1. اردو محفل سالگرہ دواز دہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

نظریہ ارتقاء پر اٹھائے جانے والے پندرہ اعتراضات اور ان کے جوابات

زہیر عبّاس نے 'سائنس اور ہماری زندگی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 19, 2016

  1. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    سائنسدان صرف سائنسی مشاہدات کو مانتے ہیں۔ انکا مذہبیات و عقیدتوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔
     
    • متفق متفق × 2
  2. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ لڑی ارتقا سے متعلق ہے جو کہ ایک سائنسی موضوع ہے۔ مذہبی باتوں کیلئے محفل کے دیگر زمرے موجود ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    ڈائنوسارز نو بھی لبو، کہ او وی نئیں سی دنیا وچ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,342
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    آپ سی عظمت ان کے نصیب میں کہاں۔ بیچارے بیوقوف لوگ ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  5. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    آر این اے ڈی این اے سے زیادہ قدیم ہے اسلئے اسکا ارتقا پہلے ہوا تھا۔ البتہ یہ انزائمز کی وجہ سے جلدی موت کا شکار ہو جاتا جو ڈی این اے نہیں ہوتا اسلئے قدرتی انتخاب یعنی ارتقا کے تحت ڈی این اے والی مخلوق قائم رہی اور آر این اے والی ناپید۔
     
  6. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    :laugh::laugh::laugh:
     
  7. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    نہیں آج تو سارا دن پانامہ انکل کے پاس بیٹھا رہا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,833
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اگر یہ کائنات بگ بینگ سے قبل موجود تھی تو کھربوں سال کر لیں۔
     
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    27,086
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  10. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    1,345
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    عارف براہِ کرم آپ پہلے سائنس کے مبادیات (کم از کم اپلائڈ فزکس) کو سمجھیں پھر اگر بحث کریں تواس کا کوئی وزن بھی ہوگا۔
    میرا پہلا سوال اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے پوچھا گیاتھا:
    جس پر آپ کا پُرمزاح جواب مِلا(میں مضحکہ خیز کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا)۔
    یہ معلوم ہونے پر کہ آپ سائنس کے ”بنیادی قوانین“ سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں ، مزید سوالات کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن آپ کے جواب میں موجود ”ازخود نقل پذیر“ مالیکیولوں کو لے کر بات آگے بڑھانا چاہا۔
    برسبیلِ تذکرہ! آپ ”خدا“ کے سوال کو ”مذہبیات“ کے پلڑے میں ڈال کر جان چھڑا نہیں سکتے کیوں کہ اسٹیفن ہاکنگ، آئن اسٹائن سمیت کئی سائنسی شخصیات ”خدا“ کے وجود پر (جداگانہ) بحث کرچکے ہیں۔ لہذا آپ کا یہ جواب سائنس کے طالب علم کی حیثیت سے باطل ہے۔اس کی دوسری وجہ نیچے بیان کی جائے گی۔
    یہ بات سائنس کا ایک مبتدی بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی شے کسی بھی صورت میں بغیر کسی قوت کے حرکت پذیر نہیں ہوسکتا (نیوٹن کا پہلا قانون )۔اگر ہم کہیں کہ ابتدائی زندگی ”قدرتی طورپر“ وجود میں آئی تو سوال یہ ہے کہ ان مالیکیولز کو کس نے ”پُش“ کیا؟ اس کی مزید وضاحت ذیل میں آرہی ہے۔

    مادے کی بنیاد(جدیدترین مشاہدات و تجربات کی روشنی میں )اساسی ذرات پر قائم ہے (جن میں کوارکس اور لیپٹان شامل ہیں ) ۔ جو کہ کسی بھی طرح ازخود وجود میں نہیں آسکتے ۔ ہم شاید یہ ”کہہ“ سکے کہ ان کی بنیاد بھی مزید ذیلی ذرات پر ہے(آپ ”بنیادی ترین“ ذرات کی اساس توانائی تک بھی لے کر جاسکتے ہیں)لیکن چوں کہ آخر کار ہمیں کسی جگہ رکنا ہوگا(آپ یہاں بِگ بینگ سے پہلے کے نقطے کو تصورکرسکتے ہیں)۔لہذا وہی وہ مقام ہوگا جہاں ہمیں خالق کے وجود کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی ”خالق“ نے اس نقطے کو وجود دینے کے لیے وہ ”ابتدائی قوت“ مہیا کی جو( بِگ بینگ نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے) اُس وقت سے لے کر اب اور آنے والے وقت تک ظہور پذیر ہونے والے تمام قوتوں اور ان قوتوں کے نتیجہ میں بننے والی توانائی اور مادےکے مختلف اقسام کا مبدا بنی(جن میں کائنات کا ہر شے شامل ہیں)۔یعنی جس طرح ہم ریڈ شفٹ کی مددسے خود کو جب13 ارب سال پہلے لے جاتے ہیں تو ایک نقطے پر رُک جاتےہیں اسی طرح تمام مادے کے وجود اور حرکت کے پیچھے بھی ”ایک “ہی قوت کارفرماہوئی۔

    لیکن آخر ”خدا“ کے وجود اور اس کے انکار کا نظریہ کیوں اتنا اہم ہے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ آپ خدا کے وجود کا انکار کردیں ، روحانیت، فرشتوں، انبیاء اور آسمانی کتابوں اور مذاہب سے آپ بری ہوگیے۔ آپ خدا کے وجود کا اقرار کریں ، تو لامحالہ یہ سب آپ کو ماننا پڑیں گے۔جب کہ نظریۂ ارتقاء (خصوصاً انسانوں او ر بندروں کے ایک جد امجد ) کی بحث کا خدا کے وجود سے بہت گہرا تعلق ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 21, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    1,345
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    فی الحال یہاں تک مزید گفتگو محفوظ رکھ کر بات کو سمیٹتا ہوں۔ موجودہ نظریۂ ارتقاء اور کچھ دیگر اہم نکات پر پھر کبھی بات کروں گا۔ ان شاء اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,342
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    کیا تمام خدا کے وجود کا اقرار کرنے والے انھیں مانتے ہیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    1,345
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    آپ نےبہت اچھا سوال کیا ۔
    جب ہم خدا کو مان لیتے ہیں تو یہاں سے پھر تقابلِ ادیان کا باب کھلتا ہے ...
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 21, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    27,086
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    یہ سائنس کا زمرہ ہے فلسفے یا مذہب کا نہیں
     
    • زبردست زبردست × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  15. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,342
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    پھر کبھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمد عظیم الدین

    محمد عظیم الدین محفلین

    مراسلے:
    853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہر وہ علم جو انسان کو مذہب سے بیزار کردے یا بیزار ہونے پر آمادہ کردے علم نہیں جہالت ہے۔ علم وہ ہے جو انسان کو خدا تک لے جائے نہ کہ خدا سے بلکہ خدا کے تصور سے بھی دور لے جائے۔
    اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کو جدید علوم یا عصری تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ علم ضرور پڑھیں بس اس کے اثرات سے بچنے کی کوشش بھی کریں۔ علم اس لیے پڑھیں کہ آپ دنیا میں دوسری اقوام کا مقابلہ کرسکیں اس میدان میں اور غلط باتوں کی طرف نشاندہی کر کے درست سمت کو تعین کر سکیں۔ اثرات سے محفوظ رہنا اس لیے ضروری ہے کہ اکثر جو لوگ عصری تعلیم کی طرف مکمل توجہ دیتے ہیں اور جن کا مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا ان کی عام طور پر انتہا مذہب سے بیزاری پر ہوتی ہے جسے دہریت بھی کہا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ یہ بیزاری دل میں بیٹھ جائے بس پھر مذہب کی ہر بات پر اعتراض شروع ہوجاتا ہے۔
    حالانکہ اگر جدید علوم سے نابلد شخص کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ میں فلاں سائنسدان کی تھیوری کو نہیں مانتا تو اپنے آپ کو پڑھا لکھا کہنے والے اس پر ہنستے ہیں مذاق اڑاتے ہیں کہ تمھیں کیا معلوم سائنس کیا ہے اور یہ تھیوری کیوں پیش کی گئی ہے۔ لیکن یہ ہی لوگ مذہب کے معاملے میں بالکل کورے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی حدود اللہ پر اعتراض کرنے سے باز نہیں آتے پھر اس پر دلیل بھی سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ یعنی نعوذ باللہ اللہ تعالی نے احکام فطرت کے مطابق نہیں بھیجے یا احکام بھیجنے تھے تو ان سے پہلے پوچھ لیتا یا پھر جن لوگوں نے ساری زندگی دین اور اسلام کا علم حاصل کرنے میں کھپا دی وہ درست بات نہیں سمجھ سکے بلکہ یہ کل کے چھوکرے امریکہ اور انگلینڈ سے کافر استادوں سے جو اسلام سیکھ کر آئے ہیں وہ درست ہے۔ اس طرح کا طرزِ تعلیم اکثر انسان کو اسقدر بے باک کردیتا ہے کہ وہ خدا کے احکام پر اعتراض کرنے لگتا ہے بلکہ خود خدا کے وجود کا ہی منکر ہوجاتا ہے۔
    میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دوہرا تعلیمی نظام ہے جس کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ نظریات کے حامل انسان معاشرے میں موجود ہیں۔ ایک کے نزدیک مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے بنیاد پرست، جاہل اور شدت پسند ہیں، معاشرے پر بوجھ ہیں۔ دوسرے کے نزدیک کالج، یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے سارے کفر اور الحاد کا شکار ہے یا کم از کم فاسق اور فاجر تو ہیں ہی۔ یہ دونوں رویے انتہائی خطرناک ہیں۔
    اللہ تبارک تعالی نے ہر انسان میں الگ الگ صلاحیتیں رکھی ہیں اور پھر حالات و واقعات ہر انسان کے اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ جن کی بنیاد پر انسان اپنا ایک مزاج بنا لیتا ہے جو عمومی طور پر ساری زندگی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن لوگوں کو مذہبی اور جدید علوم دونوں سے اللہ تعالی نے نوازا ہے ان کو آگے آنا چاہیے اور ان دو انتہا پسند رویوں کو ختم کر کے آپس میں ہم آہنگی کا درس دینا چاہیے۔
    یہ چند الفاظ محض اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے لکھے ہیں، بحث میں حصہ لینے کا ہر گز مقصد نہیں۔ اگر کوئی صاحب اتفاق نہیں کرتے تو شوق سے اختلاف رکھ سکتے ہیں اور اختلاف ہونا کوئی ناپسندیدگی کی علامت نہیں ہاں البتہ بے جا مخالفت انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ اللہ تعالی مجھے ہم سب کو سمجھ نصیب فرمائے۔ آمین
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    27,086
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    اتنا لمبا مذہبی لیکچر جھاڑنے سے قبل ارتقا کی سائنس سے متعلق بنیادی پوسٹس ہی پڑھ لیتے تو آپ کے علم میں بھی اضافہ ہو جاتا اور ہمیں یہ لیکچر بھی نہ سننا پڑتا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  18. محمد عظیم الدین

    محمد عظیم الدین محفلین

    مراسلے:
    853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مشورے کا بہت شکریہ، حیرت ہے کہ آپ کو یہ مذہبی لیکچر لگا۔ معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کی طبع ناز پر گراں گزرا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  19. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,184
    موڈ:
    Cool
    یار یہ اصل کلپرٹ مہوش حیات کدھر ارتقا پذیر ہوگئی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  20. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,490
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    دن کے بغیر رات، موت کے بغیر زندگی، کالے کے بغیر سفید بنانا، کس بھی قادر مطلق کے لئے ممکن نہیں۔ لہذا یہ بحث بے کار ہے۔ اس کے معانی کسی کائنات کے سپریم آرکیٹیکٹ کی موجودگی سے انکار نہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر