حسان خان

لائبریرین
زین آتشِ نهفته که در سینهٔ من است
خورشید شعله‌ای‌ست که در آسمان گرفت
(حافظ شیرازی)

خورشید [در حقیقت] میرے سینے کے اندر کی اِس آتشِ پنہاں سے [نکلا] ایک شعلہ ہے، جو آسمان میں [جا کر] جلنے لگا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ادبیاتِ فارسی کے طالبِ علموں کو یہ چیز معلوم ہونی چاہیے کہ کلاسیکی فارسی میں لفظِ 'مذہب' عموماً فقہی مذاہب یا اسلامی فرقوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
یہ چیز تو خیر ادبیات فارسی کے علاوہ عام مذہبی تاریخ کے طالب علموں کو بھی معلوم ہونی چاہیئے اور میرے خیال میں ہوتی بھی ہے!
 

حسان خان

لائبریرین
یہ چیز تو خیر ادبیات فارسی کے علاوہ عام مذہبی تاریخ کے طالب علموں کو بھی معلوم ہونی چاہیئے اور میرے خیال میں ہوتی بھی ہے!
افغانستان کے ادبیات شناس و بیدل شناس محمد کاظم کاظمی نے بیدل کی شاعری کی تفہیم میں مدد کے لیے 'کلیدِ درِ باز' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اُس میں اُنہوں نے بتایا ہے کہ بیدل نے ایک بیت میں فقہی مذاہب کو طنزاًَ یاد کیا ہے، کیونکہ اکثر اہلِ تصوف اہلِ مدرَسہ اور خشک فقیہوں کو زیادہ خوب نظر سے نہیں دیکھتے تھے اور فقہی اختلافات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔ لیکن چونکہ اُنہوں نے لفظِ 'مذہب' استعمال کیا تھا، اور چونکہ 'مذہب' معاصر فارسی میں معمولاً 'دین' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اِس لیے بالشویکوں نے اُس بیت کو بنیاد بناتے ہوئے بیدل جیسے از سر تا پا متصوّف شاعر کو دین مخالف قرار دے دیا تھا۔

شُورَوی دور کی بیشتر ادبی تنقید اِسی طرح کے بے اساس عجوبوں پر مشتمل ہے۔ ہر کتاب میں مصنف کا تمام زور اِسی بات پر ہوتا تھا کہ فلاں شاعر اپنی زندگی میں کُلّاً دین مخالف اور مطلق اشتراکی ہوا کرتا تھا۔ حالانکہ بالشیوک اشتراکیت کجا اور فارسی شعراء کا طرزِ فکر کجا! دونوں میں بُعدِ مشرقین سے بھی افزوں تر دُوری ہے۔ علمی لحاظ سے سب سے پست ترین اور مُغرِضانہ ترین فارسی ادبیات شناسی سابقہ شُورَوی ریاستوں ہی میں نظر آئی ہے، جسے علمی حلقوں میں اب اہمیت نہیں دی جاتی۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
گفتم به طبیب: "دارُویی فرمایی؟"
نبضم بِگرفت از سرِ دانایی
گفتا که "چه درد می‌کند؟ بِنْمایی؟"
بُردم دستش سُویِ دلِ سودایی

(مولانا جلال‌الدین رومی)
میں نے طبیب سے کہا: "کیا تم کوئی علاج فرماؤ گے؟" اُس نے از رُوئے دانائی میری نبض پکڑ لی۔ اُس نے کہا کہ "کیا چیز درد کر رہی ہے؟ دِکھاؤ گے؟" میں اُس کا دست [اپنے] دلِ دیوانہ کی جانب لے گیا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سجدهٔ شکرش به دامانِ قیامت می‌کَشَد
هر که را صائب شود آن طاقِ ابرو قبله‌گاه
(صائب تبریزی)
اے صائب! وہ طاقِ ابرو جس شخص کی بھی قبلہ گاہ بن جائے، اُس [شخص] کا سجدۂ شکر دامنِ قیامت تک طُول کھینچ جائے گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
زینهار از کُنجِ عُزلت پایِ خود بیرون منِه
کز بها اُفتاد یوسف تا بُرون آمد ز چاه
(صائب تبریزی)

خبردار! گوشۂ تنہائی سے اپنے پا کو بیرون مت نکالنا؛ کیونکہ یوسف جیسے ہی چاہ سے بیرون آیا، اُس کی قیمت گر گئی۔
× چاہ = کنواں
 

حسان خان

لائبریرین
منوچهری دامغانی اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو مخاطَب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
من بِدانم علمِ طبّ و علمِ دین و علمِ نحو
تو ندانی دال و ذال و راء و زاء و سین و شین
(منوچهری دامغانی)

میں علمِ طبّ، علمِ دین اور علمِ نحو جانتا ہوں؛ [جبکہ] تم تو دال و ذال و را و زا و سین و شین [بھی] نہیں جانتے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
منوچهری دامغانی اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو مخاطَب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
من بِدانم علمِ طبّ و علمِ دین و علمِ نحو

تو ندانی دال و ذال و راء و زاء و سین و شین
(منوچهری دامغانی)
میں علمِ طبّ، علمِ دین اور علمِ نحو جانتا ہوں؛ [جبکہ] تم تو دال و ذال و را و زا و سین و شین [بھی] نہیں جانتے۔
مجھے بھی کچھ یاد آ گیا یہ پڑھ کر :)
 

لاریب مرزا

محفلین
(رباعی)
گفتم به طبیب: "دارُویی فرمایی؟"
نبضم بِگرفت از سرِ دانایی
گفتا که "چه درد می‌کند؟ بِنْمایی؟"
بُردم دستش سُویِ دلِ سودایی

(مولانا جلال‌الدین رومی)
میں نے طبیب سے کہا: "کیا تم کوئی علاج فرماؤ گے؟" اُس نے از رُوئے دانائی میری نبض پکڑ لی۔ اُس نے کہا کہ "کیا چیز درد کر رہی ہے؟ دِکھاؤ گے؟" میں اُس کا دست [اپنے] دلِ دیوانہ کی جانب لے گیا۔
بردم دستش سوی دل سودایی

واہ!! بہت خوب!!
 
منوچهری دامغانی اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو مخاطَب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
من بِدانم علمِ طبّ و علمِ دین و علمِ نحو

تو ندانی دال و ذال و راء و زاء و سین و شین
(منوچهری دامغانی)
میں علمِ طبّ، علمِ دین اور علمِ نحو جانتا ہوں؛ [جبکہ] تم تو دال و ذال و را و زا و سین و شین [بھی] نہیں جانتے۔
خوبصورت شعر ۔ الفاظ کے معمولی رد و بدل کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ ممکن ہے

میں تو جانوں علمِ طبّ و علمِ نحو و علمِ دین
تُم نہ جانو دال ذال و راء و زاء و سین و شین​
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
انگشت نمائے خلق بُودن
زِشت است و لیک با تو زیباست


شیخ سعدی شیرازی

لوگوں کی اُنگلیوں کا نشانہ ہونا (یعنی جس کی طرف اُنگلیاں اُٹھ رہی ہوں) بہت بُری اور بدنما چیز ہے لیکن اگر تُو ساتھ ہو تو پھر یہ بہت خوبصورت بات ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دورِ جاہلیت کے شاعر عَمرو بن کلثوم کے مُعلّقہ کا مطلع:
أَلاَ هُبِّي بِصَحْنِكِ فَاصْبَحِيْنَا

وَلاَ تُبْقِي خُمُوْرَ الأَنْدَرِيْنَا
(عَمرو بن کلثوم)
الا [اے ساقی!] بیدار ہو جاؤ اور اپنے قدحِ بزرگ سے شرابِ صبحگاہی پلاؤ، اور اَندَرِین (شام کا ایک قریہ) کی شرابوں کو بچائے مت رکھو۔
منوچهری دامغانی اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو مخاطَب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
من بسی دیوانِ شعرِ تازیان دارم ز بر

تو ندانی خوانْد "اَلا هُبِّی بِصَحْنِکِ فَاصْبَحِین"
(منوچهری دامغانی)
مجھے عربوں کے کئی دیوانِ شعر حِفظ ہیں، [جبکہ] تم تو "اَلا هُبِّی بِصَحْنِکِ فَاصْبَحِین" کو بھی خواننا نہیں جانتے۔
× خوانْنا = پڑھنا

× شاعر نے اِس بیت میں عَمرو بن کلثوم کے مُعلّقہ کی جانب اشارہ کیا ہے، جس کا مطلع یہ ہے:
أَلاَ هُبِّي بِصَحْنِكِ فَاصْبَحِيْنَا

وَلاَ تُبْقِي خُمُوْرَ الأَنْدَرِيْنَا
(عَمرو بن کلثوم)
الا [اے ساقی!] بیدار ہو جاؤ اور اپنے قدحِ بزرگ سے شرابِ صبحگاہی پلاؤ، اور اَندَرِین (شام کا ایک قریہ) کی شرابوں کو بچائے مت رکھو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"که سعدی راه و رسمِ عشق‌بازی
چنان داند که در بغداد تازی"
(سعدی شیرازی)

سعدی راہ و رسمِ عشق بازی کو اِس طرح (یعنی اِس خوبی سے) جانتا ہے کہ جس طرح بغداد میں زبانِ عربی [جانی جاتی ہے]۔

گلستانِ سعدی کی اِس بیت کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ: "سعدی راہ و رسمِ عشق بازی کو اِس طرح (یعنی اِس خوبی سے) جانتا ہے کہ جس طرح وہ بغداد میں زبانِ عربی [بخوبی بولنا جانتا ہے]۔"
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یکی‌ست تُرکی و تازی در این مُعامَله حافظ
حدیثِ عشق بیان کن بدان زبان که تو دانی
(حافظ شیرازی)
اے حافظ! اِس مُعاملۂ [عشق] میں تُرکی و عربی ایک [ہی] ہیں؛ تم جو [بھی] زبان جانتے ہو اُس میں (یا اُس کے ذریعے) حدیثِ عشق بیان کرو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
هر آن که کُنجِ قناعت به گنجِ دنیا داد
فروخت یوسفِ مصری به کم‌ترین ثَمَنی
(حافظ شیرازی)
جس بھی شخص نے گوشۂ قناعت کو خزانۂ دنیا کے عوض میں دے دیا، اُس نے [گویا] یوسفِ مصری کو کسی کمترین قیمت کے عوض فروخت کر دیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
گر به صد قرن بِجویند، نیابند، کمال
بلبلی چون تو خوش‌اِلحان به چمن‌هایِ خُجند
(کمال خُجندی)

اے کمال! اگر [مردُم] سو صدیوں تک تلاش کریں [تو بھی] اُنہیں خُجند کے چمنوں میں تم جیسا کوئی خوش اِلحان بلبل نہیں مل پائے گا۔
 

حسان خان

لائبریرین
گر کسی پُرسد ز تو کز شهرها خوش‌تر کدام
گر جوابِ راست خواهی داد، او را گو: "هری"
این جهان چون بحر دان، در وَی خُراسان چون صدف
در میانِ آن صدف، شهرِ هری چون گوهری
(نامعلوم)

اگر کوئی تم سے پوچھے کہ شہروں میں سے خوب ترین شہر کون سا ہے تو اگر تم جوابِ راست و درست دینا چاہو تو اُس سے کہنا: "ہِرات"۔ اِس جہان کو بحر کی مانند جانو، اور اُس میں خُراسان صدف کی مانند ہے، جبکہ اُس صدف کے درمیان شہرِ ہِرات کسی گوہر کی مانند ہے۔
× شہرِ ہِرات افغانستان میں واقع ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"حاسدم گوید که ما پِیریم و تو برناتری
نیست با پِیران به دانش مردُمِ برنا قرین
گر به پِیری دانشِ بدگوهران افزون شدی
روسیه‌تر نیستی هر روز ابلیسِ لعین"
(منوچهری دامغانی)
حاسد مجھ سے کہتا ہے کہ "ہم پِیر ہیں اور تم جواں تر ہو۔ علم و دانش کے لحاظ سے شخصِ جواں پِیروں کے برابر نہیں ہوتا۔" [لیکن] اگر بدفطرت اشخاص کی دانش میں پِیری کے ساتھ اضافہ ہوا کرتا تو ابلیسِ لعین ہر روز مزید بدکار و بدبخت نہیں ہو جایا کرتا۔
× پِیر = بوڑھا؛ × پِیری = بُڑھاپا
 

حسان خان

لائبریرین
منوچهری دامغانی اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو مخاطَب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
من به فضل از تو فُزونم، تو به مال از من فُزون
بهتر است از مال فضل و بهتر از دنیاست دین
(منوچهری دامغانی)

میں علم و دانش میں تم سے برتر ہوں، [جبکہ] تم مال میں مجھ سے برتر ہو۔۔۔ علم و دانش، مال سے بہتر اور دین، دنیا سے بہتر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
طاووس ز نقشِ پرِ خود دام به دوش است
بیدل چه عجب گر ز هنر در قفس اُفتم
(بیدل دهلوی)

طاؤس اپنے پروں کے نقش کی وجہ سے جال میں گرفتار ہوتا ہے۔
بیدل کیا عجب ہے اگر میں اپنے ہنر کی وجہ سے قفس میں جا پڑوں۔
(مترجم: عین بیخود)
 
Top