شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

تم مُخاطب بھی ہو، قریب بھی ہو !
تم کو دیکھیں، کہ تم سے بات کریں

فِراؔق گورکھپوری
(رگھوپتی سہائے)
 

طارق شاہ

محفلین

آپ پر بھی، وار ہو دِل کا تو پُوچھیں آپ سے !
عِشق بیماری کا غلبہ ہے ،کہ افسانے کا نام

عبدالحمید عدؔم
 

طارق شاہ

محفلین

اب تو مِل جاؤ ہمیں تم ! کہ تمھاری خاطر
اِتنی دُور آ گئے، دُنیا سے کنارا کرتے

عُبیداللہ علیؔم
 

طارق شاہ

محفلین

کچھ نہیں اِس کے سِوا، جوؔش حرِیفوں کا کلام !
وصل نے شاد کیا ، ہجر نے ناشاد کیا

جوؔش ملیح آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

جب بغیر اِس کے، نہ ہوتی ہو خلاصی، اے عدؔم !
رہزنوں کو، رہنُما تسلِیم کر لیتا ہُوں میں

عبدالحمید عدؔم
 

طارق شاہ

محفلین

سر پھوڑنا، وہ ، غالؔبِ شورِیدہ حال کا !
یاد آگیامُجھے ، تِری دِیوار دیکھ کر

مِرزا اسداللہ خاں غالؔب
 

طارق شاہ

محفلین

کُچھ اِس ادا سے آج ، وه پہلُو نَشِیں رہے !
جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے

جگؔر مُرادآبادی
 

طارق شاہ

محفلین

شیو کا وِش پان تو سنا ہوگا
میں بھی اے دوست! پی گیا آنسو

فراقؔ گورکھپوری
(رگھو پتی سہائے)
 

طارق شاہ

محفلین

اِک عُمر کٹ گئی ہے تِرے اِنتظار میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات


فراقؔ گورکھپوری
(رگھو پتی سہائے)
 

طارق شاہ

محفلین
بس کہ پابندیِ آئینِ وفا ہم سے ہُوئی
یہ اگر کوئی خطا ہے، تو خطا ہم سے ہُوئی

زندگی! تیرے لیے سب کو خفا ہم نے کیا
اپنی قسمت ہےکہ اب، تُو بھی خفا ہم سے ہُوئی

سر اُٹھانے کا بَھلا اور کسے یارا تھا
بس تِرے شہر میں یہ رسم ادا ہم سے ہُوئی

بار ہا دستِ ستمگر کو قلم ہم نے کیا
بار ہا ! چاک اندھیرے کی قبا ہم سے ہُوئی

ہم نے اُتنے ہی سرِ راہ جلائے ہیں چراغ
جتنی برگشتہ زمانے کی ہَوا ہم سے ہُوئی

بارِ ہستی تو اُٹھا، اُٹھ نہ سکا دستِ سوال !
مرتے مرتے نہ کبھی کوئی دُعا ہم سے ہُوئی

کچھ دِنوں ،ساتھ لگی تھی ہمیں تنہا پا کر
کتنی شرمندہ مگر موجِ بَلا ہم سے ہُوئی

خلیل الرحمان اعظمی
 

طارق شاہ

محفلین

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
ہے یہی اِک بات ہر مذہب کا تت

چَٹّے بٹَّے ایک ہی تھیلے کے ہیں
ساہوداری، بسوہ داری، سلطنت

علامہ اقبال
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

مشرِق سے ہو بیزار، نہ مغرِب سے حذر کر
فِطرت کا اِشارہ ہے، کہ ہر شب کو سَحَر کر

علامہ اقبال
 

طارق شاہ

محفلین

سوز و گداز و شوق کی منزِل نہ پا سکے
جو دِل میں تھا ،وہ غم بھی زباں تک نہ لا سکے

طلعؔت اشارت
 

طارق شاہ

محفلین

دِ کھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
خراب ہوکے بھی، یہ زندگی خراب نہیں

فِراق گورکھپُوری
 
Top