نظریہ ارتقاء پر اٹھائے جانے والے پندرہ اعتراضات اور ان کے جوابات

زہیر عبّاس نے 'سائنس اور ہماری زندگی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 19, 2016

  1. محمد عظیم الدین

    محمد عظیم الدین محفلین

    مراسلے:
    853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سورة الْمُؤْمِنُونَ - آیت 12 تا 16
    وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَ۔ٰنَ مِن سُلَ۔ٰلَةٍ۬ مِّن طِينٍ۬
    ثُمَّ جَعَلۡنَ۔ٰهُ نُطۡفَةً۬ فِى قَرَارٍ۬ مَّكِينٍ۬
    ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةً۬ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةً۬ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَ۔ٰمً۬ا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَ۔ٰمَ لَحۡمً۬ا ثُمَّ أَنشَأۡنَ۔ٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَ‌ۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَ۔ٰلِقِينَ
    ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٲلِكَ لَمَيِّتُونَ
    ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَ۔ٰمَةِ تُبۡعَثُونَ

    سورة التین
    لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
    (یہ اس لیے نہیں کہا تھا کہ بعد میں انسان جانوروں کو اپنا جد مان کرخود اپنی تذلیل پر لگ جائے۔)

    سورة یس

    إِنَّمَآ أَمۡرُهُ ۥۤ إِذَآ أَرَادَ شَيۡ۔ٴً۬۔ا أَن يَقُولَ لَهُ ۥ كُن فَيَكُونُ
    ترجمہ اور تفسیر پڑھیے خود سمجھیے اگر واقعی طلب ہے۔
    بھائیوں مباحثے میں حصہ لینے کو مجھے شوق نہیں، بات ہی ایسی کی گئی تھی اس لیے رہا نہیں گیا۔ مزید سوال و جواب سے میں عاجز ہوں۔ جتنا وقت آپ حضرات سائنس پڑھنے میں لگاتے ہیں اس سے تھوڑا وقت نکال کر قرآن کریم کو پڑھیے اور سمجھیے انشاءاللہ سارے اشکالات دور ہوجائیں گے۔ اللہ تعالی مجھے اور ہم سب کو سمجھ نصیب فرمائے۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 26, 2017
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,490
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ٓیہ ایک عام صورت حال ہے کہ نظریہ ارتقاء کو مذہب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ ٓسوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہے؟ ہم مذہب کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور اپنے ماہرین کو ایک پراجیکٹ دیتے ہیں کہ آپ ایک ایسا سسٹم ڈیزائین کیجئے جو شروع میں ایک امیبا ہو ، سنگل سیل ہو اور کچھ اینزائیم سے بنا ہو۔ اور اس سیل میں یہ سارا ڈیزائین موجود ہو کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے بڑھتے ایک مکمل انسان بن جائے گا ، اب اس پراسیس میں ایک دن لگے یا 10 ملین سال۔ چلئے صاحب محمد عظیم الدین صاحب کے پاس اتنا علم اور صلاحیت ہے کہ جناب ٓنے فرمایا --- "ہوجا" اور "ہوگیا" اور اب یہ خلیہ خود بخود اپنے اندر کے ڈیزائین کے باعث مختلف لائف فارم کے مراحل سے گذرنے لگا۔ بننا اس نے انسان ہی ہے ٓ، چاہے ایک سیکنڈ میں بنے یا 10 ملین سال میں ۔ اب صاحب پیدائش کے اس عمل میں کہیں کوئی ڈیفیکٹ آیا اور کوئی پیدائش ایسی ہوئی کے وہ زمین پر چل پھر سکتی تھی۔ اور کچھ مچھلی بن گئی ، تو کچھ ڈیفیکٹ ایسے ہوئے کہ وہ بندر بن گئے۔ اب اس ضمنی ارتقاء کی بنیاد تو وہی خلیہ ہے جو کہ ہمارے دوست عظیم الدین صاحب نے ڈیزائین کیا تھا۔ ٓتو کیا ہم اس ضمنی ارتقاء جو کہ دوسرے جانوروں کی صورت میں بنیادی خلئے سے بنا ہے ، عظیم الدین صاحب کا ڈیزائین ماننے سے انکار کردیں گے؟

    انسان خود ایک خلئے سے بنا یا اس خلئے کو کسی سپریم آرکیٹیکٹ نے بنایا ۔ اس کا ارتقاء ایک حقیقت ہے۔ یہ بیان ہم کو صرف ایک مذہبی کتاب میں ہی نہیں بلٓکہ دوسری مذہبی کتب میں بھی ملتا ہے۔ لہذا ارتقاء کو مذہب سے جدا کرنےکا کوئی جواز بنتا نہیں۔ ٓ

    قرآن حکیم کے متن کے بارے میں میں ایک بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ۔ اس کا لکھنے والآ -- علم رکھتا ہے ۔۔ ذہن میں رکھئے کہ ہم مذہب کو ایک طرف رکھ کر بات کررہے ہیں۔ میرا ایمان اپنی جگہ قائم ہے۔

    آئیے، ایک ایٓت دیکھتے ہیں ، یہ آیت خاص طور پر ان لوگوں کے لئے قابل غور ہے جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان ڈائریکٹلی یعنٓی براہ راست بنا دیا تھا۔ ذرا غور سے اس آیت کو دیکھٓئے۔

    4:1
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

    اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جاندار خلیہ سے پیدا کیا اور اسی ٓجاندار خلیہ سے اس (خلیہ ) کا جوڑا بنایا اور ان دونوں (جاندار خلیہ اور اس کے جوڑے ) ٓ سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے
    ٓ

    اس آیت میں اللہ تعالی صاف صاف فرما رہے ہیں کہ وہ ذات جس نے تم کو ایک واحد جاندار خلیہ سے تحلیق کیآ، اسی خلئے سے اس کا جوڑا بنایا، اور پھر اس سے پھیلائے ، بہت سارے مرد اور عورتیں۔ یہ سنگل لونگ سٓیل کی تخلیق ، پھر اس سنگل لونگ سیل کے جوڑے (پئر) کی تخلیق ، لیکن انسان کی تخلیق کی تخلیق کے لئے پھیلٓانے کے الفاظ استعمال کئے۔

    اب ہمارے پاس دو چوائس ہیں۔ یہلی یہ کہ ہم اس سب صاف صاف الفاظ سے انکار کردیں یا پھر مان لیں کہ جس ارتقاء کو ہم آٓج نوٹس کررہے ہیں، اس ارتقاء کا وجود یقینی طور پر ہے۔ اب اس کو کسی سپریم آرکیٹکٹ نے ڈیزائین کیا یا یہ فطری قوتوں اور ان قوتوں کے اصولوں کی وجہ سے خود سے وجود میں آگیآ ؟ اور اس کے بعد اس خلئے کا ارتقاء ہوا۔

    میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے رب، اللہ تعالی نے صاف صاف بیان کردیا ہے کہ وہ اس نفس واحدۃ کا خالق ہے جس سے زندگی کی ابتداء ہوئی۔ جو مانتا ہے مان لے ، جو نہیں مانتا اس کو فطری قوتوں اور ان قوتوں کی وجہ سے وجود میں آنا سمجھ لے۔ یا پھر انتظار کرے کہ جب کوئی یہ کلیم ٓلے کر آئے کہ وہ اس سنگل لونگ سیل کا خلق ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ارتقا، ایک حقیقت ہے۔ یہ سنگل لونگ سیل سے شروعٓ ہوا اور یہ جاری ہے ۔ اس کی انتہا کیا ہے ، ہم کو نہیں معلوم

    والسلام
     
    • متفق متفق × 2
  3. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,490
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    خوشی ہے کہ سوچوں کا ارتقاء کچھ نا کچھ ہوا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر