شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

بنے بنائے سے رستوں کا سِلِسلہ نِکلا
نیا سفر بھی، بہت ہی گُریز پا نِکلا

نہ جانے کِس کی ہمَیَں عُمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا، وہ دُوسرا نِکلا

خلؔیل الرحمٰن اعظمی
 

طارق شاہ

محفلین

کُچھ ااُن کے اِلتفات نے زحمت نہ کی قبول
کُچھ نقص میرے حالِ پریشاں میں رہ گئے


دِل میں، جو چند عارضی جذبے خوشی کے تھے
وہ بھی دبے ہُوئے غمِ پنہاں میں رہ گئے

سیمابؔ اکبر آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

یہ بھی حسؔرت کوئی تدبیرِ سُکوں ہے، کیا خُوب !
دِلِ بے تاب سے کہتے ہو، اُنھیں یاد نہ کر

حسرؔ ت موہا
نی
 

طارق شاہ

محفلین

پرتوِ حُسن سے زیبا ہی رہے گا حسؔرت
چاہے جس طور سے وہ طُرۂ دستار بندھے

حسؔرت موہانی
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

اب وہ زماں نہ وہ مکاں، اب وہ زمیں نہ آسماں
تم نے جہاں بدل دِیا ، آکے مِری نگاہ میں

لفظ نہیں، بیاں نہیں، یہ کوئی داستاں نہیں
شرحِ نیاز و عاشقی، ختم ہے ایک آہ میں

اضغؔر گونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین

ہوش باقی ہوں تو اُس پر کاوشِ بیجا بھی ہو
کیا خبر مجھ کو، کہ یہ آواز ہے یا ساز ہے


اضغؔر گونڈوی
 

طارق شاہ

محفلین

سخت مُضطر دلِ ہنگامہ طلب ہے، یا رب !
آج ہی، کیوں نہ وہ ہوجائے جو فردا ہوگا

میر مہدی مجؔروح
 

طارق شاہ

محفلین

عِبرت زدہ جو دِل ہو، ارمان اُس میں کیسے
بجلی گری ہو جس پر ، وہ شاخ کیا پھلے گی

جنّت بنا سکے گا ہرگز کوئی نہ اِس کو !
دُنیا یونہی چلے ہے اکبؔر یونہی چلے گی

اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

نہ گیا، خوابِ فراموش کا سودا نہ گیا
جاگتے سوتے، تجھے یاد کیے جاتے ہیں

نشۂ حُسن کی یہ لہر، الٰہی توبہ !
تشنہ کام آنکھوں ہی آنکھوں میں پیے جاتے ہیں

مرزا یاس یگانہ چنگیزی
 

طارق شاہ

محفلین

شوق سے ، ناکامی کی بدولت، کوچۂ دِل ہی چُھوٹ گیا
ساری اُمیدیں ٹُوٹ گئیں، دِل بیٹھ گیا، جی چُھوٹ گیا

لیجیے کیا دامن کی خبر اور دستِ جُنوں کو کیا کہیے
اپنے ہی ہاتھ سے دِل کا دامن مُدّت گُزری چُھوٹ گیا

منزلِ عِشق پہ تنہا پہنچے، کوئی تمنّا ساتھ نہ تھی
تھک تھک کراِس راہ میں آخر اِک اِک ساتھی چُھوٹ گیا

شوکت علی خاں فانؔی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

جس دِن سے چلا ہُوں مِری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے، کبھی مِیل کا پتّھر نہیں دیکھا

ڈاکٹر بشیر بدر
 

طارق شاہ

محفلین

کہہ سکتے تو احوالِ جہاں تم سے ہی کہتے !
تم سے تو، کسی بات کا پردہ بھی نہیں تھا

عزیز حامد مدنی


 

طارق شاہ

محفلین

دُنیا میں حالِ آمد و رفتِ بشر نہ پُوچھ
بے اِختیار آ کے رہا ، بے خبر گیا

شوکت علی خاں فاؔنی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

میرے سر میں ابھی مُلّا یہ خلل باقی ہے
آج گمنام ہُوں، لیکن ابھی کل باقی ہے

نقشِ پا سے مِرے روشن نہ سہی راہِ ادب
میری تابانیِ کردار و عمل باقی ہے

آنند نرائن مُلّاؔ
 

طارق شاہ

محفلین

زخم ہا زخم ہُوں، اور کوئی نہیں خُوں کا نِشاں !
کون ہے وہ؟ جو مِرے خُون میں تر ہے مُجھ میں

جوؔن ایلیا
 

طارق شاہ

محفلین

یاد آتی ہے جب تِری شوخی
لَوٹ جاتا ہُوں اِضطراب کے ساتھ


موت کا انتظار آٹھ پہر !
زندگی! اور اِس عذاب کے ساتھ

داغؔ دہلوی
 

طارق شاہ

محفلین

اِبہامِ آگہی سے میں اپنے وجُود کا !
اِقرار کر رہا ہُوں مُکرنے کے باوجُود

سیّد فخرالدّین بلے
 

طارق شاہ

محفلین

الفاظ و صوت و رنج و تصوّر کے رُوپ میں !
زِندہ ہیں لوگ آج بھی، مرنے کے باوجُود


سیّد فخرالدّین بلے
 
Top