سلسلے میں تمام جہودکو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
حرف گتفنی
باب اول تحریک کا زمانہ اور ماحول اور اس کی بنیادی شخصیتیں
فصل اول انیسویں صدی عیسوی کا ہندوستان
فصل دوم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
فصل سوم حکیم نور الدین صاحب بھیروی
باب دوم مرزا غلام احمد صاحب کے عقیدہ اور دعوت کا تدریجی ارتقا اور دعاوی کی ترتیب
فصل اول مرزا صاحب مصنف اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے
فصل دوم مسیح موعود کا دعویٰ
فصل سوم مسیح موعود کے دعویٰ سے نبوت تک
باب سوم مرزا صاحب کی سیرت و زندگی پر ایک نظر
فصل اول دعوت کے فروغ اور رجوع عام کے بعد مرزا صاحب کی زندگی
فصل دوم انگریزی حکومت کی تائید و حمایت اور جہاد کی ممانعت
فصل سوم مرزا صاحب کی درشت کلامی اور وشنام طرازی
فصل چہارم ایک پیشگوئی جو پوری نہیں ہوئی
باب چہارم تحریک قادیانیت کا تنقیدی جائزہ
فصل اول ایک مستقل مذہب اور ایک متوازی امت
فصل دوم نبوت محمدیﷺ کے خلاف بغاوت
فصل سوم قادیانیت کی لاہوری شاخ اور اس کا عقیدہ اور تفسیر
فصل چہارم قادیانیت نے اسلام کو کیا عطا کیا
کتاب کے مآخذ
 

عبد المعز

محفلین
مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔زیر نظر کتاب '' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ؟'' محترم ابو داؤد عبد الغفار محمد ی﷾کی اس موضوع عظیم کاوش ہے جوکہ در اصل بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولوی سراج احمد سعیدی کی کتاب'' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ہیں؟ '' کا مدلل جوا ب ہے فاضل مصنف نے کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں مبتدعین،اور مجوزین جشن عید میلاد کا تعاقب کرتے ہوئے اہل بدعت کا منہ توڑ جواب دیاہے اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت سے نوازےاور اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
عرض مولف
مقدمہ
تقریظ
تاثرات
دیباچہ
میلاد ، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں منایا
دین الہٰی سے ان محفلوں کا کوئی تعلق نہیں
رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں میلاد منانے کا کوئی ثبوت نہیں
میلاد میں شرک اور خلاف شرع امور کا ارتکاب ہوتا ہے
درود سلام
میلاد بشر ذات کا ہوتا ہے نورزات کا نہیں
میلاد کے اثبات میں دیگر قرآنی دلائل اور ان کا جواب
یوف وفات کیوں نہیں مناتے؟
جناب عبدالمطلب کا کھانا کھلانا
عید میلاد کے احکام حدیث و فقہ میں کیوں نہیں؟
تابعین و ائمہ اسلام اور میلاد النبیﷺ
علامہ فاکھانی کی طرح دوسرے علماء نے بھی میلاد کو بدعت کہا
سلف صالحین میلاد نہیں مناتے تھے
میلاد کے بے ثبوت ہونے کا سعیدی اقرار
امام ابو حنیفہ اور آپ کے والدین غیر مقلد تھے
نواب صدیق خان کے حوالہ کی حقیقت
جشن میلاد شریف کا فائدہ
کیا امام ابن تیمیہ  کے نزدیک میلاد منانے پر ثواب ملتا ہے
مفتی محمد حسین نعیمی کا بیان
یزید بن معاویہ ہمارا امام نہیں
بچوں کی سالگرہ منانا بھی بدعت ہے
ساری دنیا میں جشن عید میلاد النبیﷺ
ایام حمل کی کوئی علامت معلوم نہ ہوتی تھی
پیدائش نبوی ﷺ کے وقت یہودی کا خبردار کرنا
کیا میلاد کے وقت شیطان چلایا تھا
کیا میلاد محمدی آسمانوں پر ہوا تھا سعیدی کی نادانی
وہابیوں کے امام حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں
مگر احمد رضا بریلوی کی بھی سنیے
جشن عید میلاد کے دشمن ڈنڈی مارتے ہیں
آپ زندہ ہیں اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہیں
وفات کے بعد شرعا کتنا دن سوگ منانا جائز ہے
حافظ ابن کثیر کی تحقیق
امام علامہ عینی حنفی
اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں
سعیدی عجیب انسان ہے
حضرت یحیی کے یوم میلاد پر سلام بھیجے
من پسند نیکی قبول نہیں
کیا مدارس کے جلسے بھی بدعت ہیں
جن علماء نے میلاد پر کتابیں لکھی ہیں وہ کیسے ہیں
کیا میلاد نانے سے سارا سال امن رہتا ہے؟
احناف نے قیام میلاد النبیﷺ سے منع فرمایا ہے
ابو لہب کے خواب کی حقیقت
امام اشعری کا قول
سورج کی شعاؤں کی مثال
انتساب
 

زلفی شاہ

لائبریرین
مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔زیر نظر کتاب '' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ؟'' محترم ابو داؤد عبد الغفار محمد ی﷾کی اس موضوع عظیم کاوش ہے جوکہ در اصل بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولوی سراج احمد سعیدی کی کتاب'' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ہیں؟ '' کا مدلل جوا ب ہے فاضل مصنف نے کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں مبتدعین،اور مجوزین جشن عید میلاد کا تعاقب کرتے ہوئے اہل بدعت کا منہ توڑ جواب دیاہے اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت سے نوازےاور اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
کیا حضرت آپ بدعت کی تعریف اور اس کی اقسام بیان کرنے کی تکلیف گوارہ کریں گے۔ آپ نے بڑی بے باکی کے ساتھ مسلمانوں کی اکثریت کو بدعتی کہا۔ حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ پہلے آپ بدعت کی تعریف اور اقسام بیان کرتے پھر آپ کو حق تھا کہ آپ فتوی لگاتے ۔ لیکن آپ لوگوں کی مجبوری ہے کیونکہ آپ کو تنگ نظری کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں دوسرے کو برداشت نہ کرنا بنیادی اصول ہوتا ہے۔ آپ نے قرون اولیٰ کی بات کی حالانکہ اپنی تحریر سے آپ خود ہی قرون اولی کی مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت اسامہ کو ڈانٹنا ایسے شخص کے بارے میں جو کئی صحابہ کو قتل کر چکا تھا لیکن حضرت اسامہ کے غلبے پر اس کا کلمہ پڑھنا ۔ اور پھر نبی کریم کا فرمانا کہ اگر اس کا کلمہ قیامت والے دن آگیا تو تیرے پاس کیا جواب ہوگا۔ ثابت کرتا ہے کہ نبوی مزاج یہ ہے کہ جس شخص میں صرف ایک ظاہری علامت بھی اسلام کی پائی جائے اس پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے لیکن آپ نے پوری ڈھٹائی کے مسلمانوں کی اکثریت کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے اہل بدعت کہہ دیا۔ اللہ تعالی آپ کو ہدایت کو نور عطا فرمائے ۔ نورانی چہرے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے۔
 

عبد المعز

محفلین
قرآن مجید نبی کریم پر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتب احادیث میں احادیث کی طرح مختلف کی قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم قراءات کے موضو ع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔شاطبیہ امام شاطبی  کی قراءات سبعہ میں اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ شاطبیہ کے شارحین کی ایک بڑی طویل فہرست ہے ۔زیر نظر کتاب ''شرح الشاطبیہ'' شیخ القراء والمجووین القاری المقری اظہار احمد تھانوی  کی تالیف ہے۔ مرحوم قاری صاحب نے شاطبیہ کو آسان اور سہل انداز میں طلباء کےلیے پیش کیا ہے۔ موصوف نے '' امانیہ شرح شاطبیہ'' کےنام سے بھی شاطبیہ کی ایک شرح تصنیف فرمائی ہے۔ یہ دونو ں شروح علمی حلقوں میں بے انتہا مقبول ہیں، اور طلباء و اساتذہ دونوں کی علمی ضروریات کو پورا کرتی ہیں اللہ تعالی قراء ات کے سلسلے میں ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
 

عبد المعز

محفلین
فہرست مضامین
حرفے چند
عرض شارح
مختصر حالات علامہ شاطبی
فن قراءت کے مبادی
قراءت کے تواتر کی شروط
خطبۃ الکتاب
فضائل قرآن مجید
قراء سبعہ اور ان کے راوی
رموز کا بیان
چند مقررہ اصول و اصطلاحات
کتاب کا تعارف اور طلبہ کو نصائح
نصائح
باب الاستعاذہ
باب البسملہ
سورۃ ام القرآن
باب الادغام الکبیر
باب ادغام الحرفین المتقاربین
باب ہاء الکنایہ
باب المدو القصر
باب الہمزتین من کلمۃ
باب الہمزتین من کلمتین
باب الہمز المفرد
باب نقل حرکۃ الہمزۃ الی الساکن قبلہما
باب وقف حمزۃ و ہشام علی الہمز
ہمزہ متطرفہ
ہمزہ متطرفہ کی بعض صورتیں
ہمزہ مکسورہ
ہمزہ متوسط بعد المتحرک
چند قرآنی کلمات
باب الاظہار والادغام
باب اتفافہم فی ادغام اذ وغیرہ
باب حروف قربت مخار جہا
باب احکام النون الساکنۃ والتنوین
باب الفتح والامالۃ بین اللفظین
باب اللامات
وجوہ وقف
باب الوقف علی مرسوط الخط
باب یاء ات الاضافہ
باب یاء ات الزوائد
فرش الحروف
سورۃ البقرۃ
سورۃ آل عمران
سورۃ النساء
سورۃ المائدہ
سورۃ الانعام
سورۃ الاعراف
سورہ الانفال
سورہ التوبہ
سورہ یونس
سورہ ہود
سورہ یوسف
سورہ الرعد
سورہ ابراہیم
سورہ الحجر
سورہ النحل
سورہ بنی اسرائیل
سورہ الکہف
سورہ مریم
سورہ طہ
سورہ الانبیاء
سورہ الحج
سورہ المومنون
سورہ النور
سورہ الفرقان
سورہ الشعراء
سورہ النمل
سورہ القصص
سورہ العنکبوت
سورہ الروم
سورہ لقمان
سورہ السجدہ
سورہ الاحزاب
سورہ سبا
سورہ فاطر
سورہ یس
سورہ الصافات
سورہ ص
سورہ الزمر
سورہ المومن
سورہ حم السجدہ
سورہ الشوری
سورہ الزخرف
سورہ الدخان
سورہ الجاثیہ
سورہ الاحقاف
سورہ محمد
سورہ الفتح
سورہ الحجرات
سورہ ق
سورہ الذاریات
سورہ الطور
سورہ النجم
سورہ القمر
سورہ الرحمن
سورہ الواقعہ
سورہ الحدید
سورہ المجادلہ
سورہ الحشر
سورہ الممتحنہ
سورہ الصف
سورہ الجمعۃ
سورہ المنافقون
سورہ التغابن
سورہ الطلاق
سورہ التحریم
سورہ الملک
سورہ القلم
سورہ الحاقۃ
سورہ المعارج
سورہ نوح
سورہ الجن
سورہ المزمل
سورہ المدثر
سورہ القیامۃ
سورہ الدھر
سورہ المرسلات
سورہ النباء
سورہ النازعات
سورہ عبس
سورہ التکویر
سورہ الانفطار
سورہ المطففین
سورہ الانشقاق
سورہ البروج
سورہ الطارق
سورہ الاعلی
سورہ الغاشیہ
سورہ الفجر
سورہ البلد
سورہ الشمس
سورہ اللیل
سورہ الضحی
سورہ الشرح
سورہ التین
سورہ العلق
سورہ القدر
سورہ البینۃ
سورہ الزلزال
سورہ العادیات
سورہ القارعۃ
سورہ التکاثر
سورہ العصر
سورہ الھمزۃ
سورہ الفیل
سورہ قریش
سورہ الماعون
سورہ الکوثر
سورہ الکافرون
سورہ النصر
سورہ تبت
سورہ الاخلاص
سورہ الفلق
سورہ الناس
 
اگر آپ کا محفل میلاد منانے کا جہ نہیں چاہ رہا یا آپ کا ضمیر مطمئن نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فتووں کی توپ اٹھا کر مسلمانوں پر شرک و بدعت کی گولہ باری شروع کر دیں۔ اگر مسلمانوں کی اکثریت کا عمل آپ کو پسندیدہ نہیں لگ رہا تو ان کو سمجھنے کی کوشش کریں نا کہ ان پر چڑھائی کرکے نیا فتنہ و فساد کھڑا کریں۔
 
Top