زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

ضیاءالقمر

محفلین
بامن میاویز اے پدر ، فرزند آذر را نگر
ہر کس کہ شد صاحب نظر ،دِینِ بزرگاں خوش نکرد
غالب
بڑوں اور چھوٹوں کے خیالات میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے
جسے آج کل کے معاشرے میں ،،جنریشن گیپ،، کہتےہیں
موحد ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بت پرست باپ آذر سے سخت اختلاف تھا۔
اُسی کا ذکر اس شعر میں ہے:
اے باپ مجھ سے جھگڑا نہ کر:آذر کے بیٹے کو دیکھ۔ جو کوئی بھی صاحب نظر ہو گیا
اُسے اپنے بزرگوں کے دین سے تسلی نہیں ہوتی۔
 

حسان خان

لائبریرین
دارم ہوائے آں پری کُوبسکہ نغز و سر کش است
زافسوں مسخرشد ولے، زہد پری خواں خوش نہ کرد
غالب
لوگوں کا یہ مشہور عقیدہ ہے کہ پری کو دو طریقے سےرام کیا جا سکتا ہے
ایک جادو سے (افسوں)اوردوسرے زاہد سے
شاعر نے (زہد پری خواں) کہا ہے کہ بعض آیات قرآنی پڑنے سے جن اور پری حاضر ہو جاتے ہیں۔
لغت: نغز= پاکیزہ ،حسین و لطیف
"رام کو ہندی میں مُٹھی اور عربی میں قبضہ کہتے ہیں۔" ( ١٩٢٩ء، فرہنگِ عثمانیہ، ٢٥٣ )
مجھے اس پری کی جستجو ہے جو پاکیزہ حسن رکھتی ہے اور سر کش بھی ہے لیکن زہد (ریائی)کو پسند نہیں کرتی،،۔
افسوں سے مراد، افسونِ محبت ہے۔ مقصود یہ ہے کہ ۢمحبوب وہ ہے جس پر محبت کا جادو چلے نہ کہ زہد کا۔
ریختہ کی اردو لائبریری پر کتاب -
جلد دوم
: شرح غزلیات غالب (فارسی) پیکیجز لمیٹڈ لاہور صفحہ 240
مترجم و شارح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
شرح غزلیات غالب (فارسی) - | ریختہ

بامن میاویز اے پدر ، فرزند آذر را نگر
ہر کس کہ شد صاحب نظر ،دِینِ بزرگاں خوش نکرد
غالب
بڑوں اور چھوٹوں کے خیالات میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے
جسے آج کل کے معاشرے میں ،،جنریشن گیپ،، کہتےہیں
موحد ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بت پرست باپ آذر سے سخت اختلاف تھا۔
اُسی کا ذکر اس شعر میں ہے:
اے باپ مجھ سے جھگڑا نہ کر:آذر کے بیٹے کو دیکھ۔ جو کوئی بھی صاحب نظر ہو گیا
اُسے اپنے بزرگوں کے دین سے تسلی نہیں ہوتی۔
مرزا غالب کے یہ فارسی اشعار شریک کرنے کے لیے متشکّر ہوں، جنابِ ضیاءالقمر!
یہ دھاگا عموماً فارسی زبان و ادب سے متعلق گفتگو کرنے یا اِس موضوع سے متعلق کوئی معلومات شریک کرنے کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ اردو ترجمے کے ساتھ فارسی شاعری ارسال کرنے کے لیے خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ دھاگا موجود ہے۔ بہتر ہو گا اگر یہ اشعار اُسی میں ارسال کیے جائیں، تاکہ تمام ترجمہ شدہ اشعار ایک ہی دھاگے میں یکجا رہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
"دو سو برس سے مسلمانوں کے شاعرانہ مذاق کا جو انداز ہے، اور اس کی وجہ سے آج جس قسم کے اشعار زبانوں پر چڑھے ہوئے ہیں، یا دل و دماغ میں جاگزیں ہیں، اس نے یہ عام خیال پیدا کر دیا ہے کہ فارسی شاعری کے خزانہ میں زلف و خال و خط، جھوٹی خوشامد، مداحی، مبالغہ، اور فرضی خیال بندی کے سوا اور کچھ نہیں، فردوسی کا رزمیہ، مولٰنا روم کا تصوف، سعدی کی پند و موعظت استثنائی چیزیں ہیں، جس طرح کنکر پتھر کے ڈھیروں میں کہیں کہیں ایک آدھ چمکتے ہوئے جوہر بھی نظر آ جاتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ فارسی شاعری ترقی کی اس حد تک پہنچ چکی تھی، جس کی نظیر سے ایشیا کی تمام زبانیں خالی ہیں، عرب نے بے شبہہ شاعری کو معراجِ کمال تک پہنچایا تھا، لیکن شاعری کی ایک اعلیٰ صنف یعنی فلسفہ کا مطلق پتہ نہیں، بخلاف اس کے فارسی میں اس کثرت سے فلسفیانہ خیالات ادا کیے گئے ہیں، کہ اگر ان کو ترتیب سے یکجا کیا جائے تو فلسفہ کی ایک مستقل کتاب بن جائے۔"
(مولانا شبلی نعمانی، مقالاتِ شبلی: جلدِ ہفتم، فلسفہ اور فارسی شاعری: سحابی نجفی)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
کشتهٔ رشکم نیارم دید خود را نیز، هَی
یارِستن = توانستن، از عهده برآمدن، یارایی داشتن، طاقت داشتن، توانایی داشتن، قدرت داشتن، جرأت داشتن
(ترجمہ: کر سکنا، عہدہ بر آ ہو سکنا، یارا رکھنا، طاقت رکھنا، توانائی رکھنا، قدرت رکھنا، جرأت رکھنا)

'یارستن'، 'توانستن' کا ہم معنی مصدر ہے، لیکن جدید فارسی میں یہ مصدر زیادہ استعمال نہیں ہوتا اور متروک ہو چکا ہے۔
اردو میں جو 'یارا' استعمال ہوتا ہے، وہ اِسی مصدر سے مُشتَق ہے۔ مثلاً: "اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں" (سراج الدین ظفر)
غالب کے مصرعے میں 'نیارم دید' کا معنی ہے: میں دیکھ نہیں سکوں/سکتا، مجھے دیکھنے کا یارا یا تاب نہیں ہے وغیرہ۔
لازم بہ توضیح نہیں ہے کہ اِس مصدر کا بُنِ مضارع 'یار' ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"میں پہلی مرتبہ ۱۹۲۶ء میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوا اور براہِ راست ان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ میں اس زمانے میں، پنجاب یونی ورسٹی لائبریری میں قلمی کتابوں کی تفصیلی فہرست بنانے پر مامور تھا اور میرے کام کے نگران پروفیسر محمد شفیع، پروفیسر محمد اقبال اور حافظ محمود خاں شیرانی تھے۔ پروفیسر محمد شفیع نے مجھے حکم دیا کہ میں فخری بن امیری کا انتخابِ شعرائے فارسی لے کر حضرت علامہ کی خدمت میں حاضری دوں اور انہیں وہ کتاب دکھا آؤں۔ اس کتاب کا نام تحفۃ الحبیب ہے۔ اس میں مصنف نے فارسی شاعروں کی غزلیات کو اس طریق سے جمع کیا ہے کہ مختلف شعرا کی ہم طرح غزلیں یکجا ہو گئی ہیں۔
حضرت علامہ نے مجھ سے کتاب لی اور ورق گردانی شروع کر دی۔ ساتھ ساتھ پنسل سے اشعار پر نشان لگاتے گئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ یہ انتخابِ اشعار پروفیسر شفیع صاحب کی فرمائش پر کیا جا رہا ہے۔ شاید شفیع صاحب اس زمانے میں فارسی نصاب (۱) مرتب کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ اس انتخاب میں حضرتِ علامہ کے ذوق کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ اس انتخاب میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت اُنہوں نے صرف کیا ہو گا۔ جب فارغ ہوئے تو مجھ سے دریافت کیا۔ "بھائی! فارسی کے طالبِ علم ہو یا عربی کے؟" میں نے عرض کیا: "ایم اے فارسی میں کیا ہے مگر عربی مسجدوں میں پڑھی ہے۔"
فرمایا: "عربی والا جب فارسی میں آتا ہے تو فارسی اس کے لیے مشکل نہیں رہتی۔"
وہ فرماتے گئے، میں خاموشی سے سنتا رہا۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں ان کی باتوں کا کیا جواب دوں۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھ سے فرمایا: "یہ کاغذ لو، اور اس پر خواجہ حافظ اور جامی کی وہ غزلیات لکھ دو جن کے مطلع یہ ہیں۔" اس اثنا میں وہ گنگناتے رہے۔ جب میں لکھ چکا تو فرمایا: "تم فارسی کے فارغ التحصیل ہو، بتا سکتے ہو ان میں سے کون سی غزل اچھی ہے؟" میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا جواب دوں۔ بہر حال میں نے عرض کیا کہ حافظ کی غزل اچھی ہو گی۔
شاهِ شمشاد‌قدان، خسروِ شیرین‌دهنان
که به مژگان شکند قلبِ همه صف‌شکنان
(حافظ)
ای همه سیم‌بران، سنگِ تو بر سینه‌زنان
تلخ‌کام از لبِ مَی‌گونِ تو شیرین‌دهنان
(جامی)
فرمایا: "یہ حافظ کی جادوگری کا اثر ہے، ورنہ شیراز اور خراسان کا فرق تو واضح ہے۔ شیرازی میٹھی باتوں سے دلوں کو لبھا رہا ہے اور ہرات والا کوہستانی لہجے میں بات کہہ رہا ہے اور ہم لوگوں کو کوہستانی لہجے کی اب زیادہ ضرورت ہے۔"
اس کے بعد جامی کی غزل تحت اللفظ پڑھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی رگ رگ میں شعر اثر کر رہا ہے۔ اس کے بعد مجھے رخصت ہونے کی اجازت دی اور فرمایا کہ "پروفیسر شفیع سے کہنا مجھ سے ذرا مل لیں۔""

۱) یہ مجموعہ بعد ازاں سبدِ گل اور گلشنِ معانی کے نام سے شائع ہوا۔

(سید عبداللہ)
ماخذ: اقبال: مسائل و مباحث: علامہ اقبال کے فکر و فن پر ڈاکٹر سید عبداللہ کے مقالات
 

حسان خان

لائبریرین
به فضلِ خویش مسلمان زیان مرا یا رب
برادر اریب آغا نے 'زیان' کے بارے میں استفسار کیا ہے کہ یہ کون سا فعل ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ 'زیاندن/زیانیدن' کا بُنِ مضارع ہے، جو خود در اصل 'زیستن' کا مصدرِ متعدّی ہے اور جس کا مفہوم 'زندگی دینا، حیات دینا، زندہ کرنا، احیا کرنا، زندگی کرانا' ہے۔

فارسی میں مصادر تین طور کے ہوتے ہیں:
۱) لازم: وہ مصدر جسے مفعول درکار نہ ہو۔ مثلاً: رفتن۔
۲) متعدّی: وہ مصدر جسے مفعول درکار ہو۔ مثلاً: آوردن۔
۳) ذووَجهَین: وہ مصدر جو لازم بھی ہو اور متعدّی بھی۔ مثلاً: شکستن۔

کسی بھی مصدرِ لازم سے مصدرِ متعدّی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ مصدر کے بُنِ مضارع کے آخر میں 'اندن' اور 'انیدن' کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً:
'خوردن' (کھانا) سے 'خوراندن/خورانیدن' (کھلانا)۔
'خندیدن' (ہنسنا) سے 'خنداندن/خندانیدن' (ہنسانا)۔
'دویدن' (بھاگنا) سے 'دواندن/دوانیدن' (بھگانا)۔
'مُردن' (مرنا) سے 'میراندن/میرانیدن' (مارنا)۔

در بالا مثال میں لائے گئے چار متعدّی مصدروں کے بُن ہائے مضارع بالترتیب یہ ہیں: خوران، خندان، دوان، اور میران۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
برادر محمد شعیب نے یہ سوال پوچھا تھا:

تری کتابوں میں اے حکیمِ معاش رکها ہی کیا ہے آخر
خطوطِ خم دار کی نمائش، مریز و کج دار کی نمائش
(ضربِ کلیم از علامہ اقبال)
اس شعر میں *مریز و کج دار کی نمائش* کا کیا مطلب ہے؟ براہ کرم مطلع فرمائیں


جواب:
'کج دار و مریز' کا لفظی ترجمہ تو 'کج (ٹیڑھا) رکھو اور مت اُنڈیلو/بہاؤ' ہے، لیکن یہ عبارت کنایتاً شرائطِ موجودہ کی خاطر احتیاط سے عمل کرنے، یا مدارا و آسانی کے ساتھ سلوک کرنے اور سخت گیری نہ کرنے وغیرہ کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ آپ تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک آب سے پُر پیالہ ہے جو کج ہے، لہٰذا آپ کو ناچار محتاط رہنا پڑے گا تاکہ پیالے سے آب گرے نہیں۔ اب اِسی تصور کی توسیع کر لیجیے کہ گویا حالاتِ موجودہ ظرفِ کج کی مانند ہیں، اِس لیے اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کا کام خراب نہ ہو، تو آپ کو مجبوراً احتیاط کرنا اور نرمی دکھانی پڑے گی۔
یہ عبارت 'میانہ روی' اور 'دورُوئی و تظاہر' کے معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔


پس نوشت: پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے 'شرحِ ضربِ کلیم' میں اِس شعر کی یہ شرح تحریر کی ہے:
"اس کے علاوہ تمہاری کتابوں میں رکھا ہی کیا ہے؟ تم لوگ دولت کی پیداوار کے نقشے بنا بنا کر صفحات سیاہ کرتے ہو اور 'مریز و کج دار' کے اصول کی حمایت کرتے ہو، یعنی محنت کش طبقے کو امیدیں تو بڑی بڑی دلاتے ہو لیکن عملاً ان کی بہبود کے لیے کچھ نہیں کرتے، تمہاری یہ 'منصوبہ بندیاں' سب کاغذ کے پھول ہیں جن میں رنگ تو ہے لیکن خوشبو بالکل نہیں۔"
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"فارسی زبان سے غالب کا عشق و علاقہ محض سطحی و سرسری نہ تھا بلکہ وہ خود کو اس اسلامی تہذیب و تمدن کے بحرِ شیریں میں مستغرق پاتے تھے جس کی تجلی اس زبان میں ہوئی تھی۔"

میرزا غالب دہلوی کے کردار اور عہد پر ایک نظر
سید باقر ابطحی (از ایران)
مترجم: یونس جعفری
ماخذ: سہ ماہی اردو ادب، جنوری فروری مارچ ۱۹۹۹ء
 

حسان خان

لائبریرین
ز قحطِ سخن مانَدم خامه غالب
به نخلی کز آوردنِ بار مانَد
(غالب دهلوی)
شعرِ مذکور کے مصرعِ اول میں جو 'مانَد' ہے وہ مصدرِ 'مانِستن' کا مضارع ہے جس کا معنی مانند ہونا ہے، جبکہ مصرعِ ثانی میں استعمال ہونے والا 'مانَد' مصدرِ 'مانْدن' کا مضارع ہے جو عموماً ' کسی جگہ پر توقف کرنا، اقامت کرنا، رکنا، رُکے رہنا، باقی رہنا، رہ جانا، عقب رہ جانا، خستہ ہو جانا، جاودانہ ہونا' وغیرہ کے مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے۔ دونوں مصادر کا بُنِ مضارع ایک ہی یعنی 'مان' ہے۔
'از آوردنِ بار مانَد' یعنی ثمر لانے سے رہ جائے۔
اردو میں بھی استعمال ہونے والے 'مانَند' اور 'ماندہ' (مثلا: باقی ماندہ) بالترتیب 'مانِستن' اور 'مانْدن' سے مُشتَق الفاظ ہیں۔

موردِ ذکر شعر میں یہ در اصل 'مانَد خامه‌ام' ہے، لیکن ضرورتِ شعری کے تحت شخصِ متکلم کی ضمیرِ مِلکیِ متصل 'م' کو 'خامه' کی بجائے 'مانَد' سے متصل کیا گیا ہے۔ میں اِس بارے میں قبلاً ایک بار لکھ چکا ہوں۔
مانَدم خامه = مانَد خامه‌ام = میرا خامہ مانند ہے
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سابق پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان میں ایران کے ثقافتی مشیر شہاب الدین دارائی سے ملاقات کے دوران زبانِ فارسی کے بارے میں یہ فرمایا تھا:

"یوسف رضا گیلانی در این دیدار، به سابقه آشنایی خود به زبان فارسی اشاره کرد و افزود: در کلاس‌های ابتدایی در مدرسه فارسی را آموختم. در گذشته آموزش زبان فارسی در مدارس رسمی پاکستان رایج بود که با گذشت زمان کم رنگ شده و امیدوارم زبان فارسی در کشورم دوباره احیا شود."

ترجمہ: "یوسف رضا گیلانی نے اِس ملاقات میں فارسی زبان سے اپنی آشنائی کی دیرینگی کی جانب اشارہ کیا اور اضافہ کیا: میں نے مکتب کی ابتدائی جماعتوں میں فارسی کو سیکھا تھا۔ ماضی میں فارسی زبان کی تدریس پاکستان کے سرکاری مکاتب میں رائج تھی جو مرورِ زمانہ کے ساتھ کم رنگ ہو گئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے ملک میں زبانِ فارسی دوبارہ احیاء ہو جائے۔"

ماخذ
تاریخ: ۲۰ خُرداد ۱۳۹۵هش/۹ جون ۲۰۱۶ء
 

حسان خان

لائبریرین
"فراموش شدن زبان فارسی در پاکستان، تهدیدی برای زبان اردو است. فارسی هرچه بیشتر در پاکستان فراموش شود، به دنبال آن جایگاه زبان اردو تضیعف خواهد شد و زبان اردو بیش از پیش مورد هجوم واژه‌های بیگانه قرار خواهد گرفت.
در سالیان گذشته زبان فارسی وضعیت بهتری در پاکستان داشت. من هنوز هم هر جا که می‌روم و به هر محفلی که دعوت می‌شوم، اهمیت زبان فارسی در پاکستان را گوشزد می‌کنم ."


ترجمہ: "پاکستان میں فارسی زبان کا فراموش ہونا اردو زبان کے لیے ایک خطرہ ہے۔ فارسی پاکستان میں جس قدر فراموش ہو گی، اُس کے عقب میں اردو زبان کا مقام بھی اُسی قدر کمزور ہو جائے گا اور اردو زبان پہلے سے زیادہ بیگانہ الفاظ کے حملے کی مورد بن جائے گی۔
گذشتہ سالوں میں پاکستان میں فارسی زبان کی وضعیت بہتر تھی۔ میں ہنوز جس جگہ بھی جاتا ہوں اور جس محفل میں بھی بلایا جاتا ہوں، پاکستان میں زبانِ فارسی کی اہمیت کو یاد دلاتا ہوں۔"


(انور مسعود؛ پنجابی، اردو اور فارسی کے شاعر و ادیب)

ماخذ
تاریخ: ۳ خُرداد ۱۳۹۵هش/۲۳ مئی ۲۰۱۶ء
 

حسان خان

لائبریرین
"شمعِ اردو از چراغِ فارسی روشن شده"

"اگرچه ۶۰ درصد واژگان زبان اردو از فارسی گرفته شده و 'شمع اردو از چراغ فارسی روشن شده' (این مصراعی از یکی اشعار او است) اما متاسفانه زبان فارسی امروز در پاکستان مثل گذشته جایگاه خوبی ندارد و مهجور مانده است.
با وجود اینکه سرود ملی پاکستان تمام و کمال به زبان فارسی سروده شده است و بزرگان ما، شعرا و ادیبان پاکستانی همه به زبان فارسی مسلط بودند اما متاسفانه امروز جای خالی آموزش زبان فارسی به عنوان 'مادر زبان اردو' در مدارس پاکستان کاملاً حس می‌شود."


ترجمہ: "اگرچہ اردو زبان کے ۶۰ ‌فیصد الفاظ فارسی سے لیے گئے ہیں اور 'شمعِ اردو چراغِ فارسی سے روشن ہوئی ہے' (یہ اُن کی ایک نظم کا مصرع ہے) لیکن متأسفانہ زبانِ فارسی امروز پاکستان میں ماضی کی طرح کی خوب حیثیت نہیں رکھتی اور از کار افتادہ رہ گئی ہے۔
با وجود اِس کے کہ پاکستان کا قومی ترانہ تمام کا تمام فارسی میں لکھا گیا ہے اور ہمارے بزرگاں، پاکستانی شعراء و ادباء سب کے سب زبانِ فارسی پر تسلط رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے امروز پاکستانی مکاتب میں 'مادرِ زبانِ اردو' کے عنوان سے فارسی زبان کی تدریس کی کمی پوری طرح محسوس ہوتی ہے۔"


(انور مسعود؛ پنجابی، اردو اور فارسی کے شاعر و ادیب)

ماخذ
تاریخ: ۳ خُرداد ۱۳۹۵هش/۲۳ مئی ۲۰۱۶ء
 

راشد

محفلین
کوئی بتائے گا کہ
حسنِ یوسف دم عیسی یدِ بیضا داری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر میں دمِ عیسی سے کیا مراد ہے یا اس کا کیا معنیٰ ہے؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
کوئی بتائے گا کہ
حسنِ یوسف دم عیسی یدِ بیضا داری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر میں دمِ عیسی سے کیا مراد ہے یا اس کا کیا معنیٰ ہے؟
دم کا ایک مطلب سانس ہے ۔یہاں اشارہ یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام پھونک مار کر مردہ زندہ کرنے کا معجزہ رکھتے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
نُبی
یہ چیز ابھی علم میں آئی ہے کہ 'قرآنِ مجید' یا 'مصحفِ قرآن' کے لیے فارسی میں 'نُبی' لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔

بسیار کس بُوَد که بخواند ز بر نُبی

تفسیرِ او نداند جز مردمِ خبیر

(منوچهری دامغانی)
ترجمہ: حافظے سے قرآن کی تلاوت کرنے والے اشخاص تو بسیار ہیں، لیکن اُس کی تفسیر صرف مردُمِ خبیر جانتے ہیں۔

اِس لفظ کی اصل کے بارے میں سید صادق گوہرین اپنی کتاب 'فرہنگِ لغات و تعبیراتِ مثنوی: جلدِ نہم' میں لکھتے ہیں کہ یہ عربی کے لفظ 'نباء' سے ماخود ہے، جس کا معنی 'خبر و آگاہی' ہے۔ لیکن فارسی ویکی پیدیا کے مطابق، پہلوی زبان میں 'نِبیگ' کتاب کو کہتے تھے، اور فارسی کا یہ لفظ 'نُبی' اُسی پہلوی لفظ کی تحوّل یافتہ شکل ہے۔

اِس لفظ کی دیگر شکلیں 'نُوی' اور 'نُپی' ہیں۔ نیز، فارسی فرہنگوں میں یہ الفاظ نون پر کسرہ کے ساتھ بھی ثبت ہیں، امّا نون پر ضمہ والی شکل ہی معروف تر ہے۔

یہ نادر لفظ متروک ہو چکا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف فارسی گو شاعر مسعود سعد سلمان لاہوری غزنوی دور میں ۴۳۸ھ سے ۴۴۰ھ کے درمیان لاہور میں متولد ہوئے تھے۔ یعنی اِس سال اُن کے تولد کو احتمالاً ایک ہزار سال ہو جائیں گے۔
تذکروں میں اور فارسی ادب کی تاریخوں میں لاہور کے اولین فارسی گو شاعر کے طور پر 'ابوالفرَج رُونی' کا نام ملتا ہے، جو مسعود سعد سلمان لاہوری ہی کے ہم عصر تھے۔ ابوالفرَج رُونی کا بھی تقریباً ۲۰۰۰ ابیات پر مشتمل دیوان زمانے کی دست بُرد سے محفوظ رہا ہے۔

لاہور کا زبان و ادبیاتِ فارسی سے تاریخی تعلق ہزار سال قدیم ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
امروز یہ چیز علم میں آئی ہے کہ فارسی میں اولین مادۂ تاریخ مسعود سعد سلمان لاہوری نے لکھا تھا۔ ۴۶۹ھ میں جب سلطان ابراہیم غزنوی نے سیف الدولہ محمود کو ہند میں غزنوی متصرَّفات کی حکومت پر مأمور کیا تھا تو مسعود سعد نے اِس عمل اور سیف الدولہ محمود کی ستائش میں قصیدہ لکھا تھا جس میں وہ ایک جا پر لکھتے ہیں:
به سال پنجه ازین پیش گفت بوریحان
در آن کتاب که کرده‌ست نام او تفهیم
که پادشاهی صاحب‌قِران شود به جهان
چو سال هجرت بگذشت تی و سین و سه جیم

یعنی موجودہ زمانے سے پچاس سال قبل ابوریحان بیرونی نے اُس کتاب میں جس کا نام اُس نے 'تفہیم' رکھا ہے یہ کہا تھا کہ دنیا میں ایک صاحب قِراں (یعنی نیک بخت) پادشاہ آئے گا جب سالِ ہجرت کو 'ت، س اور تین ج' گذر جائیں گے۔
ت + س + ج + ج + ج کے اعداد (۴۰۰ + ۶۰ + ۳ + ۳ +۳) کو جمع کیا جائے تو ۴۶۹ بنتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
علی گنجلی نے اپنے مقالے 'کتاب‌هایِ آموزشِ فارسی در عثمانی' میں ایسی ۹۵ کتب کی فہرست پیش کی ہے جو فارسی زبان کی تدریس کی نیت سے عثمانی سلطنت میں عثمانی ترکی زبان میں لکھی گئی تھیں، اور جو خود اُن کی نظروں سے گذری تھیں۔ صرف اِسی ایک چیز سے عثمانی سلطنت میں زبانِ فارسی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مذکورہ مقالے کو اِس کتاب میں خوانا (پڑھا) جا سکتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
زادن

'زادن' بھی فارسی کے اُن مصادر میں شامل ہے جو لازم اور متعدّی دونوں معنوں میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی اِس مصدر کا معنی 'متولّد ہونا' بھی ہے، اور 'متولّد کرنا' بھی۔ دونوں کی مثالیں دیکھیے:

زادن بہ معنیِ متولّد کرنا:
"هیچ مادر چو او کریم نزاد"
(فرخی سیستانی)

کسی مادر نے اُس جیسا سخی نہیں جنا۔

زادن بہ معنیِ متولّد ہونا:
"کسی پاک چون تو ز مادر نزاد"
(فردوسی طوسی)

کوئی تم جیسا پاک شخص مادر سے متولّد نہ ہوا۔


معاصر فارسی میں 'زادن' کی بجائے زیادہ تر 'زاییدن' استعمال ہوتا ہے، اور یہ مصدر معاصر زبان میں عموماً 'متولّد کرنا' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 'زادن' اور 'زاییدن' دونوں کا بُن مضارع 'زا' ہے۔
 
آخری تدوین:
Top